حیات دُکھ ہے، ممات دُکھ ہے


میں یاسر جواد کو نہیں جانتا۔ اچھی بات شاید یہ ہے کہ وہ بھی مجھے نہیں جانتے۔ میرا ان سے تعارف ان کی آپ بیتی ”کتاب کہانی“ کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے ایک مشکل زندگی گزاری اور اس سفر کے دوران بھانت بھانت کے لوگوں سے واسطہ پڑا۔ کتاب پڑھنے کے بعد میں تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پاکستان میں بقول مختار مسعود قحط الرجال پڑ چکا ہے۔ ٹھیک آدمی تو نُسخے میں ڈالنے کو بھی نہیں ملتا۔ زندگی کو دیکھنے اور پرکھنے کے بہت سے ڈھنگ ہیں۔

تنقید ان میں سے ایک ہے۔ انسان خطا کا پتلا ہے۔ دامن نچوڑنے پر کیا کچھ نکلے، کیا خبر۔ خود ساختہ (self made) آدمیوں کے مزاج میں کچھ تلخی بھر آنا کوئی نئی بات نہیں۔ مشترکہ مکانات میں رہنے والے خاندانوں میں تنازعات زبان زد عام ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ”کتاب کہانی“ میں اس تلخی کا نزلہ پنجابی پیاروں اور سابقہ سُرخوں پر پڑا ہے۔ ان میں سے کچھ احباب اور خواتین کو میں بذات خود جانتا ہوں یا مل چکا ہوں لہٰذا کتاب پڑھتے ہوئی کئی جگہ چونک گیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ میں فرقہ غفوریہ سے تعلق نہیں رکھتا جہاں ”ہر خبر، مثبت خبر“ اور سب اچھا کی صبح شام گردان کی جاتی ہے۔

یاسر جواد کے والد پاک فضائیہ کا حصہ تھے اور فارغ اوقات میں کافی فنکارانہ کاموں میں مشغول رہتے۔ ان کے دادا بھی پڑھنے لکھنے کے شوقین تھے۔ مخصوص پنجابی ”شریکے“ کی طرح ان کے تایا جان، ”کیدو“ کی طرح ان کی ابتدائی زندگی پر حاوی رہے۔ ان کا خاندان لوئر مڈل کلاس کا حصہ تھا اور انہوں نے عمر کا زیادہ حصہ کرائے کے مکانوں میں گزارا۔ والد کی طبیعت خراب رہنے کے باعث والدہ کو مسلسل ٹیوشن پڑھا کر گھر چلانا پڑا۔ مختلف مواقع پر زن، زر اور زمین کے باعث تایا اور دیگر رشتہ داروں سے ناسازگی رہی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد پہلے کچھ اکاؤنٹس وغیرہ کا کام کیا، کچھ وقت کوچۂ صحافت میں گزارا، لیکن زیادہ کام مترجم کی حیثیت سے کیا۔

زیادہ تر قیام لاہور میں رہا، جہاں مصنف کو اسی کی دہائی کے آخر اور نوے کی دہائی کے دوران بائیں بازو کے سٹڈی سرکلز میں شمولیت کا موقعہ ملا۔ انہی گروہوں کے ساتھ انہوں نے کچھ مظاہروں اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا۔ کچھ دیر ان کی ڈیوٹی ہم خیال افراد سے چندہ اکٹھا کرنے پر لگائی گئی، جس دوران انہوں نے بہت سے بظاہر معتبر افراد کی ”دریا دلی“ دیکھی۔ انہی ادوار میں پنجابی پیاروں سے بھی متعارف ہوئے اور کچھ ترجمے کا کام پنجابی میں بھی کیا۔ سویت یونین ٹوٹنے کے بعد بائیں بازو کے حلقوں میں انتشار کے راوی رہے۔ نوے کی دہائی میں پاک ٹی ہاؤس میں باقاعدگی سے جمع ہونے والے ادباء کی نسل ابھی تتر بتر نہیں ہوئی تھی، اور مصنف نے اس ٹولی کے بہت سے شرکا کا ذکر کیا ہے۔ کچھ سال راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی گزارے۔

سُرخوں (حالیہ اور سابقہ) سے لاکھ اختلاف کیے جا سکتے ہیں (اور میں نے کئی دفعہ اسی ویب سائٹ پر کیا ہے ) لیکن ان میں ہر کسی پر نُکتہ چینی کرنا شاید وقت کا ضیاع ہے۔ کامریڈوں میں رازداری اور پیٹھ پیچھے چھرے گھونپنے والی خصلتوں کی داستانیں نئی نہیں، البتہ یہ دلچسپ بات تھی کہ ”مہا گرو“ اور قریبی چیلے ہر بڑے موقعے پر غائب ہو جاتے تھے۔ اسی طرح پنجابی پیارے بھی دودھ میں دُھلے ہوئے نہیں اور مصنف گویا اپنے ہی لشکر پر چڑھ دوڑے۔ بہت سے مواقع پر ”ہتھ ہولا“ رکھا جا سکتا تھا۔ کچھ تعصب غالباً اس میں شعرا، ادبا اور مترجمین کے باب میں بھی ہے، کہ ہر شاعر دوسرے درجے کا، ہر کہانی کار تیسرے درجے کا، لیکن مترجمین پر بہت کم تنقید (بابائے اُردو پر ہے، جو شاید بنتی بھی ہو) ۔

کتاب میں تلخی کے باوجود سیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ اس کے علاوہ مصنف نے کئی مناظر جس تفصیل سے بیان کیے ، وہ قابل رشک ہے۔ گوالمنڈی چیمبر لین روڈ کا نقشہ یوں کھینچا:

”دروازے سے پہلے چنے بھُوننے کی دکانیں تھیں۔ پھر پٹاخوں، پھُلجڑیوں، پتنگوں اور ڈوروں کی۔ دروازے سے اندر داخل ہونے پر جیسے آپ ایک سرنگ میں داخل ہو جاتے تھے۔ اور اس سرنگ کے دونوں طرف دکانوں کا ایک بل کھاتا ہوا لا محدود سلسلہ شروع ہوتا تھا۔ بسکٹ، ٹافیاں، ڈرائی فروٹ، اچار، ناریل، مصالحے، چھوٹے چھوٹے کھلونے، نان چنے، کباب، برفی، منیاری، اور جانے کس کس چیز کی دکانیں۔“

چونکہ یہ آپ بیتی کے ساتھ ساتھ جگ بیتی بھی ہے، تو کئی جگہ مصنف نے اپنی زندگی کے حالات سے جو نتائج تراشے، وہ اسی رو میں لکھ بھی دیے۔ دو چیدہ نسخے ملاحظہ کریں (پسند آئیں تو بقیہ کتاب خرید کر خود تلاش کریں ) :

”آج سوچتا ہوں کہ انقلاب کی آرزو انقلاب کے امکان سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ دنیا تو ہزاروں سال سے ایسی ہے اور شاید ایسی ہی رہے گی، لیکن پراپرٹی ڈیلر، کاروں کے امپورٹر، پلازوں کے مالکان یا ٹرانسپورٹر لوگ نہیں بلکہ سی آر اسلم جیسے لوگ اس کی نبض ہوتے ہیں۔ انہیں پتا تھا کہ انقلاب نہیں آنا، حتٰی کہ کوئی تحریک بھی نہیں چلنی۔ تو کیا اپنی ساری زندگی کی لگن کو اُتار پھینکتے اور بالکل برعکس چل پڑتے، جیسا کہ بعد میں کئی سوشلسٹوں نے کیا؟“

”آخری“ اور ”حتمی“ اور ”مطلق“ ہم آسانی اور یکسوئی کے لئے قرار دیتے ہیں۔ ہم انسانوں نے اساطیر میں دیوتاؤں دیویوں سے وہ محبتیں کروائیں، کیا تصور کیا جا سکتا ہے کہ دو چار ہزار سال پہلے لوگ بھی اسی طرح محبت کیا کرتے تھے؟ ہماری مڈل کلاس والی محبت بالائی یا نچلے طبقے والی نہیں، شاعری پڑھنے اور فلمیں دیکھنے والی نسل کی محبتیں ایک نہیں۔ حتیٰ کہ مختلف علاقوں اور خطوں کی محبتیں مختلف ہیں۔ ”

چونکہ کتاب ترتیب وار (chronological) نہیں، بلکہ بقول مصنف دیوار یا کینوس پر رنگ کرنے کی طرح لکھی گئی ہے، نتیجتاً کئی جگہ ایک ہی واقعہ یا ایک ہی شخص کے متعلق تکرار ہے، جو کم از کم مجھے تو پسند نہیں آیا۔ ربط کی کمی کے باعث ”کتاب کہانی“ سے کہانی حذف ہو گئی۔

یاسر نے کتاب میں ناشرین کی کنجوسی کا کئی دفعہ ذکر کیا، جس کی میں ذاتی تجربے کی بنیاد پر سو فیصد تصدیق کرتا ہوں۔ پاکستانی معاشرے میں لکھنے لکھانے سے پیسہ کمانا حلال طریقے سے بہت مشکل ہے۔ یا آپ عمیرہ احمد وغیرہ کی طرح عوام کی base instincts کو ابھارنے کا کام کریں، مذہب اور صوفی ازم کا چورن بیچیں، اوریا کی طرح شمشیر بے نیام بن جائیں یا آپ شاہد حمید اور یاسر جواد کی طرح دربدر ہوتے رہیں۔

اپنی صحافتی زندگی میں سے ضیا شاہد اور عباس اطہر کی زرد صحافت کا ذکر کیا ہے، لیکن ایک مخصوص نام پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی، شاید ”ادارے“ کے دباؤ کے تحت۔

ڈاکٹر اشتیاق اور ”نام نہاد شاعر“ پر ٹھرکی پنے کی وجہ سے چاند ماری تو کی، لیکن اپنی باری آئی تو بات گول کر دی۔ آپ کو یہ کیسے پتہ چلا کہ اوریا سے اپنے تبادلے کے کام سے آئی وہ خوبرو خاتون آپ کو پنجاب پبلک لائبریری بلا رہی ہے، آپ نے خود ہی یہ قیاس کیا اور شادی شدہ ہونے کے باوجود وہاں پہنچ گئے؟ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ اگر عاصم بٹ اور اشرف سلیم مخصوص خواتین کا فائدہ اٹھا رہے تھے تو کیا آپ کو یہ بات بُری لگی؟ اگر لگی تو پھر ان سے دوستیاں برقرار کیوں رکھیں؟ دہلی کے قحبہ خانے کیا لینے گئے تھے؟ انسان اپنے ہم جولیوں سے پہچانا جاتا ہے۔ جب دوسروں پر انگلی اٹھائیں تو یاد رکھیں کہ آپ کی تین انگلیاں اپنی جانب ہوتی ہیں۔

کتاب میں سب سے معیوب بات مجھے غیر ضروری صنفی اضافتوں (adjectives) کا بھرمار لگی۔ مثلاً کشور ناہید سے آپ لاکھ اختلاف کریں، لیکن کتاب میں ان کا پہلا تذکرہ ”عجیب سی شاعرہ کشور ناہید“ کیوں ہے؟ کیا یہ خطاب دینے سے پہلے کوئی سیاق و سباق بھی ہے یا محض لفاظی کا تڑکا لگایا گیا ہے؟ بُشری رحمان کا تعارف ”مغرور اور غیر دوستانہ بُشری رحمان“ لکھ کر کروایا گیا ہے۔ ”ٹاؤن شپ میں رہنے والا سکول ٹیچر اقبال قیصر“ ، ”غیر استقبالی شخص“ اور ”سب سے زیادہ مضحکہ خیز شہباز ملک“ بھی اس کہانی کا حصہ ہیں۔

”زیادہ تر اسلام آباد جلیل عالیوں، حمید شاہدوں، عامیانہ شاعروں ادیبوں سے بھرا پڑا ہے“ جیسے جملے بھی یہیں موجود ہیں۔ ایک موقعہ پر یوں لگا کہ مصنف نے کرید کرید کر اپنی جان پہچان اور حلقۂ احباب کے ہر شخص کو تقریباً زبردستی کتاب میں شامل کر لیا ہے۔ ایسے کہ گویا یاسر جواد اندرون لاہور کی ادبی برادری کا Forrest Gump ہو۔ آپ بیتی اور انسائکلوپیڈیا میں کُچھ تو فرق ہونا چاہیے۔

کتاب کہانی میں جتنے نام ہیں، اتنے ہی جوابوں کے تلاش کردہ سوالات۔ مثلاً مرزا اطہر بیگ کے ”غلام باغ“ کا تبصرہ کس خاتون نے کیا تو مصنف کی تسلی ہو گئی؟ کس ”نام نہاد محقق“ نے جہانِ اردو اخبار میں مصنف کے خلاف خبر لگوائی؟ گویا صاف چھُپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں؟

ایک بہت بڑا سقم یہ رہ گیا کہ ایک مترجم کی کتاب میں ترجمے کے فن اور اس پر جاری عالمی سطح کے مباحث پر کوئی بات نہ ہوئی۔ یاسر نے سینکڑوں نہیں تو درجنوں کتابوں کا ترجمہ کر رکھا ہے۔ کیا ان کی نظر میں ترجمہ صرف ایک زبان کی کتاب کو بذریعہ لُغت دوسری زبان میں ڈھال دینا ہی ترجمہ ہے؟ کیا مترجم لفظی یا محاوراتی سطح پر اصل متن کو پرکھتا ہے؟ اس معاملے میں تعصب کا کیا کردار ہے؟

ایک عزیز دوست نے اس کتاب کے متعلق کہا، دوسروں کی تحقیر سے آپ بیتی نہیں بنتی۔ ایک اور عزیز دوست نے کہا کہ یاسر کی ہر کسی پر تنقید شاید بائیں بازو کا حصہ رہنے کی باقیات ہے، اور وہ شاید اپنے آپ کو کافکا سمجھتے ہیں۔ مجھے قو کتاب میں کافکا سے زیادہ سیمون بوویر اور کچھ کچھ منٹو سے مشابہت نظر آئی، جو کہ سرورق پر مصنف کی تصویر سے بھی ظاہر ہے۔ منٹو صاحب نے بھی کئی روسی تصانیف کے ترجمے کیے تھے۔ کچھ احباب نے یہ بھی بتایا کہ اس کتاب کے کئی ”ٹوٹے“ اس سے پہلے فیس بک کی دیوار پر لگائے جا چکے ہیں۔ میں، جیسا کہ مضمون کے آغاز میں ذکر کر چکا ہوں، یاسر جواد کو نہیں جانتا، نہ ہی وہ مجھے جانتے ہیں، لہٰذا میں نے کبھی اپنی فیس بک فیڈ پر یہ تحاریر نہیں دیکھیں۔

”کتاب کہانی“ پڑھتے ہوئے مجھے اسلم انصاری یاد آئے جنہوں نے ”گوتم کے آخری وعظ“ میں لکھا تھا:
میں دکھ اٹھا کر، مرے عزیزو، میں دکھ اٹھا کر
حیات کی رمزِ آخریں کو سمجھ گیا ہوں : تمام دکھ ہے
وجود دکھ ہے، وجود کی یہ نمود دکھ ہے
حیات دکھ ہے، ممات دکھ ہے
یہ ساری موہوم و بے نشاں کائنات دکھ ہے

Facebook Comments HS

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 38 posts and counting.See all posts by abdulmajeed