عالمی کشمکش


کل سے ایران پر اسرائیل کا حملہ شروع ہو چکا ہے اور آج ایران کی طرف سے بھی کروائی کا آغاز ہوا ہے، فی الحال میں اسرائیل کی انٹیلیجنس کی کامیابی یا مہارت کو ڈسکس نہیں کروں گا کیوں کہ یہودیوں کا ماضی سازشیں اور جاسوسی کرنے میں کمال مہارت رکھتا ہے اور نا ہی مجھے یہ دہرانے کی ضرورت ہے کہ ایران کو کیسے ایک ڈراونا خواب بنا کر عربوں کو امریکہ اور اسرائیل نے استعمال کیا اور کس نے ایران کو یہ باور کرایا کے وہ ہی عالم اسلام کی رہبری کا اصل حقدار ہے۔

آتے ہیں اصل موضوع پر

ایران کی عرب یا عرب ایران سنی شیعہ اختلاف در حقیقتاً مسلمان حکمرانوں کی نا اہلی اور ذاتی انائیت کا شاخسانہ تھی اور ہے جس کی وجہ سے ایک ایک کر کے یہودیوں کا مفاد اپنے منتقی انجام تک پہنچتا نظر آ رہا ہے۔

پس منظر میں نشانے اور بھی ہیں آج کے عالمی مفادات سے جڑے ظالمانہ داؤ پیچ کے کھیل میں، میری ذاتی رائے میں چین اور امریکہ کی عالمی کشمکشِ میں کچھ لو کچھ دو کے تحت پس پردہ سودا بازی چل رہی ہے یا ہو چکی ہے دنیا کے کیک کو دو بڑے حصوں میں بانٹا جا رہا ہے اکیلے چوہدری امریکہ نے حالات کے پیش نظر سانجھے داری پر مجبوراً آمادگی ظاہر کردی ہوگی کیوں کی امریکہ اب چین کا راستہ روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اس لیے راستے کا پتھر (روس) کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اس کے تمام اتحادیوں کو ایک ایک کر کے کمزور اور ختم۔ کیا جا رہا ہے۔ حزب اللہ شام اور حماس کی مثال سامنے ہے اور یوکرین کے ذریعے بھی روس کو پھنسایا ہوا ہے۔

بڑی اسکرین کا تو یہ منظرنامہ ہے اور چھوٹی اسکرین پر علاقائی قوتوں کے اپنے مفادات ہیں جیسے سعودی عرب، ترکی اور پاکستان وغیرہ کے۔

اس جنگ میں پاکستان کا کیا رول بنتا ہے اس کا معاملہ پیچیدہ ہے ایک تو پاکستان امریکہ اتحادی ہے دوسرا سعودی عرب سے بھی بہت قریبی مراسم ہیں اور ایران کے ساتھ پڑوسی اور دوستانہ تعلقات اس لئے پاکستان اس جنگ میں کہاں پوزیشن لے گا یہ ایک مشکل سوال ہے۔

دیکھتے ہیں جنگ پھیلتی ہے یہ رجیم چینج ہوتا ہے یہ ایران کی جنگی صلاحیت کو روکنا ہدف ہے۔

Facebook Comments HS