خیبرپختونخوا میں صنعتی ترقی، مسائل اور امکانات
گزشتہ دنوں میڈیا میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق خیبرپختونخوا میں 218 صنعتیں بند پڑی ہیں جن میں صرف 98 صنعتیں گدون امازئی صوابی میں ہیں جب کہ پشاور اکنامک زون میں 48 صنعتیں اور حطار اکنامک زون میں 45 صنعتیں بند ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ صنعت کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 1 ہزار 755 بڑی صنعتیں اور 1 ہزار چھوٹی صنعتیں ہیں تاہم بڑی صنعتوں میں 218 صنعتیں بند ہیں جبکہ چھوٹی صنعتوں میں صرف 9 یونٹ بند پڑے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اکثر یونٹس کے بند ہونے کی وجہ مالی مسائل کے باعث پنجاب منتقلی ہے۔
خیبر پختونخوا میں دو سو سے ذائد صنعتوں کی بندش کے تناظر میں یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ خیبر پختونخوا کو ہمیشہ سے اس کی معدنی دولت، انسانی وسائل اور جغرافیائی اہمیت کے باعث پہچانا جاتا رہا ہے۔ رشکئی اسپیشل اکنامک زون (SEZ) ، گدون انڈسٹریل اسٹیٹ اور چھوٹے پن بجلی منصوبوں جیسے منصوبے اس صوبے میں صنعتی ترقی کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ رشکئی اسپیشل اکنامک زون ان ترقیاتی منصوبوں میں سب سے نمایاں ہے، جو کہ چین۔
پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ نوشہرہ میں واقع یہ زون 1,000 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس کا مقصد ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، فوڈ پراسیسنگ اور انجینئرنگ جیسے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اگرچہ اسے 2021 میں باقاعدہ طور پر شروع کیا گیا تھا لیکن بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی فراہمی میں تاخیر کے باعث اب تک حقیقی صنعتی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار اب بھی گیس، بجلی اور سڑکوں کی دستیابی کے منتظر ہیں۔
اسی طرح، گدون امازئی انڈسٹریل اسٹیٹ، جو کہ 1980 کی دہائی میں پاکستان کا ایک اہم صنعتی زون تھا، 1990 کی دہائی میں سرکاری مراعات کے خاتمے کے بعد زوال پذیر ہو گیا۔ اگرچہ کچھ کارخانے دوبارہ فعال ہوئے ہیں لیکن زیادہ تر فیکٹریاں اب بھی بند پڑی ہیں، جس کی وجہ توانائی کی بلند لاگت، نقل و حمل کے مسائل اور سرکاری سرپرستی کی کمی ہے۔
واضح رہے کہ توانائی کے مسائل کے حل کے لیے صوبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے پن بجلی منصوبے شروع کیے گئے ہیں جن میں جبوری ( 3 میگاواٹ) ، کروڑہ ( 11 میگاواٹ) ، اور درال خوڑ ( 36.6 میگاواٹ) شامل ہیں۔ یہ منصوبے بجلی کی پیداوار میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں لیکن صنعتی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرنے کے لیے اب بھی ناکافی ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں کارخانوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور بجلی کی بندش معمول کی بات ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے معدنی وسائل پر مبنی صنعتوں میں بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ماربل، کرومائیٹ، لوہا، لائم سٹون، کوئلہ، صابن پتھر اور قیمتی پتھروں کے ذخائر یہاں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو کان کنی اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی تیاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ مہمند ماربل سٹی جیسے منصوبے برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں لیکن ابھی تک یہ ابتدائی مراحل میں ہیں اور مالی و منصوبہ بندی کی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں زراعت پر مبنی صنعتیں بھی خاصی اہمیت رکھتی ہیں۔ سوات، چارسدہ اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے اضلاع پھل، سبزیاں اور دودھ کی وافر پیداوار رکھتے ہیں جو فوڈ پراسیسنگ اور پیکیجنگ صنعتوں کے قیام کے لیے موزوں ہیں۔ تاہم، کولڈ اسٹوریج، جدید پیکیجنگ ٹیکنالوجی اور زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی کے فقدان نے صنعتی ترقی کی رفتار سست کر رکھی ہے۔
ان تمام مواقع کے باوجود خیبر پختونخوا کے صنعتی شعبے کو کئی سنجیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ توانائی کی قلت اور بجلی کی مہنگی قیمتیں ہیں۔ گدون ر جیسے ترقی یافتہ صنعتی زونز میں بھی لوڈشیڈنگ اور مہنگی بجلی پیداوار کی لاگت بڑھا دیتی ہے اور سرمایہ کاروں کو مزید سرمایہ کاری سے روک دیتی ہے۔ رشکئی سمیت کئی اہم اسپیشل اکنامک زونز کی سست رفتار عملیاتی پیش رفت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اگرچہ ان کے بارے میں اکثر اعلانات کیے جاتے ہیں، لیکن بنیادی سہولیات جیسے سڑکیں، گیس پائپ لائنز اور بجلی کی فراہمی وقت پر مکمل نہیں ہو پاتی جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
جنوبی اضلاع میں امن وامان کی صورتحال اور ناقص انفراسٹرکچر اس مسئلے کو مزید گمبھیر بنا دیتا ہے۔ متعدد صنعتی زونز اہم شاہراہوں یا ریلوے نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہیں، اور یہاں خشک بندرگاہوں یا جدید لاجسٹک سہولیات کا بھی فقدان ہے، جس کی وجہ سے تجارتی لاگت بڑھ جاتی ہے اور کاروباری مسابقت کم ہو جاتی ہے۔ ریگولیٹری رکاوٹیں بھی ایک مستقل مسئلہ ہیں۔ سرمایہ کاروں کو نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (NOCs) ، ٹیکس رجسٹریشنز اور مختلف منظوریوں کے لیے ایک پیچیدہ عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔
اگرچہ کے پی اکنامک زونز ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی (KPEZDMC) کو ان مسائل کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے، لیکن اب تک اس کی کارکردگی تسلی بخش نہیں رہی۔ ایک اور بڑا چیلنج صنعتی قرضوں اور مالی وسائل تک رسائی کا فقدان ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے، جو صوبے کے صنعتی شعبے کا 80 فیصد سے زائد حصہ ہیں۔ بینکوں کی سخت شرائط اور بھاری ضمانت کی ضرورت نے ان اداروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے۔
مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے، کے پی کو اپنی صنعتی صلاحیت کے مکمل استعمال کے لیے کئی اہم چیلنجز پر قابو پانا ہو گا۔ سب سے پہلے پالیسی میں تسلسل اور طویل مدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ماضی میں گدون جیسے منصوبوں کے عروج و زوال کی مثالیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ قلیل مدتی پالیسیوں سے صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ مزید برآں، صنعتی ترقی کو پورے صوبے میں مساوی طور پر پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ پشاور، نوشہرہ اور صوابی جیسے اضلاع میں زیادہ تر سرگرمیاں ہو رہی ہیں تاہم کوہاٹ، بنوں اور ضم شدہ قبائلی اضلاع اب بھی صنعتی ترقی سے محروم ہیں۔
مقامی افرادی قوت کی تربیت بھی ایک اہم ضرورت ہے۔ جدید صنعتوں کی ضروریات اور مقامی لیبر کے ہنر کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔ فنی اور پیشہ ورانہ تربیتی اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ماحولیاتی قوانین کو بھی سخت کیا جانا چاہیے تاکہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔ بہت سی فیکٹریوں میں فضلہ ٹھکانے لگانے کا نظام موجود نہیں، جس سے ماحولیاتی آلودگی کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔
حرف آخر یہ کہ متعلقہ حکومتی اداروں کو یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ خیبر پختونخوا کا صنعتی مستقبل رشکئی اسپیشل اکنامک زون SEZ جیسے منصوبوں کی کامیاب تکمیل، گدون جیسے زونز کی بحالی اور پن بجلی کے منصوبوں کی توسیع پر منحصر ہے۔ اگر صوبائی اور وفاقی حکومتیں مربوط انداز میں کام کریں، انفراسٹرکچر کی ترقی، پالیسی معاونت، سرمایہ کاروں کو سہولت، اور ورک فورس کی تربیت کو ترجیح دیں تو بد امنی اور غربت کا شکار یہ اہم سرحدی صوبہ ملک میں ایک مضبوط صنعتی مرکز کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے فوری اور فیصلہ کن اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بصورت دیگر یہ امید افزا ءمنصوبے بھی ضائع ہونے کے خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔


