ایران اسرائیل جنگ بند ہونے کا امکان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران اسرائیل جنگ میں ملوث ہونے سے گریز کے بعد اب اس تنازعہ کے خاتمے اور جنگ بندی کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ تھوڑی دیر پہلے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ اس سے پہلے یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ امریکہ کسی بھی لمحے اس تنازعہ میں شامل ہو سکتا ہے۔
جمعہ کو جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کریں گے تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ کے خاتمہ کے لیے کوئی راستہ نکالا جا سکے۔ اس دوران اگرچہ ایران کی طرف سے اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کے دوران مذاکرات پر آمادہ نہیں ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی ایران نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ وہ نہ صرف جوہری معاہدے پر راضی ہے بلکہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم ایران کے لیڈروں کا موقف رہا ہے کہ اسے سول مقاصد کے لیے جوہری پروگرام جاری رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اور وہ اس سے دست بردار نہیں ہو گا۔
صدر ٹرمپ 15 جون کو کینیڈا میں شروع ہونے والے جی سیون کے دو روزہ اجلاس کے ایک دن بعد ہی واشنگٹن واپس چلے گئے تھے۔ اس وقت سے انہوں نے ایران کو شکست قبول کرنے، ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کے بارے میں متعدد اشتعال انگیز اور سنسنی خیز بیان دیے تھے۔ انہیں بیانات کی روشنی میں عالمی میڈیا میں یہ خبریں بھی سامنے آنے لگی تھیں کہ صدر نے اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بس آخری حکم کا انتظار ہے۔ گزشتہ روز امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ایران پر حملہ کب کرنا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے بھی ایسی ہی خبر دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرمپ نے ایران پر حملے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے لیکن حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ البتہ صدر ٹرمپ نے خود یہ کہہ کر ان خبروں کی تردید کی تھی کہ ’وال اسٹریٹ جرنل کو اندازہ نہیں ہے کہ میں ایران کے بارے میں کیا سوچ رہا ہوں‘ ۔
اس دوران اگرچہ امریکی صدر یہ بھی کہتے رہے تھے کہ ’میں ایران پر حملہ کر بھی سکتا ہوں یا ہو سکتا ہے میں ایران پر حملہ نہ کروں‘ ۔ ان بیانات کی وجہ سے پوری دنیا میں شدید بے چینی موجود تھی۔ سیاست دان اور مبصرین یکساں طور سے اس تشویش کا اظہار کرتے رہے تھے کہ اس تنازعہ میں اسرائیل کی طرف سے امریکہ کی شمولیت سے یہ جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل جائے گی اور ایران کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کا امکان ختم ہو جائے گا۔ اس دوران روس اور چین نے علیحدہ علیحدہ تنازعہ میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔
چند گھنٹے پہلے چینی صدر شی جین پنگ اور روسی صدر پوتن کے درمیان فون پر بات ہوئی۔ دونوں ملکوں نے کہا تھا کہ اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور دیگر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ یہ مسئلہ سفارتی رابطوں سے طے کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے روس کی وزارت خارجہ نے اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے مضحکہ خیز اور بلا اشتعال قرار دیا تھا۔ روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسرائیل کو فوجی امداد فراہم نہ کرے۔ یہ اقدام ڈرامائی طور پر پوری صورتحال کو غیر مستحکم کرے گا۔ اس دوران چین کے صدر شی جین پنگ نے علاقائی تعاون کے فروغ کی بات کرتے ہوئے جنگ جوئی اور جارحیت کو مسترد کیا تھا اور امریکہ کو بالواسطہ طور سے پیغام دیا تھا کہ وہ جنگ کے شعلوں پر تیل ڈالنے کی بجائے، انہیں بجھانے میں کردار ادا کرے۔
امریکہ کے یورپی حلیف بھی ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ جوئی کے خلاف تھے اور سفارتی انداز میں صدر ٹرمپ کو اس تنازعہ کو ختم کرانے کا مشورہ دیتے رہے تھے۔ ان کا موقف تھا کہ امریکہ ہی یہ جنگ بند کرا سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ وہ جنگ بندی نہیں چاہتے بلکہ اس مسئلہ ہی کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایران کو دھمکی والے بیانات کے ذریعے واضح کر دیا کہ وہ اس تنازعہ میں کوئی غیر جانبدار ثالث نہیں ہیں بلکہ اسرائیل کی سرپرستی پر تلے ہوئے ہیں۔ تاہم یورپ کے علاوہ چین اور روس کے انتباہ کے بعد صدر ٹرمپ کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے تھوڑی دیر پہلے میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ ’صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ صدر سمجھتے ہیں کہ مستقبل قریب میں بات چیت ہوتی ہے تو مذاکرات کے بڑے مواقع موجود ہیں۔ مستقبل قریب میں ایران سے مذاکرات کا موقع نکل بھی سکتا ہے، نہیں بھی نکل سکتا‘ ۔
اسی دوران جمعہ کو تین اہم یورپی ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ متوقع بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام اور اسرائیلی جارحیت روکنے کے حوالے سے کوئی متوازن اور قابل قبول راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ ایران جوہری پروگرام بند کرنے کا اعلان کرے اور یہ تسلیم کر لے کہ اسے جنگ میں شکست ہو گئی ہے۔ حالانکہ گزشتہ چند روز کے دوران جاری رہنے والی جھڑپوں کے بارے میں یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ کوئی ایک ملک جنگ ہار گیا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے انفرا سٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچایا ہے اور اس کے متعدد فوجی لیڈروں اور سائنسدانوں کو ہلاک کر کے ایران کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ایران مسلسل اسرائیل پر میزائل حملے کر رہا ہے۔ اسرائیل کے دعوؤں کے باوجود کسی کو اندازہ نہیں ہے کہ ایران کے پاس میزائلوں کا کتنا ذخیرہ ہے اور وہ کس حد تک مہلک ہوسکتے ہیں۔ کل رات ایرانی حملے میں اسرائیلی فوج کے کنٹرول اینڈ کمانڈ سنٹر کو نقصان پہنچایا گیا اور ایک انٹیلی جنس مرکز پر میزائل گرائے گئے۔ ان میں سے ہی ایک میزائل ایک قریبی ہسپتال پر بھی گرا ہے جس پر اسرائیلی وزیر اعظم ایرانی حملوں کو ’درندگی‘ قرار دیتے ہوئے سخت انتقام لینے کے دعوے کر رہے ہیں۔ اور وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اب ایرانی سپریم لیڈر کو مار دیا جائے گا۔
تاہم تمام تر بلند بانگ دعوؤں کے باوجود اسرائیل کو تاریخ میں پہلی بار اپنی سرزمین پر براہ راست حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے شہری بنکروں میں چھپے رہنے اور کسی بھی وقت کسی حملہ میں ہلاکت و تباہی کا خوف محسوس کر رہے ہیں۔ کسی بھی حکومت کے لیے یہ صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے۔ اسرائیل نے اگر ایران میں اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے تو اسرائیل میں بھی ایرانی حملوں سے ہونے والی تباہ کاری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ حالانکہ آزادی رائے کا اعلان کرنے کے باوجود اسرائیلی حکومت کی طرف سے کسی عسکری ٹھکانے یا انفراسٹرکچر کی تباہی کے بارے میں خبر دینا منع ہے۔ اس لیے یہ اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے کہ اسرائیل میں ایرانی حملوں نے کتنا نقصان پہنچایا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے امریکی مداخلت کا تقاضا کرنے کی بھی یہی وجہ ہے کہ وہ خود کو تن تنہا ایرانی ’خطرے‘ کو ختم کرنے کا اہل نہیں سمجھتا۔ اس کے ساتھ ہی وہ متعدد اہداف تباہ کرنے کے باوجود یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم کردی ہے۔ ماہرین کے خیال میں صرف فضائی حملوں سے یہ مقصد حاصل ہونا ممکن نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ کی طرف سے دو ہفتے توقف کے اعلان اور جمعہ کو یورپی وزرائے خارجہ کی سفارتی کوششوں اور درپردہ چین و روس کے دباؤ کی صورت حال میں امید کی جا سکتی ہے کہ فریقین کسی ایسے معاہدے پر پہنچ جائیں گے جس کے نتیجے میں ایران جوہری ہتھیار بنانے سے گریز کا باضابطہ اعتراف کر لے۔ اور امریکہ اسرائیل کو حملے بند کرنے کا مشورہ دے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر اسرائیل جارحیت بند کردے تو وہ بھی میزائل پھینکنے بند کردے گا۔ اس طرح سب کی فیس سیونگ بھی ہو جائے گی اور خود پسند امریکی صدر کو ایک بار پھر یہ دعویٰ کرنے کا موقع مل جائے گا کہ انہوں نے نہایت چالاکی سے دباؤ ڈال کر یہ جنگ بند کرا دی اور ایران کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے خطرے کو ٹال دیا ہے۔ اب دنیا محفوظ ہے۔
تاہم بدقسمتی سے ٹرمپ جیسے متلون مزاج اور نیتن یاہو جیسے خطرناک لیڈروں کے ہوتے دنیا میں کسی بھی وقت کہیں بھی تصادم کی نئی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔


