کیا اردو کو بحیثیت قومی زبان وہ اہمیت حاصل ہے جس کی وہ مستحق ہے؟
زبان کسی بھی قوم کی شناخت، تہذیب، اور فکری ساخت کا آئینہ ہوتی ہے۔ جب کوئی قوم اپنے اظہار، خیالات اور روایات کو ایک مخصوص زبان کے ذریعے محفوظ کرتی ہے تو وہ زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں رہتی، بلکہ اس قوم کی روح کا حصہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد اردو کو اس زبان کی حیثیت سے تسلیم کیا گیا جو مختلف لسانی و ثقافتی پس منظر رکھنے والے عوام کو یکجا کر سکتی تھی۔ مگر آج بھی یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ کیا اردو کو وہ حیثیت حاصل ہو سکی ہے جس کی وہ مستحق ہے؟
اردو زبان کا تاریخی پس منظر ہمیں بتاتا ہے کہ یہ ایک قدرتی ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آئی۔ مختلف زبانوں کے میل جول سے جنم لینے والی یہ زبان برصغیر میں رابطے، ادب، اور فکر کا ذریعہ بنی۔ دہلی، لکھنؤ، اور حیدرآباد جیسے علمی مراکز میں اردو نے صرف شاعری اور نثر کی خدمت نہیں کی، بلکہ تہذیبی و ثقافتی شعور کو نئی جہتیں عطا کیں۔ تحریک آزادی میں اردو کا کردار صرف ادبی نہیں بلکہ نظریاتی بھی تھا، جس نے مسلمانوں کو ایک فکری مرکز فراہم کیا۔
قیام پاکستان کے بعد اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا۔ بانی پاکستان نے اسے قومی وحدت کی علامت سمجھا۔ آئینِ پاکستان میں اردو کو مرکزی زبان کا درجہ دیا گیا، اور وعدہ کیا گیا کہ اسے سرکاری سطح پر رائج کیا جائے گا۔ لیکن آج، کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود اردو مکمل طور پر سرکاری زبان کے طور پر نافذ نہیں ہو سکی۔ اس عدم عمل داری نے اردو کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کی ہیں اور ساتھ ہی کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں اردو کی موجودگی ابتدا میں تو واضح نظر آتی ہے، لیکن جوں جوں تعلیمی سطح بلند ہوتی ہے، اردو کی جگہ انگریزی سنبھال لیتی ہے۔ سائنس، طب، انجینئرنگ اور دیگر جدید علوم میں اردو کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس تعلیمی تفریق نے معاشرے میں ایک نئی طبقاتی تقسیم پیدا کر دی ہے جہاں انگریزی جاننے والا فرد مراعات یافتہ اور اردو داں طبقہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
عدالتی اور انتظامی نظام میں بھی اردو کو عملی سطح پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اگرچہ عدالت عظمیٰ نے اردو کو نافذ کرنے کے احکامات دیے، مگر حکومتی ادارے اور دفاتر اب بھی انگریزی کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ طرز عمل اس بات کا مظہر ہے کہ ریاستی سطح پر اردو کے نفاذ کے لیے نہ تو پختہ ارادہ ہے اور نہ ہی کوئی مربوط حکمتِ عملی۔
میڈیا کا کردار دوہرا ہے۔ ایک طرف اردو چینل، اخبارات اور رسائل اردو کے فروغ میں مصروف ہیں، دوسری طرف زبان کا بگاڑ اور انگریزی کی بے جا آمیزش اردو کی لطافت کو متاثر کر رہی ہے۔ خاص طور پر رومن اردو کا فروغ، جو سوشل میڈیا پر رائج ہے، زبان کی اصل ساخت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اردو زبان کی خوبصورتی اس کے رسم الخط میں ہے، جسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔
زبانوں کے درمیان تعصب بھی اردو کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مختلف علاقائی زبانوں کے بولنے والے اکثر اردو کو مسلط کردہ زبان کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس رویے نے اردو کو وہ عوامی پذیرائی نہیں دی جو کسی قومی زبان کو درکار ہوتی ہے۔ لسانی ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے کہ اردو کو تمام پاکستانیوں کی مشترکہ میراث سمجھا جائے، نہ کہ کسی مخصوص طبقے یا علاقے کی زبان۔
اردو کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے تعلیمی نظام میں اردو کو وہ مقام دینا ہو گا جو اس کا حق ہے۔ معیاری نصاب، اردو میں سائنسی و فنی کتب کی تیاری، اور تدریسی تربیت کا اہتمام وقت کی ضرورت ہے۔ اگر طلبہ کو اردو میں سوچنے اور تخلیق کرنے کی تربیت دی جائے تو ان میں خود اعتمادی بھی بڑھے گی اور لسانی امتیاز بھی کم ہو گا۔
اسی طرح سرکاری سطح پر اردو کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ تمام سرکاری مراسلات، فائلوں، عدالتی فیصلوں اور پالیسی دستاویزات کو اردو میں منتقل کرنا ہو گا۔ اس کے لیے زبان کے ماہرین، مترجمین، اور جدید سافٹ ویئرز کی مدد سے ایک موثر نظام وضع کیا جا سکتا ہے۔
میڈیا کو بھی اردو کی ترویج میں اپنا کردار سنجیدگی سے ادا کرنا ہو گا۔ زبان کی درستی، معیاری اندازِ بیان، اور رسم الخط کی حفاظت میڈیا کی اخلاقی اور ثقافتی ذمہ داری ہے۔ جدید ٹیکنالوجی میں اردو کو شامل کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اردو زبان کو صرف ماضی کی چیز نہ سمجھے بلکہ اسے حال اور مستقبل کا ذریعۂ اظہار جانے۔
اختتامیہ کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو کو جو مقام آئینی، فکری اور تہذیبی طور پر حاصل ہونا چاہیے تھا، وہ ابھی تک مکمل طور پر نہیں ملا۔ اردو اگرچہ ہماری شناخت ہے، مگر عملی سطح پر اس کے ساتھ وہ رویہ نہیں اپنایا گیا جو ایک قومی زبان کے ساتھ ہونا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کو صرف جشنِ تقریر یا یومِ زبان پر یاد کرنے کے بجائے روزمرہ کے نظام کا حصہ بنایا جائے۔ ایسا نہ کیا گیا تو اردو محض یادوں کی زبان بن کر رہ جائے گی، جس سے ہمارا رشتہ صرف جذباتی رہ جائے گا، عملی نہیں۔

