بھروسا رکھیں۔ دروازہ کھلا ہے
یقین، بے یقینی کے اندھیروں میں سب سے روشن چراغ ہے۔ انسان جب زندگی کے الجھاؤ، مسائل اور ناہموار راستوں میں گم ہو جاتا ہے تو اسے اپنا ہر قدم بھاری لگتا ہے۔ ایسے میں وہ پریشان ہونا شروع کرتا ہے، بے چینی اس کی روح میں اترنے لگتی ہے، اور امید کے چراغ مدھم ہونے لگتے ہیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں، یہ انسانی فطرت ہے جبلت۔
میرے ایک محترم دوست، جنہیں میں ایک باوقار، نرم گفتار اور با ادب انسان کے طور پر جانتا ہوں، اکثر اپنے مسائل کا ذکر اس انداز میں کرتے ہیں جیسے وہ صرف ان پر ہی گزر رہی ہو۔ ان کے لہجے میں درد چھپا ہوتا ہے، ان کی باتوں میں اضطراب کی ایسی لہر ہوتی ہے جو سننے والے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ وہ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ اور سماجی ناہمواریوں کو ایسے بیان کرتے ہیں جیسے یہ سب زخم ان کے دل پر تازہ ہوں۔ وہ عبادت گزار بھی ہیں، اپنے خالق کی بے نیازی کو جانتے بھی ہیں، اور اس کی مہربانیوں پر ایمان بھی رکھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی، کبھی کبھی، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی آنکھوں میں نمی چھپی ہوئی ہو، جیسے ان کے دل میں کوئی ان کہی سی بے چینی ہو۔ وہ خاموشی سے کسی گہرے کرب میں مبتلا ہوں۔
ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس لمحے میں، جس میں وہ سب سے زیادہ ٹوٹے ہوتے ہیں، اپنے رب کو بھول گئے ہوں یا شاید رب کو نہیں، اپنے آپ کو بھول گئے ہوں۔ کیونکہ انسان جب پریشان ہوتا ہے تو وہ صرف دعا سے نہیں، شکوے سے بھی روتا ہے۔ وہ سوال کرتا ہے : ”کیوں؟“ اور یہ ”کیوں“ رب سے نہیں، اکثر خود سے ہوتا ہے۔
ہم سب کے ساتھ یہ ہوتا ہے۔ کیونکہ ہم وہ لوگ نہیں جو ہر لمحہ کامل یقین کے ساتھ جی سکیں۔ ہمارے اندر خوف ہوتے ہیں، کمزوریاں ہوتی ہیں، مایوسیاں چھپی ہوتی ہیں، اور کچھ ایسے زخم بھی جنہیں ہم کسی سے کہہ نہیں سکتے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ انہی لمحوں میں رب ہمیں سب سے زیادہ قریب سے دیکھتا ہے۔ وہ ہماری بے بسی، ہمارے اشک، ہمارے سسکتے سوالات سب جانتا ہے۔ اور وہی ہمیں وہ طاقت دیتا ہے جس سے ہم دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہم پھر سے بچوں کی فیس جمع کرتے ہیں، پھر سے کسی اچھے رشتے کی تلاش شروع کرتے ہیں، پھر سے نوکریوں کے اشتہارات دیکھتے ہیں، اور پھر سے زندگی جینے لگتے ہیں۔
یہ سب ہماری اپنی طاقت سے نہیں ہوتا۔ یہ اس کی طاقت کا سایہ ہوتا ہے جو اس وقت بھی ہم پر تھا جب ہم اپنی ہی دعا سے مایوس ہو چکے تھے۔ ہم سب نے کبھی نہ کبھی یہ محسوس کیا ہے کہ جن باتوں پر ہم بے حد پریشان تھے، وہ کسی نہ کسی طرح خود ہی حل ہو گئیں۔ بعد میں ہم بیٹھ کر حیرت سے سوچتے ہیں، ”یہ ہو کیسے گیا؟“ اور وہی لمحہ ہوتا ہے جب ہمیں یاد آتا ہے کہ ہم نے کبھی دل سے اللہ کو پکارا تھا، اور اس نے ہمیں تنہا نہیں چھوڑا تھا۔
میں اپنے محترم دوست سے بس یہی کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو سب کچھ آپ محسوس کر رہے ہیں، یہ تنہا آپ کا حال نہیں۔ ہم سب اسی کرب، انہی سوالوں، اور اسی امید کے ساتھ جیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ کوئی اپنی بے چینی کو زبان دیتا ہے، اور کوئی اسے دعا بنا کر چپ رہتا ہے۔
رب پر بھروسا کیجئے جو آپ کو اتنے خلوص سے سنتا ہے، وہ آپ کو کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں لوٹاتا۔
یہ زندگی ہے، یہاں تھکن بھی ہے، امتحان بھی، لیکن اس سب کے بیچ ایک دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا دروازہ۔
تو آئیے، اس پر بھروسا رکھیں۔ اور ایک بار پھر سے، جینے کی ہمت کریں۔


