خواب، محبت اور زندگی 36


mahnaz rahman

Return of the crush who turned turncoat

ایک روز ڈیپارٹمنٹ سے ہوسٹل کی طرف جاتے ہوئے عقب سے کسی نے میرا نام لے کر پکارا۔ میں نے گھوم کر دیکھا تو کوریڈور کے کونے پر وہ صاحب کھڑے تھے جن پر فرسٹ ائر میں مجھے کرش ہو گیا تھا۔ کیا میں خواب دیکھ رہی تھی؟ نہیں یہ حقیقت تھی۔ وہ واقعی مجھ سے ملنے یونیورسٹی آ پہنچے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ اب وہ کالج کی بجائے ایک غیر ملکی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت کر رہے ہیں۔ وہ میرے لئے لینن کا ایک پورٹریٹ بھی لے کر آئے تھے۔ اس عمر میں جب لڑکیاں مشہور گلوکاروں یا فن کاروں کی تصاویر اپنے کمرے میں لگاتی تھیں، میں نے ہوسٹل جا کے اپنے کمرے کی الماری کے دروازے پر لینن کی تصویر لگائی تھی۔

اس دور کے بائیں بازو کے بہت سے طالبعلم رہنماؤں کو سیاسی یا اقتصادی وجوہات کی بنا پر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ وہ صاحب بھی صرف بی ایس سی کر پائے تھے۔ اس روز کے بعد وہ ہفتے میں ایک مرتبہ ہوسٹل کے ملاقات کے اوقات کے دوران وزیٹنگ روم میں مجھ سے ملنے آنے لگے۔ ہوسٹل کا وزیٹنگ روم ایک بڑا سا ہال نما کمرا تھا جس میں سارے ملاقاتی بیک وقت بیٹھتے تھے اور اس کی دیواریں شیشے کی تھیں جن سے آر پار نظر آتا تھا۔ وہاں بیٹھ کر باتیں کرنے کے بعد ہم ہوسٹل کے کونے پر واقع چھوٹے سے جنرل اسٹور پر جا کے کولڈ ڈرنک پیتے اور اس کے بعد وہ بس پر بیٹھ کر شہر واپس چلے جاتے۔ یہ ایک معصوم سا جذباتی سلسلہ تھا جو چند ماہ تک چلا۔

ایک سہ پہر ہوسٹل میں ان کا فون آیا۔ میں نے ریسیور اٹھایا ہی تھا کہ انہوں نے بلا کسی تمہید کے کہا ”مجھ سے شادی کر لو“

”کیا!“ میں ہکا بکا رہ گئی۔ ”یہ کیسے ہو سکتا ہے، مجھے تو ابھی ماسٹرز مکمل کرنا ہے۔“ میں نے گھبرا کر ہنستے ہوئے کہا۔ دوسری طرف چند لمحے خاموشی طاری رہی اور پھر گمبھیر لہجے میں کہا گیا ”گھر والوں نے ایک جگہ میری بات پکی کر دی ہے اور میں شادی کرنے راولپنڈی جا رہا ہوں۔“ اور پھر لائن کاٹ دی گئی۔ ایک عرصہ تک تو میری سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے۔ کیا میرے انکار سے ان کی انا کو ٹھیس پہنچی تھی۔ یا پھر انہوں نے اس سلسلہ کو توڑنے کے لئے یہ بہانہ بنایا تھا۔ جو بھی ہو، یہ کہانی ختم ہو گئی۔ میں کچھ عرصہ روئی دھوئی، اور زندگی کے سفر میں پھر واپس نہ آنے والا یہ مقام بھی گزر گیا۔ طلبہ سیاست میں شمولیت کے بعد اس بارے میں سوچنے کا وقت کس کے پاس تھا۔ بعد میں ہم دونوں صحافت میں آئے اور وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے بائیں بازو کے نظریاتی کیمپ سے بھی اپنی راہیں جدا کر لیں اور سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کے کیمپ میں چلے گئے۔ بقول ہمارے کالج کے دوست انور کے ”لوٹا“ بن گئے۔ ظاہر ہے پھر میں یہی سوچتی تھی کہ میں نظریاتی خود کشی سے بچ گئی۔

این ایس ایف میں ٹوٹ پھوٹ

این ایس ایف اس وقت کاظمی گروپ اور رشید گروپ میں تقسیم ہو چکی تھی۔ این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے یونیورسٹی کا الیکشن جیتنے والے آخری امیدوار حسین نقی تھے۔ ان کے بعد سات سال تک این ایس ایف کے کسی امیدوار نے طلبہ یونین کا الیکشن نہیں جیتا تھا۔ میں نے جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو این ایس ایف اپنی توانائی کھو چکی تھی۔ بائیں بازو کی طرف آنے والے نوجوانوں کو اب میں یہی بتا سکتی ہوں کہ دھڑے بندی لیفٹ کے لئے عالمی سطح پر ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ گو فریق مخالف سے بھی ہم خوب لڑے لیکن اکثر ایسا ہوا کہ فریق مخالف سے لڑنے کی بجائے ہم نے آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے کو ”بدعتی“ ٹھہرانے پر زیادہ وقت اور توانائی صرف کی۔ میں احساس برتری کے ساتھ یہ بات نہیں کہہ رہی کیونکہ یہ جرم تو مجھ سے بھی سرزد ہوا اور سنگین حد تک ہوا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اختلاف رائے کوئی بری چیز ہے لیکن بائیں بازو کا فرقہ ورانہ رویہ خود اس کے لئے بے حد نقصان دہ ثابت ہوا۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ مسئلہ شروع سے ہمارے ساتھ رہا اور ہمارے ”بزرگوں“ نے بھی ہمارے لئے بری مثالیں قائم کیں۔ انہوں نے اپنی زیادہ تر توانائی دوسرے لیفٹسٹس کو برا بھلا کہنے اور ان پر تنقید پر صرف کی گو کبھی یہ تنقید بجا بھی ہوتی تھی۔ لیکن اکثر ایسا کینہ پروری یا اخلاقی اور انٹلکچوئل احساس برتری کی بنا پر کیا جاتا تھا۔ ہم ہمیشہ یہی کرتے رہے ہیں۔

کبھی ہم نے سوچا کہ نوم چومسکی 80 اور 90 کے عشروں میں اتنے کامیاب کیوں رہے یعنی ان عشروں کے دوران جب گلوبل لیفٹ یا عالمی بائیں بازو کی اکثریت مایوسی کا شکار تھی اور حوصلہ ہار بیٹھی تھی۔ چومسکی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ (ظاہر ہے یہ کوئی ایک وجہ نہیں تھی) دوسرے لیفٹسٹس کی جانب سے خود پر ہونے والی تنقید کو نظر انداز کرنا اور کوئی رد عمل نہ دینا تھی۔ وہ ایک بڑی تصویر دیکھ رہے تھے اور جانتے تھے کہ اصل دشمن کون ہے۔ وہ اپنا قیمتی وقت دیگر لیفٹسٹس کے ساتھ لڑائی جھگڑے میں گنوانے کو تیار نہیں تھے۔ آج جب میں علی عمار جان کو دیکھتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی چومسکی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کو لیفٹ کے چھوٹے موٹے باہمی جھگڑوں سے الگ رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ ایک قابل تعریف بات ہے۔ میں اس کے دیگر ہم عصروں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتی جو ہمارے والی غلطیاں دہراتے نظر آتے ہیں۔ خیر اس پر باب ششم میں بات ہو گی۔

تو پھر پیچھے چلتے ہیں این ایس ایف کی طرف۔ اس وقت وہ جس افسوس ناک صورت حال سے دو چار تھی، اس کی ذمہ داری صرف دھڑے بندی پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ اس کی بڑی وجہ جمعیت کا این ایس ایف کے خلاف کبھی ختم نہ ہونے والا پراپیگنڈہ بھی تھا۔ جمعیت نے یونیورسٹی میں این ایس ایف کے بارے میں اتنی غلط باتیں پھیلائی ہوئی تھیں کہ لڑکیاں این ایس ایف میں شامل ہو کر اپنی ساکھ داؤ پر لگانے کو تیار نہیں ہوتی تھیں۔ اگر لوگ بھول گئے ہوں تو یاد دلاتی چلوں کہ جمعیت ہمارے خلاف کس قسم کا پراپیگنڈہ کرتی تھی:

”سارے کمیونسٹ مذہب سے نفرت کرتے ہیں اور ملحد ہیں۔ سارے کمیونسٹ جنسی بے راہ روی کا شکار ہیں۔ سارے کمیونسٹ اخلاقی لحاظ سے سنگ دل اور ظالم ہوتے ہیں۔ کمیونسٹ ذاتی ملکیت کے خلاف ہیں اور آپ سے سب کچھ چھین لیں گے۔“ اور اس طرح کی بہت سی باتیں۔

اس کے رد عمل کے طور پر کچھ لیفٹسٹس نے اخلاقی رفعتوں کو چھونے اور اپنے کردار کو اس قدر مضبوط بنانے پر توجہ دی کہ دائیں بازو کے ناقدین نے انگلیاں منہ میں داب لیں۔ احفاظ کا شمار بھی ایسے ہی لیفٹسٹس میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی ذات کے لئے بہت سخت معیارات مقرر کر رکھے تھے۔ وہ نہ صرف خود سے بلکہ اپنے ارد گرد کے لوگوں سے بھی ان معیارات پر پورا اترنے کی توقع رکھتے تھے۔ اسی لئے اتنے لوگ جن میں ان کے کٹر ناقدین بھی شامل ہیں، ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔

Facebook Comments HS