پنجاب کا تعلیم دوست بجٹ 2025
حالیہ بجٹ 2025 ء میں پنجاب کے تعلیمی بجٹ میں ماضی کی نسبت 200 فیصد سے زائد ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ وفاق کے 18 ارب، سندھ کے 523 ارب، پختونخوا کے 363 ارب روپے اور بلوچستان کے 175 ارب تعلیمی بجٹ کے مقابلے میں پنجاب میں تعلیم کے شعبے کا مجموعی بجٹ 811 ارب روپے سے زائد پر مشتمل ہونا تعلیم کے حوالے سے حکومتی ترجیحات کا عکاس ہے۔ سکول ایجوکیشن کا بجٹ جو پہلے 32 ارب تھا، اب 100 ارب ہو چکا ہے، ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 17 ارب سے بڑھا کر 39 ارب کر دیا گیا ہے۔ دیگر صوبوں کے خانہ پُری پر مشتمل تعلیمی بجٹ کے مقابلے میں پنجاب کا تعلیمی بجٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ترجیحات کو واضح کر رہا ہے۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا موقف ہے کہ یہ تعلیمی بجٹ محض الفاظ یا اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ عمل کی تصویر ہو گا۔
پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناتے تعلیم کا بھی گڑھ ہے۔ یہاں کالجوں اور یونیورسٹیوں کی ریکارڈ تعداد موجود ہے۔ یہاں موجود تعلیمی سہولیات اور معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے صوبوں سے بھی نوجوان پنجاب کے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے صوبے کے تعلیمی معیار پر کوئی سمجھوتہ نا کرنے اور مستحق و ذہین طلباء کو ہر ممکن حد تک تعلیم کے لئے وسائل فراہم کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ نہ صرف عزم بلکہ وہ اس ضمن میں کوشاں اور متحرک بھی ہیں۔ مریم نواز نہ تو خود چین سے بیٹھ رہی ہیں اور نہ ہی تعلیمی امور کے لئے مختص اپنی ٹیم کو چین سے بیٹھنے دے رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر ماضی میں جھانکیں تو صوبے کے تعلیمی حالات اس قدر بہتر دکھائی دیتے ہیں کہ دوسرے صوبے کی سیاسی قیادتیں بھی اس کا اعتراف کرنے اور پنجاب کے وزیر تعلیم کو خراج تحسین پیش کرنے پر مجبور ہیں۔
تعلیمی بجٹ کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 32 ارب سے بڑھا کر 100 ارب کر دیا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے دوران نوجوانوں میں 30 ارب روپے لیپ ٹاپ اور سکالرشپ تقسیم کی مد میں خرچ کیے جائیں گے۔ 7 ارب سکول میل پروگرام پر خرچ ہوں گے۔ اضافی کلاس رومز اور سکولوں میں سہولیات کا فقدان دور کرنے کے لئے 40 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یونیورسٹیوں کا بجٹ بڑھاتے ہوئے 25 ارب روپے تک لے جایا گیا ہے۔ 5 ارب کی لاگت سے مختلف اضلاع میں سرکاری سکول قائم کیے جائیں گے۔ کالجوں میں آئی ٹی لیبز کے قیام کے لئے 2 ارب جبکہ سکولوں کی آؤٹ سورسنگ اور نجی شراکت داری کے لئے 39 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تعلیمی بجٹ کی مزید تفصیلات میں یہ خوشخبری بھی ملتی ہے کہ قصور میں 2 ارب روپے کی لاگت سے مریم نواز انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ بجٹ میں مختلف اضلاع میں یونیورسٹیز اور میڈیکل کالجز کے قیام کے بھی وعدے شامل ہیں۔ سکالرشپ سکیم جو پہلے صرف پنجاب کے طلباء کے لئے تھی، دوسرے صوبوں کے طلباء کے پُرزور اصرار پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے بجٹ 2025 ء میں ان سکیموں میں دیگر صوبوں کے طلباء کو بھی شامل کرنے کی منظوری دی ہے۔
نئے مالی سال 2025 ء میں پنجاب کے کالجز کی طالبات کو ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لئے بھی خصوصی اقدامات کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جبکہ اربن ایریاز کے گرلز کالجز کے لئے 26 کوسٹرز کی فراہمی کی بھی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ دوسری جانب ارلی چائلڈ ہوڈ ایجوکیشن کے لئے سنٹر آف ایکسیلینس مزید اضلاع میں پھیلانے، سکول میل پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے، لیپ ٹاپ و سکالر شپ سکیم میں دوسرے صوبوں کے طلباء کو شامل کرنے، اساتذہ کے لئے سکوٹیز، تعلیمی اداروں میں سٹیم و آئی ٹی لیبز کے قیام سمیت پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات تعلیمی ترقیاتی منصوبوں کی ایک طویل لسٹ تھامے ہوئے ہیں جو صوبے کی تقدیر بدلنے میں معاون ثابت ہوں گی۔
مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو پنجاب حکومت 811 ارب روپے کا ایسا تعلیمی بجٹ سامنے لائی ہے جو ہر طالبعلم کی زندگی میں بہتری لانے کا عزم رکھتا ہے۔ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کہتے ہیں کہ ”اِس بجٹ کا ہر ہندسہ ایک مقصد کا ترجمان ہے اور ہم لفظوں سے نہیں، اعداد سے ثابت کر رہے ہیں کہ تعلیم ہماری پہلی ترجیح ہے، تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں 200 فیصد سے زائد کا اِضافہ اسی عزم کی پہچان اور تعلیمی بجٹ کا ایک ایک روپیہ طلباء کی فلاح و بہبود کے لئے مختص ہے“ ۔
آہستہ آہستہ یہ حقیقت سب کو قبول کرنا پڑے گی کہ ترقی کی خواہشمند قومیں اپنے بجٹ کا خطیر حصہ تعلیم پر خرچ کرتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے اس مرتبہ اپنے تعلیمی بجٹ میں 200 فیصد سے زائد کا ریکارڈ اضافہ کرتے ہوئے ماضی کے 669 ارب کے مقابلے میں اس سال 812 ارب روپے کا تعلیمی بجٹ دیا ہے۔ یوں پنجاب کا تعلیمی بجٹ 21 فیصد بڑھا ہے۔ سندھ نے ماضی کی نسبت تعلیمی بجٹ 458 ارب سے بڑھا کر 523 ارب یعنی 12 فیصد اور پختونخوا نے 327 ارب سے بڑھا کر 363 ارب یعنی 11 فیصد اضافہ کیا ہے۔ تاہم یہ اعداد و شمار نوجوانوں کی موجودہ آبادی کے تناسب سے انتہائی کم ہیں۔ ہم اگر ملک کو مجموعی طور پر تعلیمی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں سنجیدہ ہیں تو پنجاب کی طرح دیگر صوبوں کو بھی تعلیم کے بجٹ پر خصوصی توجہ دینا ہو گی۔


