مرحوم مشاہیر کے نام پر قومی ادارے
نواز شریف کے سیاست میں آنے سے پہلے یہ روایت تھی کہ قومی اداروں کے نام مرحوم مشاہیر کے نام پر رکھے جاتے تھے۔ جیسے قائد اعظم یونیورسٹی، علامہ اقبال یونیورسٹی، قائد اعظم لائبریری۔
دوسری صورت میں مخیر حضرات اپنے پلے سے کوئی ادارہ اپنے نام سے بنا کر حکومت کے حوالے کر دیتے تھے۔ جیسے میاں منشی ہسپتال لاہور اور سردار بیگم ہسپتال سیالکوٹ وغیرہ۔ عوام کے لئے فلاحی ادارہ جب کوئی شخص اپنے پیسے سے بناتا ہے تو اس کا حق ہے کہ ادارے کا نام اپنے نام پر رکھے۔
نواز شریف نے ان مثبت روایات کو توڑا اور قومی خزانے سے بنائے گئے قومی ادارے بقلم خود اپنے نام منسوب کرنا شروع کر دیے مثلاً نواز شریف کالج سرگودھا، نواز شریف یونیورسٹی ملتان، نواز شریف سوشل سکیورٹی ہسپتال لاہور، نواز شریف پارک اور اس طرح سینکڑوں ادارے اپنے نام منسوب کیے۔ جب شہباز شریف کو موقع ملا تو اس نے بھی اپنے بھائی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے نام پر شہباز شریف پارک گجرات اور شہباز شریف اوور ہیڈ برج سیالکوٹ، شہباز شریف لیبارٹریز وغیرہ بنا لئے۔ اب مریم نواز کو موقعہ ملا ہے تو اس نے اپنی جعلی حکومت کے خاتمے تک پنجاب کے تمام ادارے اپنے اور اپنے باپ کے نام منسوب کرنے کے منصوبے پر عمل شروع کر دیا ہے۔ ایک دفعہ سرکاری فنڈز سے ایک ناظم ڈسپنسری بنا رہا تھا تو میں نے ازراہِ مذاق اسے کہا کہ ڈسپنسری کا نام اپنے نام پر رکھ لو۔ وہ کہنے لگا عوام کے پیسے سے بنا کر اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔
مگر نون لیگ کے کارکنان اپنے قائدین کی ایسی بیہودہ حرکات کا بھی دفاع کرتے ہیں۔ بلکہ دلیلیں دیتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے نام پر بھی کئی ادارے موجود ہیں۔ حالانکہ بھٹو صاحب اور بینظیر بھٹو اتنے کم ظرف نہیں تھے کہ قومی دولت سے بنائے گئے ادارے اپنے نام منسوب کر لیتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت اور بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ان کی پارٹی نے اپنے دورِ حکومت میں کچھ ادارے ان کے نام پر بنائے۔ اور یہ ایک اچھی روایت ہے۔ نون لیگی تو سوشل ویلفیئر کی دنیا بھر میں بہترین مثال شوکت خانم کینسر ہسپتال پر بھی اعتراض کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔
اگرچہ پاکستان میں سیاسی کارکن بیچارے غلاموں کی طرح ہوتے ہیں۔ لیکن نون لیگ نے کارکنان کے شعور کا نقصان کچھ زیادہ ہی کیا ہے۔
ہمارے شہر کو کنگال کرنے والوں نے
شعورِ شہر کا نقصان کچھ زیادہ کیا
چند مہینے پیشتر کے پی کے کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک مشیر کے لئے نئی گاڑی خریدنے کا حکم جاری کیا تو پی ٹی آئی کے باشعور پارٹی کارکنان کے احتجاج پر وزیر اعلیٰ کو اپنا حکم نامہ واپس لینا پڑا۔ یہ صرف ایک گاڑی کی بات تھی اس میں رشوت کا کوئی عمل دخل بھی نہیں تھا۔ لیکن نون لیگ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔
شہباز شریف نے 2024 کے الیکشن سے پہلے پنجاب کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور تمام اسسٹنٹ کمشنرز کے لئے نئی گاڑیاں خریدیں۔ لیکن نون لیگ کے کسی کارکن کی جرات نہیں ہوئی کہ اپنے آقاؤں کے سامنے بول سکے۔ اگر کوئی بولے گا تو آئندہ کسی پارٹی اجلاس میں وہ شریک نہیں ہو گا۔


