بھکر کی پسماندگی: ترقی کا خواب ادھورا یا امید کی کرن؟

گزشتہ روز اک خبر نظر سے گزری کہ پنجاب حکومت دریائے راوی پر آٹھ ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں ایک نیا پل تعمیر کر رہی ہے، جو لاہور کے شہریوں کے لیے سہولت کا باعث بنے گا۔ جس پر مجھ جیسا ادنیٰ لکھاری بھی یہ سوچنے اور سوال کرنے پر مجبور ہے کہ کیا پنجاب صرف لاہور تک محدود ہے؟ کیا صوبے کے دیگر اضلاع، خصوصاً بھکر جیسے پسماندہ علاقوں کے نصیب میں صرف محرومیاں لکھی ہیں؟ جب ہر بڑا منصوبہ لاہور سے شروع ہو کر لاہور پر ختم ہوتا ہے، تو بھکر جیسے اضلاع کی ترقی کے لیے کب سوچا جائے گا؟ اسی تناظر میں یہ کالم لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں جس میں بھکر کی پسماندگی، وہاں کے مسائل، ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی گزشتہ دس سالہ شاندار کارکردگی، ملک غضنفر عباس چھینہ کی حالیہ بے مثال کارکردگی، نوانی خاندان کی سیاسی رسائی کے باوجود ترقیاتی ناکامیوں، اور عوامی خدمت محاذ کی حالیہ کامیابیوں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے، ساتھ ہی یہ کالم سوال اٹھاتا ہے کہ کیا تھل کی پیاس بجھنے کے قریب ہے؟ یا اس میں مزید اضافہ ہو گا۔
*بھکر کی آبادی اور معاشی حالات*
2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع بھکر کی آبادی تقریباً ساڑھے سولہ لاکھ ہے، جن میں سے 56.6 فیصد لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ ضلع کی معاشی حالت نازک ہے، کیونکہ یہاں بنیادی ڈھانچے کی کمی، کمزور مواصلاتی نظام، اور پیشہ ورانہ افرادی قوت کی قلت ہے۔ بھکر کی شہری شرح خواندگی 55.13 فیصد ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ محض 30.07 فیصد ہے، جو تعلیمی مواقع کی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ سرائیکی زبان بولنے والے اس خطے کے لوگ محنت کش ہیں، لیکن وسائل کی کمی اور حکومتی ترجیحات میں پسماندگی ان کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
*نوجوانوں میں بے روزگاری اور خودکشی کا رجحان*
بھکر کے نوجوان، جو قوم کا مستقبل ہیں، بے روزگاری کے عفریت کا شکار ہیں۔ اعلیٰ تعلیم کے باوجود روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے مایوسی بڑھ رہی ہے، جو بعض اوقات نوجوانوں کو جرائم یا خودکشی جیسے انتہائی قدم کی طرف دھکیلتی ہے۔ صنعتی ڈھانچے کی عدم موجودگی نے حالات کو مزید خراب کیا ہے۔ تاہم، ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے جاب بیورو آفس کے قیام اور وفاقی و صوبائی محکموں میں روزگار کے مواقع فراہم کر کے اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کی۔
*تعلیمی مواقع کی کمی*
بھکر میں تعلیمی ڈھانچہ کمزور رہا ہے، لیکن ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی کاوشوں سے اس شعبے میں نمایاں بہتری آئی۔ چھ ڈگری کالجز (حیدرآباد تھل، چک 67 ایم ایل، چک 47 ٹی ڈی اے، رضائی شاہ، بوائز کالج حیدرآباد تھل، گرلز کالج گوہر والا) ، تھل یونیورسٹی کی منظوری، 90 سے زائد سکولوں کی منظوری و اپ گریڈیشن، منکیرہ میں دانش سکول، اور ای۔ لائبریری نے تعلیمی منظرنامے کو بدلا۔ اس کے باوجود، دیہی علاقوں میں اساتذہ کی قلت اور وسائل کی کمی اب بھی چیلنجز ہیں۔
*دیہی و شہری ترقی کی کمی*
بھکر کے دیہی و شہری علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی کمی رہی، لیکن ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی قیادت میں متعدد منصوبوں نے اس خلا کو پر کیا۔ جھنگ۔ بھکر روڈ، ایم ایم روڈ، لیہ۔ بھکر روڈ، نورنگ والی یوسف شاہ شرقی ( 14 کلومیٹر) ، اور کچہ، چکوک، تھل میں رابطہ سڑکوں کے جال نے مواصلاتی نظام کو بہتر کیا۔ تین ارب روپے سے زائد کی لاگت سے بجلی کے وولٹیج کے مسائل کا حل، 1200 سے زائد آبادیوں کو بجلی کی فراہمی، چھینہ اور سرائے مہاجر گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر، اور بھکر و منکیرہ گرڈ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن نے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کیا۔ سوئی گیس آفس، ہزاروں گیس میٹرز، اور بلاتفریق گیس پائپ لائن کی تنصیب نے زندگی کو سہولت دی۔ تاہم، کلورکوٹ سے ڈیرہ اسماعیل خان تک پل کی تعمیر، جو آٹھ سال سے زیر التوا ہے، مواصلاتی نظام کی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔
*ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی دس سالہ کارکردگی*
ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ، جو دس سال مسلسل قومی اسمبلی کے رکن رہے، نے 2013 سے 2024 تک بھکر کی ترقی کے لیے شاندار اقدامات کیے۔ ان کی نمایاں خدمات میں شامل ہیں :
**بنیادی سہولیات**: پاسپورٹ آفس، سوئی گیس آفس، واپڈا سب ڈویژن (نوتک، منکیرہ، بھکر رورل) ، زرعی بنک (نوتک، حیدرآباد) ، اور نادرا آفس (بہل) کا قیام۔
**صحت**: تمام بی ایچ یو، آر ایچ سی، تحصیل و ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن، حیدرآباد میں قطر کے تعاون سے جدید ہسپتال (خصوصی تعاون ملک غضنفر عباس چھینہ) ، سرائے مہاجر و منکیرہ ٹراما سنٹرز، اور سٹی ہسپتال بھکر کا قیام۔
**تعلیم**: چھ ڈگری کالجز، تھل یونیورسٹی ( 3 ارب روپے فنڈز) ، 90 سے زائد سکولوں کی منظوری، دانش سکول منکیرہ، (خصوصی تعاون ملک غضنفر عباس چھینہ) اور ای۔ لائبریری کا قیام۔
**مواصلات**: جھنگ۔ بھکر روڈ، ایم ایم روڈ، لیہ۔ بھکر روڈ، نورنگ والی یوسف شاہ شرقی ( 14 کلومیٹر، ایڈمنسٹریٹو اپروول 2013۔ 24 ) اور کچہ، چکوک، تھل میں متعدد رابطہ سڑکوں کا جال۔
**توانائی**: تین ارب سے زائد کی لاگت سے وولٹیج کے مسائل کا حل، 1200 سے زائد آبادیوں کو بجلی، گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر و اپ گریڈیشن، اور بلاتفریق گیس کی فراہمی۔
**سماجی فلاح**: یتیم بچوں کے لیے ہوم سویٹ، خواتین کے لیے ڈبلیو ڈیک، فٹنس جم، چڑیا گھر، فاریسٹ پارک، آرٹس کونسل، اور سٹی بیوٹیفکیشن پلان۔
**تفریح و ثقافت**: جمیل سٹیڈیم کی تعمیر و فلڈ لائٹس، ڈسٹرکٹ و تحصیل سپورٹس کمپلیکس اور دلکشا باغ کی تزئین و آرائش۔
**صاف پانی و سیوریج**: سوا ارب کی سیوریج سکیم، فلٹریشن پلانٹس اور تمام یونین کونسلوں میں سیوریج سکیموں کی منظوری۔
**دیگر**: ماڈل قبرستان، جنازہ گاہوں کی تعمیر، گریٹر تھل کینال کی توسیع، جاب بیورو آفس اور تھانہ کلچر میں بہتری۔
ان منصوبوں نے بھکر کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ اور گزشتہ دس سالوں میں محکمہ صحت و تعلیم پنجاب میں سرفہرست اور پولیس پانچویں نمبر پر رہی، جو ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی کرپشن سے پاک قیادت اور ”خدمت کی سیاست“ کی عکاسی کرتا ہے۔
*عوامی خدمت محاذ کی حالیہ کامیابی*
عوامی حلقوں نے گزشتہ بجٹ میں لیہ باؤنڈری تا جی پی او چوک بھکر براستہ نوتک بہل کی دو رویہ تعمیر اور حالیہ سالانہ ترقیاتی پروگرام (ADP) 2025۔ 26 میں لیہ بھکر روڈ تا نورنگ والی یوسف شاہ شرقی ( 14 کلومیٹر) کی تعمیر کو تاریخی کامیابی قرار دیا۔ یہ منصوبہ ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کے دور میں حاصل کردہ ایڈمنسٹریٹو اپروول اور سروے کی بدولت ممکن ہوا، جس کا موجودہ ایم این اے یا ایم پی اے سے کوئی تعلق نہیں۔
اس کے علاوہ ملک غضنفر عباس چھینہ (ایم پی اے ) نے بجٹ 2025۔ 26 میں 5 روڈ سکیمز ( 39.5 کلومیٹر، 1101 ملین روپے ) اور تھل یونیورسٹی کے لیے 3 ارب روپے کے فنڈز حاصل کیے۔ گیم چینجر ایکسپریس وے ( 9500 ملین روپے ) ، جو تھل حیدرآباد، منکیرہ، اور سرائے مہاجر کو موٹروے M 3 /M 4 سے جوڑے گا، کو بھکر کی تقدیر بدلنے والا منصوبہ قرار دیا گیا، جس کا سہرا ملک غضنفر عباس چھینہ اور وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو جاتا ہے۔
*نوانی خاندان کی سیاسی اثر و رسوخ اور ترقیاتی ناکامی*
نوانی خاندان، جو بھکر کے مقامی سیاسی گروپ نوانی خدمت محاذ کو لیڈ کرتا ہے، نے سابقہ ادوار میں متعدد بار صوبائی وزارتیں اور ضلعی عہدے (ضلعی نظامت ) حاصل کیے، اور وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اپنی سیٹ سے منتخب کروایا۔ لیکن افسوس اس سب کے باوجود وہ بھکر میں کبھی کوئی میگا پروجیکٹ نہ لا سکے، ماضی میں نوانی خاندان کی لاہور اور اسلام آباد محاذ پر تمام تر کامیابیوں کا سہرا سابق ڈی آئی جی اصغر خان نوانی مرحوم کی شخصیت کو جاتا تھا جن کا بیوروکریسی میں گہرا اثر و رسوخ تھا۔ وفاقی و صوبائی بیوروکریٹ انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جس کی بدولت نوانی خاندان سیاسی و ترقیاتی معاملات میں کامیاب رہا۔ لیکن اصغر خان نوانی کی وفات کے بعد سے یہ خاندان لاہور اور اسلام آباد کے محاذ پر ناکام نظر آتا ہے، اور بھکر کے لیے کوئی میگا پروجیکٹ لانے میں ناکامیابی کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی لئے عوامی حلقہ پی پی 93 کے 50 سے زائد چکوک اور جہان خان کے 32 چکوک کو حالیہ بجٹ میں کوئی روڈ نہ ملنے کو نوانی خاندان کی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ ان کے ذاتی اور مقامی مفادات اور چھوٹے پیمانے کے منصوبوں پر توجہ نے بڑے منصوبوں کی راہ روکی، جبکہ صوبائی و وفاقی ترجیحات کا لاہور پر مرکوز ہونا بھی رکاوٹ بنا۔
اس کے برعکس، عوامی خدمت محاذ کا واحد ایم پی اے ملک غضنفر عباس چھینہ اپنی کامیابیوں کے لیے دو عوامل پر انحصار کرتا ہے۔ ایک طرف، انہوں نے بیوروکریسی اور پنجاب کے اہم سیاستدانوں سے مضبوط تعلقات استوار کیے، جو ان کے لیے ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوئے۔ دوسری طرف، ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی شخصیت ہے، جنہیں وفاق اور پنجاب کے بیوروکریٹ اور سیاستدان پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود، ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ اپنے وسیع تعلقات کی بدولت عوام اور ضلع کی فلاح و بہبود کے لیے کام کروا رہے ہیں، جو ان کی سیاسی و انتظامی صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔
*تھل کی پیاس اور ترقی کی ضرورت*
تھل کا علاقہ تاریخی و ثقافتی طور پر زرخیز ہے، گو کہ ملک غضنفر عباس چھینہ اور ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے تھل کی ترقی کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون سے انگنت عوامی فلاح و بہبود اور علاقائی تعمیر و ترقی کے منصوبے مکمل کروائے لیکن تھل کی پیاس اتنی زیادہ ہے کہ اب بھی معاشی پسماندگی اور بنیادی سہولیات کی کمی نے اسے ترقی سے محروم رکھا ہوا ہے اس کے دیہات مواصلاتی رابطوں کے لیے ناگزیر ہے۔ صنعتی زونز، پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے۔ تاہم، گیم چینجر ایکسپریس وے اور تھل یونیورسٹی جیسے منصوبے امید کی کرن ہیں۔
بھکر کی پسماندگی کوئی ناگزیر حقیقت نہیں۔ ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ اور ملک غضنفر عباس چھینہ کی دس سالہ کارکردگی اور عوامی خدمت محاذ کی حالیہ کامیابیوں، جیسے لیہ بھکر روڈ، نورنگ والی یوسف شاہ شرقی، دانش سکول اور گیم چینجر ایکسپریس وے نے بھکر کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ نوانی خاندان کی ناکامیوں، جو اصغر خان نوانی مرحوم کی وفات کے بعد لاہور و اسلام آباد میں اثر و رسوخ کھو بیٹھا، کے برعکس، ملک غضنفر چھینہ اور ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کے مضبوط بیوروکریٹک و سیاسی تعلقات نے بھکر کے مستقبل کو روشن کیا۔ اگر پنجاب کی قیادت لاہور سے آگے سوچے، تو تھل کی پیاس ضرور بجھے گی۔ عوامی خدمت محاذ کا پیغام واضح ہے : ”سچ ہمارا کام، نوانی کی بات خالی زبان“

