کیا ایران کو ہمیشہ کے لیے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟
جو کچھ اس وقت ایران میں ہو رہا ہے وہ صرف جوہری تنصیبات اور انتقامی حملوں کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اب محض ایک آمرانہ حکومت کو کمزور کرنے کا مسئلہ بھی نہیں رہا۔ جو کچھ سامنے آ رہا ہے، وہ ایران کی قومی اہمیت کو طویل مدتی، منصوبہ بندی، اور معاشی طور پر مربوط طریقے سے کم کرنے کی ایک کوشش ہے — شاید ہمیشہ کے لیے۔
ایران نے سکندر اعظم کی یلغار، منگولوں کی تباہ کاریاں، برطانوی و روسی مداخلت اور جدید پابندیوں کے ادوار برداشت کیے ہیں۔ یہ اس لیے ممکن ہوا کہ ایران کی حکومتیں ہمیشہ مستحکم نہیں رہیں، لیکن ایک چیز ہمیشہ موجود رہی: ایک قومی شناخت جو بحرانوں اور حکمرانوں سے بالاتر ہو کر ملک کو جوڑے رکھتی ہے۔
لیکن آج، جب جوہری پروگرام، میزائل نظام، اور معیشت کو بیک وقت نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو شاید ہم ایک ایسی حکمتِ عملی کا سامنا کر رہے ہیں جو جنگ سے نہیں، بلکہ آہستہ آہستہ اندر سے تباہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک متحرک نقشہ راہ
2009 میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن نے ایک رپورٹ شائع کی: Which Path to Persia?۔ یہ کوئی خفیہ منصوبہ نہیں تھا بلکہ ایک اسٹریٹجک دستاویز تھی، جو سابق امریکی اہلکاروں اور مشرق وسطیٰ کے ماہرین نے تحریر کی تھی۔ اس میں ایران کے خلاف جنگ کے بغیر اس کے نظام کو کیسے کمزور یا ختم کیا جا سکتا ہے، اس پر بات کی گئی۔
اس میں درج تجاویز میں شامل تھے:
- نسلی اور سیاسی بغاوتوں کی حمایت تاکہ حکومت کا کنٹرول کمزور ہو؛
- سفارت کاری اور مذاکرات کو دباؤ بڑھانے کے پردے کے طور پر استعمال کرنا؛
- طویل مدتی معاشی تنہائی اور پابندیاں؛
- منتخب عسکری کارروائیاں تاکہ اسٹریٹجک تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکے۔
پندرہ سال بعد، ہم ان تمام عناصر کو ایک ساتھ متحرک ہوتے دیکھ رہے ہیں: جوہری تنصیبات کو سبوتاژ کرنا، ڈرون حملے، پاسداران انقلاب کی کمزوری، اور مالیاتی نظام سے مزید علیحدگی — یہ سب ایک سوچے سمجھے منظرنامے کو حقیقت میں بدل رہے ہیں۔
تیل، گیس، اور خلیج فارس کی جنگ
ایران دنیا کے دوسرے بڑے گیس کے ذخائر رکھتا ہے اور سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ، ایران ہرمز کی خلیج پر کنٹرول رکھتا ہے، جہاں سے دنیا کی 25 فیصد سے زائد تیل اور 33 فیصد مائع گیس کی برآمدات گزرتی ہیں۔ ایران کو کمزور کرنا محض جوہری ہتھیاروں کو روکنے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ توانائی کے راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا بھی ہے۔
اگر ایران ٹوٹتا ہے تو خطے میں طاقت کا خلا پیدا ہوگا، جسے خلیج کے جنوبی عرب ممالک جو مغرب اور اسرائیل کے قریب ہیں پُر کر سکتے ہیں۔ “خلیج فارس” کو “عربی خلیج” کہنے کی مہم بھی اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے: خطے کی توانائی کو کم ایرانی، اور زیادہ عرب و مغربی کنٹرول میں لانے کی کوشش۔
نسلی اختلافات: تقسیم کا ہتھیار
ایران ایک متنوع قوم ہے، جس میں مضبوط تاریخی ربط ہے، لیکن اس میں نسلی اقلیتیں بھی ہیں: مغرب میں کرد، مشرق میں بلوچ، جنوب میں عرب، اور شمال میں آذری، گیلکی، اور مازندرانی۔ ان سب کو ماضی میں بیرونی دلچسپی اور بغاوتوں کا سامنا رہا ہے۔
مغربی ایران میں کردستان عراق کے پیشمرگہ کے ساتھ ہمدردیاں رکھتا ہے؛ مشرقی بلوچستان کی علیحدگی کی خواہش بھی ظاہر ہو چکی ہے؛ شمالی آذری، آذربائیجان سے لسانی و ثقافتی روابط رکھتے ہیں — ایک خطہ جو کبھی ایران کا حصہ تھا مگر 1800 کی جنگوں کے بعد روس کو دے دیا گیا۔ اس سب کے بیچ میں ہیں فارس کے لوگ، جو اپنے ہی ملک میں ایک ثقافتی طور پر اقلیت بننے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اگر یہ عمل جاری رہا تو ایران کی تاریخ صرف کمزور نہیں ہوگی — بلکہ مٹ بھی سکتی ہے۔
ایران، عراق یا لیبیا نہیں ہے — اور سب کو اس کا علم ہے
ایران ایک نوآبادیاتی منصوبہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی قوم ہے جو تاریخی تسلسل، لسانی وحدت، اور ثقافتی ہم آہنگی پر قائم ہے۔ اسی لیے ایران کا اتحاد آسانی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔
اسی وجہ سے ایران کی جلاوطنی میں موجود کمیونٹی آج بھی اتحاد پر یقین رکھتی ہے۔ رضا پہلوی کے گرد جو حمایت ہے، وہ اسی احساس کی غمازی کرتی ہے۔ ان کے دادا رضا شاہ وہ شخص تھے جنہوں نے ایران کو جدید بنایا، ریلوے، اسٹیل اور تعلیمی نظام قائم کیے، اور ایک نیا سیکولر تشخص تشکیل دیا — جس کی آج بھی یاد باقی ہے۔ شاید آج کے حالات وہی قومی جذبہ دوبارہ جگا سکتے ہیں۔لیکن اس عضیم شاہ کا پوتا ایک کمزور اور موقعہ پرست شخص نظر آتا ہے۔
بائبلی کہانیاں اور نفسیاتی تحریک
ساتھ ہی اس وقت بیانیے کی جنگ بھی جاری ہے۔ کوروشِ کبیر جو فارسی اور یہودی تاریخ دونوں میں اہم شخصیت ہیں کو آج بعض اسرائیلی اور مغربی حلقے ایک نجات دہندہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ نتن یاہو کو بعض حلقے جدید کوروش کہتے ہیں، جبکہ ایران کی قیادت کو ہامان بائبل کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔یہ سب انتہائی مضحکہ خیز ہے۔
ایرانی پرچم پر شیر اور تلوار کا استعمال کر کے جلاوطن ایرانیوں کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ علامتیں ایرانیوں کو متحد کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، یا ایک منقسم ایران کو “آزادی” کے نام پر قبول کروانے کے لیے؟
ایک نازک مستقبل
ایران اس وقت ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایک حکومت ہے جس کی ساکھ ختم ہو چکی ہے، اور دوسری طرف ہے ایک قوم جس کی جڑیں گہری ہیں — تاریخ، ثقافت، اور فخر سے بھری ہوئی۔ درمیان میں ہے بیرونی دباؤ، جو ریاست کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
ایرانیوں کو اپنی موجودہ حکومت پر تنقید کا حق ہے اس نے اپنے عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ لیکن یہاں بیرونی مداخلت پر بھی سوال اٹھانا چاہیے: اصل مقصد کیا ہے؟ اگر یہ سوالات آج نہ کیے، تو کل ہم ایک ایسے مشرق وسطیٰ میں جاگیں گے جہاں ایران محض تاریخ کا ایک باب بن کر رہ گیا ہو گا۔


