معلم اخلاق اور اخلاقی ادب
دین اسلام اخلاق اور کردار سازی پر بہت زور دیتا ہے اور تاریخ ِ انسانیت میں صرف سرور کائنات ﷺ کی ذات ہی ایک ایسی منفرد اور ممتاز ذات ہے جن کے جملہ اخلاق حسنہ اس قدر تفصیل سے تاریخی کتابوں میں موجود ہیں کہ ان کی زندگی کا کوئی بھی گوشہ پوشیدہ نہیں۔ اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن مجید و فرقان حمید میں سرکار دوعالم ﷺ کی زندگی کو پوری انسانیت کے لیے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے اور آپ کو کامل اخلاق کا نمونہ بنا کر دنیا میں انسانیت کی ہدایت کے مقصد کے لیے مبعوث کیا ہے۔
قرآن کریم نے رسول خدا ﷺ کے اخلاق کو ”خلق عظیم“ سے تعبیر کیا ہے اور ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب لوگوں نے آپ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا ”کان خلقہ القرآن“ یعنی اُن ﷺ کا اخلاق قرآن کی عملی تعبیر و تفسیر ہے۔ رسالت مآب ﷺ خود اپنے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ”انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ کہ مجھے مکارم اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے۔ ایک حدیث میں یوں بیان ہوا ہے کہ ”تم سب میں بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں اور سب سے بُرا میرے نزدیک وہ ہے جو بُرے اخلاق رکھتا ہو“ ۔
مسلمان تو مسلمان، کفار مکہ اور مشرکین بھی آپ ﷺ کے اخلاق اور کردار کی گواہی دیتے تھے۔ انسانیت کے لیے آپ ﷺ کی ذات کسی معلم اخلاق سے بڑھ کر تھی آج ہم بڑے بڑے ادیبوں اور مصنفین کو دیکھتے ہیں تو وہ اسی چشمہ نور سے ہی فیض یاب ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں جسے صدیوں پہلے سرکار دوعالم ﷺ نے اس دنیا میں عملی جامہ پہنا کر پیش کیا۔
اسی لیے جب اسلام جزیرہ عرب سے نکل کر سرزمین ایران و فارس کی وادیوں میں پھیلا تو ان کے بڑے بڑے شعرا اور ادیبوں نے نبی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی شاعری اور نثر کے ذریعے پھیلانے کی بھرپور تگ و دو شروع کی۔ آیات ِ قرآنی، اقوال اور احادیث نبوی ﷺ کو اپنے اشعار میں جا بجا استعمال کرنے لگے اور اس دور کو اسلامی شاعری یا ادب کا دور کہا جانے لگا۔ فارسی ادب میں اس دور کو ”اخلاقی ادب“ کا درجہ دیا گیا ہے۔ اگر فارسی ادب کی روایت کا جائزہ لیا جائے تو اس میں اخلاقی تعلیمات کا عظیم اور انمول خزانہ موجود ہے جس کا آغاز طاہری دور سے ہوتا ہے۔
سامانی حکومت کے دور کے معروف و مشہور شاعر رودکی جنہیں فارسی شاعری کے ”بابائے آدم“ کا لقب دیا گیا ہے، نے بھی اپنی شاعری میں اخلاقی عناصر اور تعلیمات کو شامل کیا ہے۔ مولانا روم کی شخصیت اور فن سے کون واقف نہ ہو گا جنہوں نے اپنی مثنوی معنوی کی سات جلدوں میں اخلاقیات کے سمندر سے قیمتی اور بیش بہا موتی چن چن کر جمع کیے ہیں اور آج تقریباً آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود بھی ان کے کلام میں وہی چاشنی اور رعنائی برقرار ہے۔
اُن کے اشعار ہر خاص و عام کی زبان پر موجود رہتے ہیں۔ حکیم سنائی نے اپنی مثنویوں (سنایی آباد، حدیقہ الحقیقہ اور طریق التحقیق) میں اخلاقی موضوعات، زہد و حکمت اور پندو نصائح کے ذریعے اپنے اشعار کو مزید مزین کرنے کی بہترین کوشش کی ہے۔ اسی طرح غزل کے امام حافظ شیرازی کی غزلوں میں عاشقانہ اور رندانہ موضوعات کے ساتھ ساتھ اخلاقی، مذہبی، زہد و حکمت اور معاشرتی موضوعات بھی کثرت سے دکھائی دیتے ہیں۔ عظیم صوفی اور شاعر فرید الدین عطارؔ نے اپنی معروفِ زمانہ مثنویوں منطق الطیر، اسرار نامہ، مصیبت نامہ، پند نامہ، فتوت نامہ اور الٰہی نامہ میں عارفانہ، صوفیانہ اور اخلاقی موضوعات قلم بند کیے ہیں۔
نظامی گنجوی نے اپنی پانچ مثنویوں ”خمسہ نظامی“ میں اخلاقی اقدار، بزرگوں کے اقوال، تجربات ِ زندگی ہائے اکابرین کے ساتھ شعروں میں خوبصورتی اور دلکشی پیدا کی ہے۔ طوطی ہند امیر خسرو بھی اس سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے اور خواجہ نظام الدین اولیا جیسے جید صوفی بزرگ کے زیر سایہ تربیت پا کر انھوں نے اپنی مثنویوں مطع الانوار، ہشت بہشت، آئینہ سکندری اور قرآن السعدین میں بہت زیادہ اخلاقی نکات بیان کیے ہیں۔ خاتم الشعرا مولانا عبدالرحمٰن جامیؔ اپنی سات مثنویوں کے مجموعے ”ہفت رنگ“ میں اپنے اشعار کو اخلاقی موضوعات سے آراستہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دور جدید میں پروین اعتصامی اور علامہ اقبال کا کلام بھی اخلاقی، معاشرتی، مذہبی اور عارفانہ موضوعات پر مشتمل ہے۔
اس کے علاوہ اگر فارسی نثر کو دیکھا جائے تو امام محمد غزالی کی کتابیں خصوصاَ کیمیائے سعادت، گلستان از شیخ سعدی، اخلاق ناصری از نصیر الدین طوسی، اخلاق جلالی از جلال الدین دوانی، اخلاق محسنی از ملا حسین کاشغی، بہارستان از مولانا عبدالرحمٰن جامی، اخلاق الاشراف از عبید اللہ زاکانی، جوامع الحکایات از سدید الدین عوفی، سیاست نامہ از نظام الملک طوسی اور قابوس نامہ از عنصرالمعالی کیکاؤس وغیرہ فارسی ادب کا وہ اہم اور قیمتی سرمایہ ہیں جن میں اخلاق کے موتی جا بجا بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔
فارسی زبان کے کم و بیش تمام شعرا اور نثر نگاروں نے اپنے اشعار اور نثر پاروں میں اخلاقی موضوعات تحریر کیے ہیں ان میں سب سے نمایاں سعدی شیرازی ہیں جنہیں ”معلم اخلاق“ کا خطاب دیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنی مثنوی بوستان اور نثر کی کتاب گلستان میں اخلاقی موضوعات کہانی یا داستان بیان کرنے کے بعد درس کی صورت میں دیے ہیں جو انھوں نے دوران تعلیم اور اپنی عملی زندگی میں سفر کے تجربات سے سیکھے۔ ان کے کلام کی سب سے بڑی خصوصیت سادگی اور روانی ہے جسے فارسی ادب میں سہل ممتنع قرار دیا گیا ہے۔
مشکل، مبہم اور پیچیدہ الفاظ کا استعمال کم سے کم کیا گیا ہے۔ آسان اور سادہ فہم الفاظ کو اگر معنی کی گہرائی کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ان میں دانائی اور حکمت کے ہزارہا سمندر پوشیدہ ہیں۔ فارسی کے مشہور قصیدہ گو شاعر فرخی نے کہا تھا کہ اگر وہ قصیدہ کی بجائے غزل کہتے اور ساتویں صدی ہجری میں موجود ہوتے تو سعدی بن جاتے۔ سعدی کی شاعری اور نثر کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے اشعار اور نثر کو جامع، مدلل، خوبصورت اور دلکش بنانے کے لیے قرآنی آیات اور احادیث نبوی ﷺ کا حوالہ جا بجا دیا ہے۔
جس کی بدولت ان کے کلام میں مضمون اور خیال آفرینی کے اعتبار سے وسعت اور بلندی پیدا ہو گئی ہے۔ انھوں نے اپنے کلام میں نہ صرف کسی نہ کسی اخلاقی مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے بلکہ اخلاقی درس کو بھی بیان کرنے میں بہت ہی دلچسپ طریقے اختیار کیے ہیں۔ انھوں نے اپنے کلام میں جس نکتہ پر سب سے زیادہ تاکید اور زور دیا ہے وہ احترام آدمیت یا انسان دوستی ہے۔


