سہاگ رات، اجنبیت سے اپنائیت میں ڈھلنے والا ایک حادثاتی لمحہ۔


روایات پر سوال اٹھانا کتنا کٹھن ہوتا ہے، ٹھہرے ہوئے تالاب کی بو کو تو وہی محسوس کریں گے نا جن کے ذہن تبدیلی کے عمل کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں گے؟

اندھیروں سے خائف روشنیوں کو قبول کرنے کی استطاعت بھلا کہاں رکھتے ہیں؟

لوگ زیادہ تر انہی راستوں کے اسیر ہوتے ہیں جن پر صدیوں سے لوگ گامزن ہوتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ دیوار کے اس پار جھانکنا جرم ہے۔

روایتی زنجیروں کو جسمانی طاقت سے نہیں بلکہ ذہنی استعداد سے کاٹا جاتا ہے جس کے لیے شعور درکار ہوتا ہے اور شعور کو بیدار یا اجاگر کرنے کے لیے ”سوال“ کو تمام روایتی پابندیوں سے آزاد کرنا پڑتا ہے۔

چونکہ سوال تمام تر تقدیسی بیانیوں سے ماورا ہوتا ہے جسے ضابطوں یا حدود میں قید نہیں کیا جا سکتا اور سوال لامذہب ہوتا ہے۔

گزشتہ دنوں معروف اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے روایتی تالاب میں ایک ایسا کنکر پھینکا کہ جس کی دھمک نے بند دماغوں پر کاری ضرب لگادی، عتیقہ نے شادی کے روایتی بندوبست پر درجنوں سوالات اٹھا دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسی لڑکی جس کا ہر لحاظ سے سماجی انٹر ایکشن زیرو ہوتا ہے، جنسی بیرئیر کی وجہ سے اس کے فہم و شعور کو پوری طرح سے کھلنے ہی نہیں دیا جاتا، ہر جگہ محافظ کے روپ میں اس کا کوئی نا کوئی بڑا سرپرست کی صورت میں ہمیشہ اس کے ساتھ موجود ہوتا ہے، شادی تک اس کی فری موومنٹ پر ہزاروں قدغنیں لگی ہوتی ہیں۔

پھر ارینج میرج کی صورت میں اچانک سے اس کی زندگی میں ایک ایسی رات آتی ہے جسے سہاگ رات کہا جاتا ہے، جس میں اسے بنا سوچے سمجھے اپنا دل، دماغ حتی کہ جسم تک ایک ایسے شخص کو سونپ دینا ہوتا ہے جو اس کے لیے بالکل اجنبی ہوتا ہے، ذرا سوچیے ایک ایسی لڑکی جو بنا محافظ کے کبھی گھر سے اکیلی نہ نکلی ہو، پردے اور حجاب تک محدود رہی ہو اسے اچانک سے تنہائی میں ایک ایسے شخص کے حوالے کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے بالکل اجنبی ہوتا ہے تو سوچیں ذرا اور اس لمحے کی کیفیت کا اندازہ تو لگائیں؟

فاسٹ ری ایکشن یا فوری فیصلے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ تو بہت بعد میں ہوتا ہے، اسی طرح کے رشتے آگے جا کر ٹاکسک بن جاتے ہیں، سوال یہ ہے کہ اس کا ذمہ دار پھر کون ہو گا؟

اور سامنے جو شخص موجود ہوتا ہے اس کا سماجی فہم بچی کی نسبت خاصا بہتر ہوتا ہے اور سماجی بنت کی وجہ سے اس کے ذہن میں بس ایک ہی تصور رچا بسا ہوتا ہے کہ کامیاب جنسی عمل کے ذریعے سے خاتون پر اپنی دھاک کیسے بٹھانی ہے، سماجی دباؤ اور دروازے کی اوٹ میں کھڑے جنسی کامیابی کا ثبوت اکٹھا کرنے والوں کے خوف کی وجہ سے جنسی عمل تو ہو جاتا ہے لیکن رشتے کی حساسیت ضرور متاثر ہو جاتی ہے اور بندھن روایتی لکیروں میں ہمیشہ کے لیے قید ہو جاتا ہے۔

عتیقہ اوڈھو کی گفتگو تو چند جملوں کی حد تک تھی لیکن انہوں نے سوال کی صورت میں ایک بھونچال سا پیدا کر دیا۔

اب جس بندے کا سماجی فہم، مردم شناسی، سماجی ڈیلنگ کا تجربہ، آرگیو کرنے کی صلاحیت اور آؤٹ آف دی ڈور زندگی کے مسائل سے نبردآزما ہونے کی لیاقت نا ہونے کے برابر ہو اسے آپ محض تین بول کی بنیاد پر ایک ایسے رشتے میں اچانک سے باندھ دیتے ہیں جس کے متعلق اس نے صرف سہیلیوں سے سنا ہوتا ہے تو پھر ایسے رشتے کی پائیداری کی ضمانت کیسے دی جا سکتی ہے؟ دوسری طرف جو مرد ہوتا ہے وہ بھی رومانیت کی ابجد سے لاعلم ہوتا ہے، اس کے ذہن پر صرف سیکس کا اتاولا پن سوار ہوتا ہے، اسے پتا ہی نہیں ہوتا کہ یہ چند سیکنڈ کا نیم بے ہوشی کا سا کھیل تو کبھی بھی کھیلا جا سکتا ہے بنیادی اہمیت تو رومانوی اٹکھیلیوں کی ہوتی ہے، ایک دوسرے کے اندر تک اترنے کی ہوتی ہے، جسمانی ملاپ سے زیادہ ذہنی ملاپ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ جوہر جنس کی حقیقی اشتہا تک پہنچے بنا ممکن نہیں ہو سکتا۔

جسم تو ایک راستہ یا دروازہ ہوتا ہے روح یا دل میں اتر جانے کا، جو اس امتحان میں کامیاب ہو جاتے ہیں وہی باکمال ساتھی ثابت ہوتے ہیں، یہ منزل کیسے نصیب ہو سکتی ہے؟

یہ ایک صبر آزما اور کٹھن عمل ہوتا ہے، روایتی تصورات سے باہر جھانکنے کا حوصلہ پیدا کر کے سماجی حقیقتوں کو ری وزٹ کرتے ہوئے سب کو مساوی گنجائش دینے کا اپنے اندر حوصلہ پیدا کرنا پڑتا ہے، جنس کی بنیاد پر انسانوں کو مختلف دڑبوں میں بند کر کے ان کے درمیان اجنبیت کی دیواریں کھڑی کر دینے سے رشتوں کی نارمیلٹی ختم ہو جاتی ہے۔

سماجی مطابقت پیدا کرنے کے لیے ہمیں اپنی بچیوں کے ذہنی افق کو وسیع کرنا ہو گا، انہیں پوری طرح سے سماجی فہم دینا ہو گا، گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی کیمسٹری سمجھانا ہوگی، ہراسمنٹ، استحصال، سماجی رشتوں کی پرکھ، عمر کے حساب سے جنسیات کا علم، ذہنی و جسمانی ہراسانی اور مختلف ذہنی رویوں کے متعلق ہنگامی بنیادوں پر ان کی رہنمائی کرنا ہوگی تاکہ بنا خوف وہ مردوں کے بیچ اپنے سماجی فرائض سر انجام دے سکیں۔ جب ان کا سماجی انٹریکشن وسیع ہو گا تو ہی تو وہ سماج کو اپنی ”نو“ کی اہمیت بتا سکیں گی، ہماری بچیاں خود بتائیں گی کہ ”نو اور یس“ کا مطلب کیا ہوتا ہے اور ان کے جسم پر ان کے علاوہ کسی کا کوئی حق نہیں ہے۔

آپ کسی کی چوائس، خواہش یا انفرادیت کا احترام کیے بنا آگے نہیں بڑھ سکتے، سماج کی تمام اکائیوں کو ساتھ ملائے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی کے مثالی مراحل طے نہیں کر سکتا، اگر ہم واقعی اپنی بچیوں کو ان کے جائز مقام پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں شناسائی کے وہ تمام عوامل و مراحل کی اجازت دینا ہوگی جن مراحل یا ایکسپوژر سے مرد گزرتے ہیں۔ یقین مانیں بچیاں بہت ذہین و فطین ہوتی ہیں، بس انہیں اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، عزت کے نام سے جڑے ہوئی فکس ذہنیت سے باہر نکلے بنا یہ سب ممکن نہیں ہو سکتا۔

Facebook Comments HS