ایٹم، امن اور استعمار
جب طاقتور امن کے نام پر تلوار کھینچیں اور کمزور اپنی حفاظت کے لیے ڈھال بھی اٹھائیں تو مجرم ٹھہریں، تو سمجھ لیجیے کہ دنیا کی لغت میں ”انصاف“ کا مفہوم بھی اشرافیہ کی جاگیر بن چکا ہے۔
موجودہ ایران اسرائیل جنگ، یا یوں کہیے کہ سامراجی پراکسیز کے بیچ ایندھن بنی انسانیت، محض ایک تازہ باب ہے اُس طویل داستان کا جو ایٹمی طاقت کے نام پر تحریر کی جاتی ہے اور ہر بار اپنے ہی لفظوں کو چبا جاتی ہے۔ اسرائیل نے جو کہ مبینہ طور پر 90 سے 400 کے درمیان ایٹمی وارہیڈ رکھتا ہے، اور ایران پر ایٹمی صلاحیت رکھنے کے خدشے کی بنیاد پر حملہ کر کے شدید جانی، مالی اور عسکری نقصان پہنچا دیتا ہے اور اس حملے کو ”دفاع“ کا نام دیا جاتا ہے۔
ایران پر الزام ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ یہ الزام لگانے والے وہ ممالک ہیں جن کے ہاں ایٹمی ہتھیاروں کے انبار ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، روس، چین اور غیر رسمی طور پر اسرائیل، سب کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، مگر یہ دنیا کی سلامتی کے ضامن مانے جاتے ہیں۔ جب ایران، پاکستان، یا شمالی کوریا اس میدان میں قدم رکھتے ہیں، تو دنیا کا امن اچانک خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایٹم بم بُرا ہے تو سب کے لیے بُرا ہو، اگر اچھا ہے تو سب کے لیے اچھا۔ انصاف کا تقاضا مساوات ہے، امتیاز نہیں۔
اقوام متحدہ کی قراردادیں اور عالمی قوانین، جنہیں ہم بین الاقوامی اصول کہتے ہیں، دراصل طاقتوروں کے تراشے گئے سانچے ہیں۔ اسرائیل نے نہ صرف ایٹمی ہتھیار بنائے بلکہ آج تک کسی بین الاقوامی معاہدے پر دستخط تک نہیں کیے۔ اسرائیل نے نہ تو آج تک اپنے ایٹمی ہتھیاروں کا خود سے اعتراف کیا ہے اور نہ ہی انکار، اور یہ ابہام ہی دراصل اسرائیل کی پالیسی رہی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پر دنیا کو کوئی تشویش لاحق نہیں ہوتی۔
1986 ء میں اسرائیلی جوہری سائنسدان موردخائی وانونو نے انکشاف کیا کہ نیگیف کے ریگزار میں واقع دیمونہ ری ایکٹر ایٹمی ہتھیاروں کا گڑھ ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگی، نہ ہی کوئی اقوامِ متحدہ کی فوجی مداخلت ہوئی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ استعماری طاقتوں کا ”دوست“ ہے اور بین الاقوامی ادارے استعماری طاقتوں کا کھلونا!
جب پاکستان نے 1998 ء میں ایٹمی دھماکے کیے تو اسے دنیا بھر سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ نے اقتصادی بندشیں لگائیں، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے قرضے روک دیے۔ مگر یہی دنیا، جب بھارت 1974 ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کرتا ہے تو اسے ”پیسفل نیوکلیئر ایکسپلوژن“ کا نام دے کر معاف کر دیتی ہے۔ گویا ایٹم بم بھی مذہب اور جغرافیے سے شناخت پاتا ہے، یا پھر ایٹم بم کی بھی کوئی قومیت یا مذہب ہوتے ہیں اور ان کے اثرات کا براہ راست تعلق ان کی قومیت اور مذہب سے ہے!
ایران کا قصور یہ ہے کہ وہ مغرب کی چھتری تلے نہیں کھڑا۔ اس نے اسرائیل کو للکارا، فلسطین کی حمایت کی، اور امریکی بلاک سے باہر اپنی شناخت قائم کرنے کی کوشش کی۔ بس یہی وہ ”جرم“ ہے جس کی سزا اب جنگ، پابندیوں اور بدنامی کی صورت میں دی جا رہی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی تعریف بھی انہی استعماری طاقتوں نے مرتب کی ہے۔ اگر فلسطینی مزاحمت کار غزہ کی گلیوں میں اسرائیلی ٹینکوں کے آگے پتھر پھینکیں تو وہ ”دہشت گرد“ کہلاتے ہیں، مگر جب اسرائیلی جنگی طیارے سکولوں اور اسپتالوں پر بم برساتے ہیں تو وہ ”اپنا دفاع“ کہلاتا ہے۔ یہی دہرا معیار افغانستان، عراق، لیبیا اور شام میں بھی دیکھا گیا۔
افغانستان میں امریکہ نے بیس برس تک بم برسائے، ہزاروں شہری ہلاک ہوئے، لیکن یہ سب ”دہشت گردی کے خلاف جنگ“ کے نام پر جائز تھا۔ عراق پر ”ایٹمی ہتھیار رکھنے“ کا جھوٹا الزام لگا کر حملہ کیا گیا، لاکھوں لوگ مارے گئے، صدام حسین کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا اور بعد میں تسلیم کیا گیا کہ کوئی ہتھیار موجود ہی نہ تھے!
ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ 2015 ء میں ہوا جسے جے سی پی او اے کہا گیا، مگر 2018 ء میں امریکہ نے یک طرفہ طور پر اس سے دستبرداری اختیار کی۔ حالانکہ ایران اس معاہدے کی شقوں پر پوری طرح عمل کر رہا تھا، مگر سامراجی دنیا کو ایک ”فرمانبردار ایران“ درکار تھا، آزاد اور خودمختار ایران نہیں۔
آج اسرائیل اور ایران آمنے سامنے ہیں، اور امریکہ و مغربی میڈیا پوری کوشش کر رہے ہیں کہ اسرائیل کو ”مدافع“ اور ایران کو ”جارح“ بنا کر پیش کریں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کا سب سے غیر متوازن اور خطرناک عنصر اسرائیل ہے، جس کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہیں، اور بے لگام عسکری آزادی بھی۔
البرٹ آئن سٹائین فرماتے ہیں ؛ ”امن طاقت سے قائم نہیں رکھا جا سکتا، یہ صرف سمجھ بوجھ سے حاصل ہوتا ہے۔“
دنیا کو اب یہ سمجھنا ہو گا کہ امن صرف تقریروں یا طاقت کے مظاہرے سے نہیں آتا، بلکہ انصاف سے آتا ہے۔ جب تک ایٹمی طاقت پر صرف چند ممالک کا اجارہ رہے گا، اور جوہری عدمِ پھیلاؤ کا نعرہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے لگایا جاتا رہے گا، تب تک یہ دنیا صرف طاقتور کے مفادات کی چراگاہ بنی رہے گی۔
”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ ایسے ہے جیسے دو دشمن پٹرول میں کھڑے ہوں، ایک کے ہاتھ میں تین ماچس کی تیلیاں ہوں، اور دوسرے کے ہاتھ میں پانچ۔“ کارل سیگن
اگر واقعی ایٹمی ہتھیار دنیا کے لیے خطرہ ہیں، تو پھر سب سے پہلے اسرائیل کو غیر مسلح کیا جانا ضروری ہے۔ اگر امن ہی مقصود ہے، تو پھر مساوات اور غیر جانب داری کے اصول پر عمل کیا جائے۔ بصورت دیگر، یہ ”امن کی جنگیں“ دراصل استعماری مفاد پرستوں کا خونخوار کھیل بن کر رہ جائیں گی اور انسانیت شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔


