ریکوڈک کو ریلوے نیٹ ورک سے منسلک کرنے کی ہدایت
وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان میاں شہباز شریف کی جانب سے یہ ہدایت جاری کی گئی ہے کہ بلوچستان کے عظیم معدنی ذخیرے ریکوڈک کو 2028 ء تک ملکی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا جائے، نہ صرف ایک قومی نوعیت کی اقتصادی حکمت عملی ہے بلکہ یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے جو پاکستان کے معدنی، مواصلاتی، اور علاقائی ترقیاتی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
ریکوڈک، ضلع چاغی (بلوچستان) میں واقع ایک ایسا علاقہ ہے جس کے نیچے دنیا کے بڑے تانبے اور سونے کے غیر ترقی یافتہ ذخائر موجود ہیں۔ 1990 ء کی دہائی میں اس منصوبے پر ابتدائی تحقیق کا آغاز ہوا لیکن سیاسی، قانونی اور سرمایہ کاری کے مسائل کے سبب یہ کئی دہائیوں تک متنازعہ اور غیر فعال رہا۔ 2019 ء میں عالمی ثالثی عدالت کی جانب سے پاکستان پر عائد 6 ارب ڈالر کا جرمانہ اور اس کے بعد بیرک گولڈ کے ساتھ معاہدہ، اس منصوبے کی ازسرنو بحالی کا سبب بنے۔
دوسری طرف پاکستان ریلوے کا تاریخ بھی قومی صنعتی ڈھانچے کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1960 ء کی دہائی میں ملکی مال برداری کا تقریباً 75 فیصد حصہ ریلوے کے ذریعے منتقل ہوتا تھا، لیکن بعد ازاں سڑکوں، نجی ٹرانسپورٹ اور حکومتی ترجیحات میں تبدیلی نے ریلوے کو زوال کی راہ پر ڈال دیا۔
جون 2025 ء میں اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے نہایت اہم فیصلہ کیا کہ ریکوڈک کو 2028 ء تک ریلوے نیٹ ورک سے جوڑا جائے۔ اجلاس میں ایم ایل ون (کراچی تا پشاور) اور ایم ایل تھری (روہڑی۔ کوئٹہ۔ تفتان) کی اپ گریڈیشن، مال برداری اور مسافر نقل و حمل کے نظام کی بہتری پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم کی جانب سے ایک بین الوزارتی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی نہایت بروقت ہے، جس کا مقصد مالی وسائل کے انتظام، منصوبہ بندی، اور فنی ڈھانچے کی ترقی کے لئے ٹھوس تجاویز دینا ہے۔ اس فیصلے سے ریلوے کی بحالی اور ریکوڈک جیسے منصوبے کی کامیابی کے مابین ایک سٹریٹجک ربط پیدا کیا جا رہا ہے۔
ریکوڈک منصوبہ 74 ارب ڈالر کا متوقع فری کیش فلو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر اس کو ایک فعال ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دیا جائے تو یہ پاکستان کے لئے ایک معاشی گیم چینجر بن سکتا ہے۔ بلوچستان کے پسماندہ علاقوں میں ترقی کا آغاز ہو گا، کان کنی کے شعبے میں جدت آئے گی، اور روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید برآں، ریلوے ایک سستا، تیز، اور ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ ذریعہ نقل و حمل ہے۔ ٹرکوں کے مقابلے میں ریلوے کے ذریعے مال برداری نہ صرف کم ایندھن استعمال کرتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی بھی کم کرتی ہے۔
تاہم اس منصوبے کے نفاذ میں کئی چیلنجز حائل ہیں جن میں سرفہرست ریلوے ڈھانچے کی خستہ حالی ہے، ایم ایل تھری کا 80 فیصد حصہ اپنی مدت پوری کر چکا ہے اور مرمت طلب ہے۔ ایم ایل ون میں تاخیر دوسری بڑی وجہ ہے، چین کے ساتھ معاہدے کے باوجود، ایم ایل ون پر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی، جو ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ سیاسی عدم استحکام تیسری بڑی وجہ ہے، قومی منصوبوں میں تسلسل نہ ہونا اور حکومتوں کی بدلتی ترجیحات اکثر ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ سلامتی کے خدشات بھی ہیں۔ بلوچستان میں سیکورٹی کی صورت حال، غیر ملکی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لئے مستقل حکمت عملی کا تقاضا کرتی ہے۔
ریکوڈک کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کا فیصلہ نہایت دور اندیشی پر مبنی ہے۔ اگر یہ منصوبہ حکومتی سنجیدگی، ادارہ جاتی ہم آہنگی، اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے تو نہ صرف پاکستان کی معدنی معیشت کو نئی جہت ملے گی بلکہ ریلوے کی بحالی کا خواب بھی حقیقت بن سکتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی و علاقائی قیادت، اس منصوبے کو قومی مفاد کی نگاہ سے دیکھے اور اس پر عمل درآمد کے لئے مستقل، شفاف اور پائیدار پالیسی اپنائی جائے۔ تب ہی پاکستان ریلوے، واقعی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن کر ابھر سکتا ہے۔


