ابا جی کی یاد میں
میں تقریباً پیدائشی یتیم ہوں۔ پانچ چھ برس کا تھا جب سایہ پدری سے محروم ہو گیا تھا۔ مجھے ابا جی کا ہلکا سا ہیولا یاد ہے۔ ابھرے ہوئے رخسار، بڑی آنکھیں، چھوٹی داڑھی، سر پر پگڑی، کرتا اور تہبند میں ملبوس، کمزور جسم۔
ابا جی گاؤں میں تو کافی خوشحال اور فکر معاش سے آزاد تھے۔ لیکن اچھے مستقبل کے لیے جوں ہی گاؤں سے شہر نقل مکانی کی تو ان کی خوشحالی ختم ہو گئی۔ شہر میں آ کر انہوں نے زرعی اجناس کا چھوٹا سا بیوپار شروع کیا۔ زیادہ سرمایہ نہ ہونے کے باعث یہ بیوپار چھوڑ کر انہوں نے کسی بڑی دکان پر یومیہ اجرت پر مزدوری شروع کر دی جس سے ہماری اچھی گزر بسر ہو جاتی تھی۔
ابا جی ایک دن دکان سے واپس آئے تو چپ چاپ کونے میں پڑی چارپائی پر بیٹھ گئے۔ امی جی نے پوچھا کہ آج کی اجرت کدھر ہے اور آپ چپ چاپ کیوں بیٹھے ہوئے ہیں۔ کہنے لگے دس روپے اجرت ملی تھی، وہ پیسے میں نے جیب میں ڈالنے تھے اور جیب میں ڈالتے ڈالتے وہ کہیں گر گئے جس کا علم مجھے گھر کے پاس آ کر ہوا۔ اب نہ کوئی اور مزدوری ہو سکتی تھی اور نہ کسی سے ادھار مانگ سکتا تھا۔ سوچوں میں گم تھا کہ آج بچے کیا کھائیں گے۔ امی نے
ابا جی کی بات سن کر کہا،
آپ ایسے ہی پریشان ہوتے ہیں، فکر نہ کریں آپ اور آپ کے بچے بھوکے نہیں سوئیں گے۔ یہ کہہ کر امی جی نے پچھلے دنوں کے کچھ بچے ہوئے چاول اور دال کو ملا کر ایک ایسا ملغوبہ تیار کیا جسے کھا کر نہ روٹی کی اختیاج باقی رہی اور نہ سالن کی۔ بعد ازاں رب کریم نے جب خوشحالی اور معیشت کی فراوانی عطا کی تو انواع و اقسام کے لذیذ اور پر لطف کھانے کھائے لیکن زبان کی ذائقہ کلیوں پر اس وقت کے تیار شدہ چاول دال کے ملغوبے کا ذائقہ ابھی تک تازہ ہے۔
شہر آنے کے چند برسوں بعد ابا جی کی صحت خراب ہونی شروع ہو گئی۔ ساری جمع پونجی ان کے علاج پر اٹھ گئی۔ رہائشی مکان بھی گروی رکھنا پڑا جس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے امی جی کی ساری عدت کچہریوں کے چکر لگا لگا کر پوری ہو گئی۔ ابا جی کے جانے کے بعد مشکلات اور تنگی کا سلسلہ بہت دیر تک جاری رہا، لیکن امی جی کی ہمت اور کفایت شعاری سے ہماری زندگی کی گاڑی چلتی رہی۔ اتنی تنگی و عسرت کے باوجود ہمیں کبھی ایک وقت کا فاقہ نہ کرنا پڑا۔
آہستہ آہستہ ہم سب بہن بھائیوں کی تعلیم تربیت اور شادی بیاہ کے مراحل بخوبی طے ہوئے اور خوشحالی کا سفر شروع ہو گیا۔ تنگی و عسرت کے بعد جو فراخی اور خوشحالی ملتی وہ بہت پر لطف اور دیرپا ہوتی ہے۔ میں رب کریم کی اعلی توفیق اور والدین کی دعاؤں سے سرکار کے خرچ پر ملک کی سب سے بہترین طبی درسگاہ سے بطور ایم بی بی ایس ڈاکٹر فارغ التحصیل ہوا، پھر میں سپیشلسٹ ریڈیالوجسٹ بنا اور پورے پینتیس برس انتہائی فرض شناسی اور ایمانداری سے اپنی سرکاری ملازمت مکمل کر کے بڑے اطمینان قلب اور سکون سے سبکدوش ہو گیا۔
مجھے اپنی ساری زندگی یتیمی کا دکھ بہت ستاتا رہا ہے۔ ابا جی پینتالیس برس کی عمر میں ہی اس جہان فانی سے کوچ کر گئے تھے۔ وہ اپنے لگائے ہوئے گلشن حیات کی بھرپور اور جوان فصل نہ دیکھ سکے۔ مجھے سکول کے زمانے میں، جب استاذ بچوں سے پوچھتے کہ تمہارے والد کیا کام کرتے ہیں تو بچے مختلف جواب دیتے، میری باری آتی تو سر نیچے کئیے چپ چاپ کھڑا ہو جاتا، کوئی جواب نہ بن پڑتا، بہت مشکل سے کہتا کہ وہ فوت ہو گئے ہیں تو ساری جماعت کے طلباء کی ہمدردانہ نگاہیں میری جانب اٹھ جاتیں۔ گلی محلے میں کبھی کوئی لڑائی جھگڑا ہو جاتا تو لڑکے کہتے کہ اسے کچھ نہ کہنا، اس کے ابو فوت ہو گئے ہیں۔
مجھے ساری زندگی یہ کہنا بہت مشکل لگتا تھا کہ میرے ابو فوت ہو گئے ہیں۔
میری زبان ابو جی، ابا جی کہنے کو ہمیشہ ترستی رہی ہے۔ میں نے کئی بار تنہائی میں آنسو بھری آنکھوں سے ابا جی اور ابو جی کے الفاظ ادا کیے ہیں لیکن کبھی کسی کونے سے یہ آواز سننے کو نہیں ملی کہ آؤ میرے بیٹے کیا بات ہے۔
میرے کان، اے میرے بیٹے، آؤ میرے بیٹے، بیٹے تمہارا کیا حال ہے، پتری تم کیسے ہو، تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے، تمہیں کسی چیز، روپے، پیسے کپڑوں یا جوتوں کی ضرورت تو نہیں ہے، جیسے جملے سننے کو ترس گئے تھے۔
زندگی میں کتنی ہی خوشیاں ملیں، کامیابیوں نے پاؤں چومے، امتحانات کامیاب ہوئے، فراخی و خوشحالی میسر آئی، کچھ دکھ بھی ملے، کچھ پریشانیاں بھی آئیں، کچھ بیمار بھی ہوا، لیکن، والد کو بتانے کی حسرت ہی رہی، والد نہیں تھے تو نہ کسی نے سراہا، نہ تھپکی دی، نہ ڈانٹ ڈپٹ ہوئی، نہ کسی نے اصلاح کی، نہ انعام ملا اور نہ کس نے جنم دن کی مبارک باد دی۔
میری بڑی خواہش رہی ہے کہ کاش مجھے ابا جی کی صحبت ملتی، ان کی خدمت کرتا، ان سے باتیں کرتا، ان کی خوب دیکھ بھال کرتا، ان کو سیر و سیاحت کراتا، ان کے ہمراہ کھانا کھاتا، ان سے زندگی کے نشیب و فراز کے متعلق دریافت کرتا، لیکن یہ خواہشات حسرتیں ہی رہیں۔
والد کے بغیر بتائی ہوئی زندگی کو میں ایک درخت صحرا کی زندگی سے تعبیر کرتا ہوں، جس کی بود و باش اور پرورش کسی باغبان کی رہین منت نہیں ہوتی ہے۔ اس کی کانٹ چھانٹ اور بڑھوتری ابر کرم ہی کرتا ہے،
نظر ہے ابر کرم پر درخت صحرا ہوں
کیا نہ خدا نے محتاج باغباں مجھ کو
عارف کھڑی شریف میاں محمد بخش نے باپ، ماں اور بھائیوں کے رشتوں کو کس خوب صورتی سے اپنا موضوع سخن بنایا ہے،
ماں مرے، ماپے مکدے، پیو مرے گھر ویلا
شالا مرن نہ ویر کسے دے اجڑ جاندا جے میلہ
( والدہ اگر فوت ہو جائے تو، والدین کا گھر ختم ہو جاتا ہے اور اگر باپ فوت ہو جائے تو گھر خالی ہو جاتا ہے۔ اللہ کرے کسی کا بھائی فوت نہ ہو، نہیں تو زندگی کی خوشیاں ختم ہو جاتی ہیں )
باپ مرے سر ننگا ہووے ویر مرے کنڈ خالی
ماواں باہج محمد بخشا کون کرے رکھوالی
بھائی بھائیاں دے درد ونڈاؤن بھائی بھائیاں دیاں بانہواں
باپ سر دے تاج محمد تے ماواں ٹھنڈیاں چھاواں
(باپ کے مر جانے سے بیٹے کے سر کی چھت ختم ہو جاتی ہے اور بھائی کے مرنے سے بھائی کی کمر ننگی ہو جاتی ہے۔ ماؤں کے بغیر گھر کی حفاظت کوئی نہیں کر سکتا ہے۔ بھائی بھائیوں کے دکھ درد بانٹتے ہیں، کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بازو ہوتے ہیں۔ باپ اولاد کے لیے سر کے تاج ہوتے ہیں اور مائیں ٹھنڈی چھاؤں ہوتی ہیں )
مجھے گھر میں سے ابا جی کا ایک پرانا کرتا ملا تھا جسے میں نے اپنے پاس محفوظ رکھا ہوا ہے اور اسے ان کے ہر یوم وفات پر پہنتا ہوں۔ اس میں سے مجھے ایک عجیب سی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور ایک محبت بھرا پدرانہ لمس ملتا ہے۔ میں نے ابا جی سے محرومی کا یوں مداوا کیا ہے کہ اپنے بچوں کو بطور باپ وہ تمام خوشیاں، جذبات، تعلیم و تربیت اور زندگی کے دیگر شعبوں میں اپنا ساتھ دیا ہے جس سے میں محروم رہا تھا۔ میں نے ان سے اپنا رویہ ایک دوست جیسا رکھا ہے، ان کی تمام ضروریات زندگی کو حتی الواسع پورا کیا ہے، ان کی ہر کامیابی کو سراہا ہے، ان کی اصلاح بھی کی ہے، ہلکی پھلکی ڈانٹ ڈپٹ بھی کی ہے اور ان کو زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھایا ہے۔
مرے بچوں کو اللہ رکھے ان تازہ ہوا کے جھونکوں نے
میں خشک پیڑ خزاں کا تھا مجھے کیسا برگ و بار دیا

