یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے


ہمارے حج پر جانے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ نسیم کو تو کب سے حج پر جانے کا شوق تھا اتنا کہ اسی شوق میں ڈبل سٹوری گھر اونے پونے بیچ ڈالا اور معاہدے کی پہلی شق شرط یہی رکھی کہ اس سال تمثیل حج کے لیے پیسے جمع کروائیں گے مگر با وجوہ یہ معاہدہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا مجھے حج سے پہلے عمرہ کرنے کا شوق تھا اب سوچتی ہوں تو اپنی نادانی پہ ہنسی آتی ہے کہ اس زمانے میں تو عمرہ 20، 25 ہزار میں بھی ہو جایا کرتا تھا زیور بیچ دیتی تو ہم آرام سے چلے جاتے مگر یہ خیال ہی نہیں آیا۔

اپنے جوان بھائی جگنو کی موت کے بعد میرے دل میں شدت سے یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ہمیں فوری طور پر حج پر جانا چاہیے اس سلسلے میں جب اپنے بھائی سے بات کی کہ وہ ٹکٹ کے پیسے دے تو اس نے اپنی مجبوریاں بتائیں، میں نے کہا چلو دو کی بجائے ایک ٹکٹ کے پیسے دے دیں۔ ایک ٹکٹ کے لیے ہم گاڑی بیچ دیں گے جس پراس نے غصہ سے کہا کہ پرانی ایف ایکس کون خریدے گا میں نے کہا اللّہ مالک ہے۔ میرے ابا جی نے اللّہ انہیں جنت نصیب کرے اپنے دوست کو کہہ کر باہر سے

سپانسر شپ کے دو ٹکٹ منگوا دیے جو چند دنوں میں آ گئے

گاڑی ہو یا گھر ہو جب بندے کو ضرورت ہو تو اس کی قیمت گر جاتی ہے۔ خریدار اپنی مرضی کی قیمت لگانا چاہتا ہے لیکن اللّہ نے ہمارے دل کی مراد ایسی پوری کی کہ گاہک آئے انہیں گاڑی پسند آئی اور پوری رقم انہوں نے یک مشت ادا کر دی۔ جسے سن کر سب حیران ہوتے تھے کہ ایسی پرانی گاڑی کیسے بک گئی۔

اچھا ابھی ٹکٹ نہیں آئے تھے۔ میں حج پر جانے کے لیے بے چین تھی اور میرا معمول تھا کہ سکول جاتے ہی میں سب سے پہلے تلاوت قرآن پاک کرتی اس دن پڑھنے کے لئے میں نے قرآن پاک کھولا، درود شریف پڑھ کر فال نکالنے کی نیت کی تو سورہ فتح کی یہ آیت سامنے آئی

تحقیق سچ کر دکھایا اللہ نے اپنے رسول کے خواب کو حق کے ساتھ البتہ تم ضرور داخل ہو گے مسجد حرام میں اگر اللہ نے چاہا احرام کی حالت میں منڈاتے ہوئے اپنے سروں کو اور ترشوائے ہوئے

یہ آیت پڑھتے ہی میرے دل کو بھرپور اطمینان اور یقین ہو گیا کہ اب انشاء اللّہ ہم ضرور حج پر چلے جائیں گے۔ اس کے بعد کئی رکاوٹیں آئیں پر میرا دل مطمئن تھا کہ اس آیت کے مطابق انشاءاللّہ ہم اسی سال ضرور چلے جائیں گے اللّہ کے فضل و کرم سے تمام رکاوٹیں ایک ایک کر کے دور ہو گئیں اور ہمارے باہر سے سپانسر شپ کے کاغذات آ گئے۔

اچھا بھائی سے جب میں اصرار کر رہی تھی کہ وہ ہمارے گھر کے پیسوں میں سے حج کے لیے پیسے جمع کروا دے تو وہ قائل کرنے لگا کہ ابھی بچیاں چھوٹی ہیں بچے پڑھ رہے ہیں کسی کی شادی منگنی نہیں کی ایسی بھی کیا جلدی ہے اگلے سال کر لینا، میں نے کہا کیا تم مجھے اگلے سال کی گارنٹی دیتے ہو، انشاءاللہ ہم اسی سال حج کریں گے چلو تم دو کی بجائے ایک ٹکٹ کے پیسے دے دو جس پر وہ راضی ہو گیا۔

جانے سے پہلے جب فارم فل کر رہے تھے میں نے نسیم سے کہا کہ ہمیں سرکاری رہائش نہیں لینی، وہاں ایک کمرے میں بہت سے لوگوں کو رکھتے ہیں ہم علیحدہ سے اپنی رہائش لیں گے جس پر انہیں غصہ اگیا کہ اکیلے ہم گھر کہاں لے سکیں گے اپ ہر بات میں کوئی نہ کوئی مسئلہ نکال لیتی ہیں مگر میرا یہی اصرار تھا کہ نہیں ہمیں سرکاری رہائش نہیں لینی ہے کوئی اچھے لوگ انشاءاللہ مل جائیں گے تو مل کر لے لیں گے مجھے اپنے اللہ پر پورا یقین اور توکل ہے آپ گھبراتے کیوں ہیں ہم اللہ کے گھر اس کے مہمان بن کر جا رہے ہیں اللہ کریم بہترین میزبانی کریں گے، یہ سب سن کر نسیم نے بات مان لی اور ہم نے سرکاری رہائش نہیں لی، ٹکٹ جمع ہو گئے سارے مراحل طے ہو گئے، نئے کپڑے احرام بیگ تیار کرلئے حج کی ٹریننگ کر لی، کوہاٹ جاکر رشتے داروں، دوست احباب سے ملاقات کرلی، مبارک بادیاں وصول کر لیں اور اب بے چینی سے انتظار تھا کہ کب روانگی کی تاریخ آئے اور ہم روانہ ہوں۔

حج سے کچھ سال پہلے نسیم نے گولڈن ہینڈ شیک کر لیا تھا اور وہ کنٹریکٹ پر کام کر رہے تھے اب جب حج کے لیے چھٹی طلب کی تو انتظامیہ نے کنٹریکٹ ختم کر کے مکمل چھٹی دے دی جس کا ہمیں شدید رنج ہوا لیکن حج کی خوشی میں اس رنج کی کوئی اہمیت نہ رہی۔ کوہاٹ سے میری جنت مکانی ماں کئی روز پہلے آ گئیں کہ ہم دونوں کی غیر موجودگی میں وہ بچوں کے پاس رہیں گی

جسے چاہا در پہ بلا لیا
جسے چاہا اپنا بنا لیا
یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے
یہ بڑے نصیب کی بات ہے
جاری

Facebook Comments HS