پاکستان میں جبری تبدیلی مذہب اور اقلیتوں کے تحفظ کا چیلنج


پاکستان میں اقلیتوں، خصوصاً ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر چھوٹی برادریوں کو مختلف سماجی، معاشی اور مذہبی مسائل کا سامنا رہا ہے، جن میں سب سے گمبھیر مسئلہ حالیہ برسوں میں جبری تبدیلی مذہب اور جبری گمشدگیوں کا ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ آئینی اور مذہبی ہم آہنگی کی روح کے بھی منافی ہے۔

وفاقی وزیر مملکت کھیل داس کوہستانی کی بے بسی

حال ہی میں وفاقی وزیر مملکت برائے مذہبی امور و اقلیتی ہم آہنگی، کھیل داس کوہستانی نے ایک افسوسناک واقعہ پر سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بے بسی کا اظہار کیا۔ سندھ کے ضلع سانگھڑ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی ہندو خاندان کی تین بچیوں کی مبینہ طور پر جبری گمشدگی اور مذہب کی تبدیلی نے اقلیتی برادری میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ وزیر موصوف کا سوشل میڈیا بیان نہ صرف ان کی ذاتی تشویش کا آئینہ دار ہے بلکہ یہ اس نظام کی ناکامی کو بھی ظاہر کرتا ہے جو اقلیتوں کو بنیادی تحفظ فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔

سینیٹر خلیل طاہر سندھو کی سینیٹ میں آواز

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اقلیتی سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے سینیٹ کے حالیہ اجلاس میں اس مسئلے کو پوری شدت سے اٹھایا۔ انہوں نے نہ صرف سندھ بلکہ پنجاب میں بھی جبری تبدیلی مذہب کے بڑھتے ہوئے واقعات کی نشاندہی کی اور ایوان کی توجہ اس طرف مبذول کروائی کہ:

”اگر اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہ کیا گیا اور ان کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا، تو چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی بین المذاہب ہم آہنگی کی کاوشیں ادھوری رہ جائیں گی۔“

یہ بیان نہ صرف اداروں کو احساس دلانے کی کوشش ہے بلکہ ایک انتباہ بھی ہے کہ اقلیتوں کے حقوق پر خاموشی، ملک کی بین الاقوامی ساکھ اور اندرونی استحکام دونوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

وزیر برائے اقلیتی امور پنجاب رمیش سنگھ آروڑہ کا نقطہ نظر

پنجاب کے وزیر برائے اقلیتی امور و بین المذاہب ہم آہنگی رمیش سنگھ آروڑہ اقلیتوں کے لیے عبادت گاہوں کی مرمت اور بحالی کو ان کے تحفظ کی ایک علامت قرار دے رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ: ”اگر ہم اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو محفوظ اور بحال کریں، تو یہ پیغام جائے گا کہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔“

یہ اقدام قابل تحسین ضرور ہے، مگر محض علامتی اقدامات سے اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ممکن نہیں۔ جبری تبدیلی مذہب اور جبری گمشدگی جیسے سنگین مسائل کا حل صرف عبادت گاہوں کی مرمت سے نہیں نکل سکتا۔

مسائل کا گہرائی سے جائزہ

1۔ قانونی کمزوری: پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی کو روکنے کے لیے موثر قانون سازی کا فقدان ہے۔ سندھ اسمبلی میں اس حوالے سے قانون سازی کی کئی کوششیں ہوئیں، مگر دباؤ کی وجہ سے واپس لے لی گئیں۔

2۔ عدالتی تحفظ کا فقدان: عدالتیں اکثر کم عمر لڑکیوں کے بیانات کو آزادانہ سمجھ کر فیصلے سنا دیتی ہیں، حالانکہ کئی ماہرین نفسیات و انسانی حقوق کے کارکنان اسے دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔

3۔ پولیس کا رویہ: اقلیتی خاندانوں کی شکایات کو فوری اہمیت نہیں دی جاتی، اور کئی بار متاثرین کو ہی ملزم بنا دیا جاتا ہے۔

4۔ سماجی تعصب اور خاموشی: کئی مسلم اکثریتی علاقوں میں ان واقعات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، جو مجرموں کو مزید شہ دیتی ہے۔

یہ ایک نہایت اہم اور نازک سوال ہے، جو نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ، آئین کی بالادستی، اور سیاسی قیادت کی سنجیدگی پر براہِ راست سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

سوال کی بنیاد اور پس منظر

سندھ وہ واحد صوبہ ہے جہاں 2014 میں ”Sindh Child Marriage Restraint Act“ کے ذریعے 18 سال سے کم عمر شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا۔ لیکن اس قانون کے باوجود ہندو اقلیتی بچیوں کی جبری شادی، تبدیلی مذہب اور گمشدگی کے واقعات نہ صرف جاری ہیں بلکہ ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ بات افسوسناک ہے کہ:

متاثرہ خاندانوں کی فریاد شاذ و نادر ہی سنی جاتی ہے۔
عدالتوں میں ان کیسز کو اکثر مذہبی آزادی کا لبادہ اوڑھا کر قانونی جواز دیا جاتا ہے۔
پولیس کی جانبداری یا بے بسی، مجرموں کو کھلی چھوٹ دے دیتی ہے۔
سیاسی قیادت کی خاموشی: لاچاری یا مفاہمت؟
پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ میں مسلسل حکومت رہی ہے، اور اس وقت:
بلاول بھٹو زرداری: پارٹی کے شریک چیئرمین
آصف علی زرداری: صدرِ مملکت
مراد علی شاہ: وزیرِ اعلی سندھ

یہ تینوں شخصیات ایسے با اختیار اور موثر عہدوں پر فائز ہیں جن کے ایک بیان، ایک حکم اور ایک قدم سے بھی حالات بدل سکتے ہیں۔ مگر:

ان کی خاموشی یا رسمی بیانات سوالات کو جنم دیتے ہیں۔
کیا یہ خاموشی سیاسی مصلحت کا نتیجہ ہے؟
کیا وہ مذہبی جماعتوں کے ردعمل سے خائف ہیں؟
یا یہ مجرمان کی حوصلہ افزائی سمجھی جائے؟
خاموشی، ظلم کی حمایت ہے؟
اقلیتوں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ:

”جب با اختیار افراد، واضح مظالم پر خاموشی اختیار کرتے ہیں، تو وہ عملاً مجرموں کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ جو چاہتے ہیں کرتے رہیں، انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا۔“

ایسے میں مذہبی جماعتیں، جو ان کیسز میں ملوث افراد کا دفاع کرتی ہیں، مزید دلیر ہو جاتی ہیں۔ یوں آئین، قانون، اخلاقیات۔ سب کمزور پڑ جاتے ہیں۔

آئینی تقاضے اور ریاست کی ذمہ داری
آئینِ پاکستان اقلیتوں کو:
مذہبی آزادی (آرٹیکل 20 )
مساوی شہری حقوق (آرٹیکل 25 )
بچوں کے تحفظ (آرٹیکل 11 اور 35 )
کی ضمانت دیتا ہے۔

مگر جب بچیاں 13 یا 14 سال کی عمر میں اچانک ”مذہب تبدیل“ کر کے شادی شدہ قرار دے دی جاتی ہیں، تو سوال اٹھتا ہے :

کیا ریاست، عدلیہ، پولیس اور حکومت اپنی آئینی ذمہ داری پوری کر رہی ہے؟
کیا کیا جانا چاہیے؟
بلاول، زرداری اور مراد علی شاہ کو اس مسئلے پر کھل کر بات کرنی چاہیے اور عملی اقدامات دکھانے ہوں گے۔
عدلیہ اور پولیس کو ہدایات دی جائیں کہ کم عمر بچیوں کے کیسز میں مذہبی استثنا کی آڑ نہ لی جائے۔

مذہبی جماعتوں کے دباؤ سے آزاد ہو کر قانون نافذ کیا جائے۔ ورنہ یہ اقلیتوں کے ساتھ ریاستی بے وفائی تصور ہو گی۔

پیپلز پارٹی ایک لبرل، جمہوری اور انسانی حقوق کی علمبردار جماعت کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اگر اس کی قیادت، سندھ میں ہو رہے اقلیتی ظلم پر خاموش رہتی ہے، تو یہ نہ صرف اس کی ساکھ کو نقصان دے گی بلکہ پاکستان میں اقلیتوں کا اعتماد بھی متزلزل کرے گی۔

خاموشی اب جرم بن چکی ہے
حل کی راہیں

• قانون سازی: جبری تبدیلی مذہب کے خلاف مخصوص قانون سازی فوری ناگزیر ہے، جس میں کم عمر افراد کے مذہب تبدیل کرنے پر پابندی، والدین کی رضامندی، اور آزادانہ عدالتی نگرانی شامل ہو۔

• آگاہی مہمات: تعلیمی اداروں اور میڈیا کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے۔

• بین المذاہب کمیشنز: عملی اور با اختیار بین المذاہب ہم آہنگی کمیشنز بنائے جائیں جو نہ صرف مشورے دیں بلکہ واقعات پر کارروائی بھی کر سکیں۔

• عدالتی اصلاحات: عدلیہ میں اقلیتوں سے متعلق مقدمات کی فوری اور شفاف سماعت کو یقینی بنایا جائے۔

اقلیتیں کسی بھی ملک کا آئینہ اور ثقافتی ورثہ ہوتی ہیں۔ پاکستان کے آئین نے اقلیتوں کو مساوی حقوق دیے ہیں، لیکن ان حقوق کو عمل میں لانے کے لیے سیاسی، عدالتی اور سماجی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر کھیل داس کوہستانی کی بے بسی، سینیٹر طاہر سندھو کی سینیٹ میں آواز، اور رمیش سنگھ آروڑہ کے علامتی اقدامات، سب یہ ثابت کرتے ہیں کہ مسئلہ موجود ہے، لیکن اس کا حل تبھی ممکن ہے جب ریاستی ادارے، سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی مل کر موثر حکمت عملی اپنائیں۔

Facebook Comments HS