خواب، محبت اور زندگی 37


mahnaz rahman

جب فیض ہم سے ملنے آئے
ہوسٹل میں میری نسرین تالپور سے دوستی ہو گئی۔ طارق فتح، شہریار مرزا اور انیس باقر ان دنوں جیل میں تھے۔ میں ایک مرتبہ نسرین کے ساتھ ان سے ملنے جیل بھی گئی۔ ہمارے ساتھ جامعہ ملیہ کا جاوید بھی تھا۔ ایک مرتبہ ہوسٹل میں ہمیں خبر ملی کہ حبیب جالب کراچی آئے ہوئے ہیں۔ میں ان سے ملنا چاہتی تھی۔ میں نے نسرین سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ اس کے والد رسول بخش تالپور ایک مشہور اور اچھی ساکھ رکھنے والے سیاستدان تھے۔ بعد میں بھٹو کے دور حکومت میں وہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔ نسرین نے انہیں فون کیا اور فرمائش کی کہ حبیب جالب کو گرلز ہوسٹل لے کر آئیں۔ اتفاق سے حبیب جالب کو اسی روز کسی وجہ سے لاہور واپس جانا پڑا اور اسی روز فیض کی کراچی آمد ہوئی۔ اور رسول بخش صاحب انہیں لے کر گرلز ہوسٹل آ گئے۔ فیض سے اس طرح اچانک اور بالمشافہ ملاقات کو میں اپنی خوش قسمتی سمجھتی ہوں۔ ظاہر ہے اس زمانے میں سیاست اور ادب سے دلچسپی رکھنے والا ہر نوجوان ان کی شاعری کا دیوانہ تھا۔

مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ یونیورسٹی کے ایک مشاعرے میں فیض کے آنے کی خبر گرم ہوئی تو ہوسٹل کے کوریڈور میں خوشی سے بے قابو ہو کر دوڑتے ہوئے جمعیت کی ایک لڑکی نے سب کو مطلع کیا تھا کہ فیض یونیورسٹی آ رہے ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ فیض ہر مکتب فکر کے نوجوانوں میں مقبول تھے۔ اور نسرین کی مہربانی سے اس روز وہ صرف مجھ سے ملنے آئے تھے۔ میں اپنی خوش قسمتی پر جتنا بھی ناز کروں کم ہے۔ اگلے روز اتوار یعنی چھٹی کا دن تھا اور میٹنگ کے بعد مجھے اپنی خالہ کے گھر جانا تھا۔ وہ گاندھی گارڈن کے قریب حسین ڈی سلوا اپارٹمنٹس میں رہتی تھیں اور رسول بخش تالپور صاحب کا اپارٹمنٹ بھی اسی بلڈنگ میں تھا۔ تالپور صاحب نے کہا کہ پھر میں بھی ان کے اور فیض صاحب کے ساتھ چل سکتی ہوں۔ اور یوں مجھے ان دو عظیم شخصیات کے ساتھ مزید باتیں کرنے کا موقع مل گیا۔ اب تو یاد نہیں کیا باتیں ہوئیں لیکن اس وقت پاکستان بھر کے ترقی پسند نوجوان سماجی ناانصافیوں اور سامراج کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف سراپا احتجاج تھے اور انقلاب کے رومانس میں مبتلا تھے۔

فیض صاحب کی شاعری ہمارے ان ہی جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتی تھی۔ دھڑے بندی کے باوجود این ایس ایف کی سرگرمیاں اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مجھے اپنے اکنامکس ڈپارٹمنٹ کے دوستوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ شروع میں اس گروپ میں جلیس، رخسانہ، نجمی، تسنیم اور دو لڑکے رشید رضوی اور خالد شامل تھے جو ایک طرح سے ہمارے باڈی گارڈ اور ٹربل شوٹر تھے۔ اکنامکس سوسائٹی کے الیکشن کے دوران نجمی اور رخسانہ میں کچھ اختلافات پیدا ہو گئے اور اس نے ہمارے گروپ سے علیحدگی اختیار کر لی۔

اب ہمارے گروپ میں صرف تین لڑکیاں اور دو لڑکے رہ گئے۔ ہم پانچوں ہر وقت ساتھ رہتے تھے کیونکہ ہمیں بہت سی نظریاتی جنگیں لڑنا تھیں صرف جمعیت کے ساتھ نہیں بلکہ پراکٹوریل ڈپارٹمنٹ کے ساتھ بھی۔ پراکٹوریل ڈپارٹمنٹ نے یونیورسٹی کے طلبا کے لئے انتہائی فرسودہ، بچکانہ اور نا قابل عمل ضوابط بنائے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر باتیں کرتے ہوئے لڑکے اور لڑکی کے درمیان تین فٹ کا فاصلہ ہونا ضروری ہے۔ اپنی قدامت پرست سوچ کی وجہ سے وہ پاکستان کے مختلف علاقوں کی ثقافت اور رہن سہن کے معاملے میں بھی بے حسی کا مظاہرہ کرتے تھے۔

مشرقی پاکستان اس وقت پاکستان کا حصہ تھا اور ساڑھی وہاں کی خواتین کا عام پہناوا تھا۔ ایک دن ہماری بنگالی کلاس فیلو لڑکی ساڑھی پہنے لان میں بیٹھی دیگر لڑکیوں کے ساتھ باتیں کر رہی تھی تو جمعیت کے ایک پراکٹر نے اپنے ڈپارٹمنٹ میں اس کی شکایت کر دی کہ وہ ساڑھی پہن کر اپنے جسم کی نمائش کر رہی تھی۔ بنگالی لڑکی نے بجا طور پر اسے اپنی توہین سمجھا اور خوب شور مچایا۔ این ایس ایف نے بھی اس کا ساتھ دیا اور پراکٹر ڈپارٹمنٹ کے ضوابط کے خلاف احتجاج کیا۔

ہم ان کا مذاق بھی اڑاتے تھے کہ کل سے ہم پیمائشی فیتہ لایا کریں گے تا کہ لڑکوں سے بات چیت کرتے ہوئے درمیانی فاصلہ ناپ سکیں۔ جب ائر مارشل نور خاں مغربی پاکستان کے گورنر کی حیثیت سے کراچی یونیورسٹی کا دورہ کرنے آئے تو ان کے ساتھ پولیس کی ایک جیپ بھی تھی۔ پولیس کی کراچی یونیورسٹی میں آمد این ایس ایف کے لئے نا قابل برداشت تھی۔ حسنین کاظمی پولیس کی جیپ پر چڑھ گئے کہ پولیس کو کراچی یونیورسٹی میں گھومنے نہیں دیں گے چنانچہ گورنر صاحب واپس چلے گئے۔

بہرحال نور خان صاحب کی یہ بات قابل تعریف ہے کہ انہوں نے اگلے روز این ایس ایف کے طلبا کے مسائل جاننے کے لئے ہمارے وفد کو گورنر ہاؤس مدعو کیا۔ این ایس ایف کے تین چار لڑکے اور میں اور ایک اور لڑکی ان سے ملنے گئے۔ ان کے چہرے پر غصے اور ناراضی کے تھوڑے سے آثار تو تھے لیکن انہوں نے توجہ سے ہماری باتیں سنیں اور طلبا کے مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ اس وقت ہمارے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب رینجرز مستقل طور پر کراچی یونیورسٹی میں ڈیرہ ڈال لیں گے۔

تب ہمارے یعنی بائیں بازو کے چین نواز طلبا کے محبوب ترین لیڈر عبد الحمید بھاشانی تھے۔ کنیز فاطمہ میں نے جن کے اسکول میں جماعت نہم میں پڑھا تھا، اب مشہور مزدور لیڈر بن چکی تھیں۔ اور ہم سب انہیں بہت پسند کرتے تھے۔ میجر اسحق کے ہشت نگر کا ہمارے حلقے میں یوں چرچا رہتا تھا جیسے کسی یوٹوپیا نے عملی شکل اختیار کر لی ہو۔ ان عظیم شخصیات کی موجودگی اور اپنے جوانی کے جوش و جذبے کی بنا پر ہمیں یقین تھا کہ ہم جلد ہی چین کی طرح پاکستان میں انقلاب لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایسا ہو نہ سکا لیکن ہم نے کم از کم انقلاب کا خواب تو دیکھا۔ (جاری ہے )

Facebook Comments HS