کیا مسلم اتحاد کبھی ممکن نہیں ہو سکتا؟


پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیردفاع خواجہ آصف نے اسرائیل سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کے اتحاد کی بات کی۔ درسی کتابوں میں، مسجد کے منبروں پر ، تقریروں اور خطبوں میں اکثر مسلم امہ کے اتحاد کی بات کی جاتی ہے۔ پرانے پرانے واقعات سنا کر لہو گرمایا جاتا ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں بتایا جاتا کہ مسلمان متحد کب ہوئے تھے؟ اور کب متحد ہو کر مشترکہ دشمن کا مقابلہ کیا تھا؟ یقیناً خاکسار کا علم ناقص ہے اور مطالعہ بھی کوئی قابل رشک نہیں لیکن اگر ہم دور کی تاریخ یا قریب کے حالات و واقعات کا مطالعہ کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان ہمیشہ باہم دست و گریبان ہی رہے ہیں۔ اور جب نہیں رہے تب بھی ایک دوسرے کی مدد کے لیے بہت کم آگے بڑھے ہیں۔

ہم پڑھتے آئے ہیں کہ بنو امیہ کا تختہ بنو عباسیہ نے الٹا، بنو عباسیہ کا تختہ جہاں منگولوں نے الٹا وہاں سلجوق بھی ان کے درپے تھے، پھر ہم دیکھے ہیں کہ بنو فاطمیہ کی حکومت کا خاتمہ ایوبیوں کے ہاتھوں ہوا اور ایوبیوں کی حکومت کو مملوکوں نے ختم کیا۔ اسی طرح مملوک حکومت کا خاتمہ عثمانیوں نے کیا وغیرہ وغیرہ۔ بدقسمتی سے مسلمان تو ہمیشہ اقتدار کی خاطر لڑتے ہی رہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ کبھی متحد نہیں ہوئے۔ لیکن یہ اتحاد کبھی زیادہ بھی دیر تک قائم نہیں رہ سکا۔

تاریخ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بہت کم ایسا ہوا کہ مسلمان ایک دوسرے کی مدد کو پہنچے۔ سقوط اندلس کے وقت سلطنت عثمانیہ جیسی طاقتور حکومت تھی لیکن اندلس کے مسلمانوں کی مدد کو کوئی نہیں پہنچا بلکہ مسلمان اندلس سے محروم بھی باہم ناچاقیوں کی بدولت ہی ہوئے تھے۔ اس طرح جب ٹیپو سلطان تنہا انگریزوں سے لڑ رہا تھا تب نظام (جو کہ مسلمان تھا) بے شرمی سے انگریزوں کا اتحادی تھا اور جب ٹیپو سلطان نے عثمانی سلطنت سے مدد مانگی تو وہاں بھی اسے مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور یوں وہ اکیلا لڑتا لڑتا شہید ہو گیا۔ کوئی اس نڈر انسان کی مدد کے لیے نہیں پہنچا۔

1979 ء میں ایران میں انقلاب آیا۔ انقلابیوں نے چاہا کہ اپنا انقلاب اوس پڑوس میں بھی ایکسپورٹ کیا جائے۔ سعودی حکومت کو اس میں خطرہ محسوس ہوا اور یوں مسلمان واضح طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ دونوں نے اپنے اپنے نظریات ٹھونسنے کے لیے ہم جیسے جذباتی لوگوں کو استعمال کیا۔ دونوں نے چھوٹے چھوٹے یا معاشی طور پر کمزور ملکوں میں اپنی اپنی من پسند حکومتیں بنانا چاہیں۔ پراکسی وار لڑنے کے لیے مختلف تنظیمیں بنائی گئیں۔

فتوے بازی کے ذریعے فرقہ واریت کا زہر گھولا اور خوب دل کھول کر گھولا۔ تنظیموں کو اسلحہ دے کر ایک دوسرے کی عبادت گاہوں اور مذہبی شخصیات کو ٹارگٹ کیا۔ نفرت اس قدر بڑھی کہ ایران اور عراق باہم دست و گریبان ہو گئے۔ اور جب عراق سے صدام کا خاتمہ ہوا اور اسے سزائے موت ملی تو امریکہ کو شیطان کہنے والے ایران کی آنکھوں میں ایک بھی آنسو نہیں آیا۔ مشرق وسطیٰ کے جتنے بھی عرب ممالک ہیں وہ سب کے سب ایران سے اور اس کی (فوجی) طاقت سے خائف ہیں۔

وہ ایران کی انقلاب ایکسپورٹ کرنے کی عادت سے بھی خوفزدہ ہیں دوسری طرف ایران انھیں امریکہ و اسرائیل کا پٹھو سمجھ کر ان سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ ان کی اسی مخاصمت کا فائدہ ان کے مشترکہ دشمن اٹھا رہے ہیں۔ اس وقت تو یہ ممالک ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کر رہے ہیں لیکن یہ مذمت صرف زبانی کلامی ہی ہے۔ ان میں سے کئی اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات قائم کرچکے ہیں اور وہ ایران کی خاطر اسرائیل یا دوسرے لفظوں میں امریکہ کی ناراضی ہرگز نہیں مول لیں گے۔

ایران اس جنگ میں اکیلا ہے۔ جس جس پر امریکہ کا لے پالک اسرائیل انگلی رکھے گا، اس کی باری آتی جائے گی۔ کچھ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں اور باقی بھی جلد پہنچ جائیں گے۔ ایران کے بعد نجانے کس کی باری ہوگی۔ جنگل کے بیلوں والی کہانی ہمیں تو سکولوں میں ازبر کروائی جاتی ہے۔ کاش کوئی مسلم حکمرانوں کو بھی یہ کہانی یاد کروا دے!

Facebook Comments HS