گیم چینجر: وعدے، حقیقت اور ناکامیوں کی داستان


”گیم چینجر“ کی اصطلاح سب سے پہلے 1980 کی دہائی میں امریکی کھیلوں کی دنیا میں سامنے آئی۔ یہ کسی ایسے کھلاڑی یا لمحے کو کہا جاتا تھا جو میچ کا رخ بدل دے۔ وقت کے ساتھ یہ اصطلاح کھیلوں سے نکل کر کاروبار، سیاست اور عالمی امور میں استعمال ہونے لگی، جہاں اسے کسی بھی بڑی تبدیلی یا انقلابی اقدام کے لیے استعمال کیا جانے لگا جو کسی نظام یا معیشت کا دھارا بدل دے۔

ترقی یافتہ ممالک تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسی مثالیں ضرور ملتی ہیں جہاں قوموں کی ترقی میں کچھ اہم فیصلے اور منصوبے کارفرما تھے۔ یعنی ہر قوم کی تاریخ میں کوئی اہم موڑ آیا جسے گیم چینجر کہا گیا۔

چین کی ترقی کی سب سے بڑی گیم چینجر اس وقت آئی جب 1978 میں ڈینگ ژیاؤپنگ نے معیشت کو آزاد کرنے کے فیصلے کیے۔ ”سوشلسٹ مارکیٹ اکانومی“ کے تصور کے تحت چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہا، نجی کاروبار کی اجازت دی اور عالمی منڈی میں شمولیت اختیار کی۔ 2001 میں چین کا ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (WTO) میں شامل ہونا ایک اور انقلابی قدم تھا جس سے برآمدات، روزگار اور جی ڈی پی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

بھارت کی معیشت میں تبدیلی 1991 میں اس وقت آئی جب اسے سنگین مالیاتی بحران کا سامنا تھا۔ اس وقت حکومت نے درآمدی پابندیوں میں نرمی کی، بیرونی سرمایہ کاری کی اجازت دی، سرکاری اداروں کی نجکاری کی اور معیشت کو عالمی منڈی سے جوڑ دیا۔ اس کے بعد آئی ٹی، دوا سازی اور سروسز سیکٹر میں ترقی نے بھارت کو ایک بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل انڈیا، آدھار اور یو پی آئی جیسے منصوبے مالیاتی شمولیت اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہوئے۔

وطنِ عزیز میں ہر پانچ دس سال کے بعد سرکار کی طرف سے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا جاتا ہے جس کا تعارف عوام کے سامنے ”گیم چینجر“ کے طور پر کیا جاتا ہے اور عوام بیچاری خوابوں کی دنیا میں اتر جاتی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہی وہ منصوبہ ہے جو اس ملک کی قسمت بدل کے رکھ دے گا اور ہمارے تمام مسائل اس کے مکمل ہوتے ہی حل ہوجائیں گے۔ پاکستان میں کئی منصوبے ”گیم چینجر“ کے طور پر پیش کیے گئے مگر نتائج مایوس کن رہے۔ پاکستان اسٹیل ملز کو ایک اسٹریٹجک صنعتی بنیاد سمجھا گیا تھا لیکن بدانتظامی اور سیاسی مداخلت نے اسے بوجھ بنا دیا۔

کالا باغ ڈیم کو توانائی اور پانی کے مسئلے کا حل قرار دیا گیا، مگر صوبوں کے درمیان سیاسی اختلافات کی وجہ سے یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ نندی پور پاور پراجیکٹ پر اربوں روپے خرچ کیے گئے لیکن منصوبہ تکنیکی خرابیوں، مالی بے ضابطگیوں اور ناقص منصوبہ بندی کی نذر ہو گیا۔ میٹرو بس منصوبے شہری نقل و حمل کے جدید حل کے طور پر پیش کیے گئے، لیکن کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں نے محدود فائدے دیے اور قومی وسائل کا بڑا حصہ غیر پیداواری مد میں خرچ ہوا۔

چین کے تعاون سے بننے والا سی پیک منصوبہ بھی گیم چینجر کے طور پر متعارف ہوا لیکن بدانتظامی، کرپشن اور بیرونی دباؤ کی وجہ سے سست روی کا شکار رہا اور پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ سی پیک منصوبے پر پاکستان کی قسمت بدلنے کے نام پر اربوں ڈالر قرضہ تو حاصل کر لیا گیا لیکن عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں۔

اب آئندہ کے ممکنہ ”گیم چینجرز“ کے طور پر کرپٹو کرنسی اور ریکوڈک کا نام لیا جا رہا ہے۔ کرپٹو کرنسی کو کچھ لوگ روایتی مالیاتی نظام سے نجات اور نئی آمدنی کے مواقع کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں مالیاتی ضابطے کمزور ہیں، وہاں یہ ایک پرخطر اور غیر یقینی راستہ ہے۔ دوسری طرف ریکوڈک ایک وسیع قدرتی خزانہ ہے جہاں سونا اور تانبا موجود ہے۔ اگر اسے شفاف طریقے سے، جدید ٹیکنالوجی، بہترین شراکت داری اور مناسب پالیسیوں کے تحت استعمال کیا جائے تو یہ واقعی قومی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے، لیکن ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ بدانتظامی، عدالتی تنازعات اور سیاسی کھینچا تانی ایسے منصوبوں کو ناکامی کی طرف لے جا سکتی ہے۔

حقیقی گیم چینجر وہی منصوبہ ہوتا ہے جو صرف وعدے یا خواب نہ ہو، بلکہ جس کے پیچھے وژن، منصوبہ بندی، اہل قیادت اور عوامی اعتماد موجود ہو۔ بصورتِ دیگر، ہر ”گیم چینجر“ صرف ایک نعرہ بن کر رہ جاتا ہے۔

Facebook Comments HS