مابعد جدیدیت ایک فلسفیانہ و ادبی تحریک یا کوئی سازشی نظریات کا مرکب
کوئی آپ کے خلاف ادبی، تنقیدی محاذ پر، دنیا میں یا سائنس کی دنیا میں جادو کا چراغ لئے، پتھر کا سرمہ بنائے، اور مردہ جانوروں کی ہڈیاں لئے ٹونہ نہیں کر رہا یا سازشیں کرنے پر توجہ مرکوز نہیں ہے۔ کیا خیال کو، سوچ کو، فکر کو، کسی تعصب سے آزاد کرنے کے عمل کی اجازت نہیں ہونی چاہیے؟ کیا ہر چیز کے لیے ضروری ہے کہ اسے حلق سے آواز نکال کر صیہونی سازش، مغربی یلغار کا نام دے کر ہاتھ جھاڑ لئے جائیں؟
یہ سمجھنے کی کوشش میں کی سائنسی قوانین نہ تو احساس رکھتے ہیں نہ جذبات، نہ ہی وہ طرفداری کی کوشش میں من پسند تشریحات دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پھر بھی کیوں سائنسی علم کو ترقی اور تہذیب سے متصادم قرار دیا جائے؟
کیا سوال کرنے کی صلاحیت سلب ہونی چاہیے اور صرف ایک دائرہ میں رہ کر سوال کرنا ہی تحقیق کا درست عمل ہے؟ یا پھر نوع انسان کی تمام نسلوں کے تہذیب و تمدن کو مدنظر رکھا جائے؟
کیوں طرفداری کی جائے؟ کیوں جانب داری دکھائی جائے، جب کے جو ہم جانتے ہیں وہ ناکافی ہے اور جو نہیں جانتے وہ لامحدود۔
اگر کوئی سازش ہو رہی ہے تو وہ ملکوں کو گرانے کی ہوتی ہے، تختہ الٹنے میں ہوتی ہے، سیاسی و عسکری چالوں میں ہوتی ہے۔ ایسی ادبی تشریحات جو بار بار معنی بدل کر سامنے آئیں اور زبان خود اپنے ارتقائی عمل سے گزرے وہاں کیسی سازشی وجود باقی رہ جاتا ہے؟ اور ایک لکھاری کے قلم سے ترقی و ترویج ہونے والے نظریات پر کس مشہور الیومیناٹی تنظیم نے پیسہ لگایا ہو گا؟ ہیوم، سپینوزا، ایمانوئل کانٹ، مارکس، رسل، ڈیریڈا، فوکو پر کتنی سرمایہ کاری کی ہوگی؟
محض کسی کانفرنس میں مدعو کرنا اور گفتگو کے لئے موقع ملنے کے پیچھے اکیڈمک تحریک تو ہو سکتی ہے کوئی عالمی طاقتوں کی سازش نہیں۔ کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ ہم متضاد آراء کا احترام کرتے ہوئے صاف گوئی اور دلیل پر مبنی گفتگو کریں، تاکہ قاری پورے تناظر کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔ رائے بنانا اور متاثر ہونا قاری کا استحقاق ہے، مسلط کرنا محقق/لکھاری کا حق نہیں۔ یہ ہی خیال سماجی تحقیق، تنقید، اور فکری آزادی کی بنیاد ہے۔ فلسفے، ادب، اور نظریاتی گفتگو میں کسی بھی دانشور یا لکھاری کی بات کو حتمی سچائی نہیں مانا جاتا، بلکہ قاری یا سننے والے کو یہ حق ہوتا ہے کہ وہ اس سے اتفاق کرے یا اختلاف، اسے مسترد کرے یا کسی اور نظریے سے جوڑ کر سمجھے۔
مابعد جدیدیت دراصل ایک علمی فکری تحریک ہے، اس کا کوئی وارث نہیں ہے، نہ ٹھیکیدار ہے، آج جب آپ سچ کی جستجو میں پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہیں، برابری کی سطح پر مرد و خواتین کے لئے حقوق مانگتے ہیں، رنگت کی بنیاد پر انسانی تعصب کو بُرا سمجھتے ہیں یا سیاسی و عقیدہ کی بنیاد پر برتر و اعلیٰ سمجھنے کے خیال پر سوال کرتے ہیں تو آپ درحقیقت مابعد جدیدیت کی ہی سوچ سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے لئے نہ کہ کوئی خفیہ سازش ہوتی ہے نہ کوئی تنظیم کے عہدیداران موجود ہیں۔
یہ طاقت کو چیلنج کرنے کا فن ہے، قانون کو موجودہ نظر و عینک سے دیکھنے کی فکری سوچ ہے، اخلاقی اصولوں کو تنقیدی سوچ سے پرکھنے اور سوال کرنے کی سوچ ہے۔ مابعد جدیدیت کا نہ تو کوئی ایجنڈا ہے، نہ ہی کوئی خوفناک سازش، یہ محض ایک سوچ کی تبدیلی کا رجحان ہے، یہ طاقتور بُتوں کو پرکھنے کی کوشش ہے، جو انسان کو خودساختہ سچائیوں، طاقت کے بیانیوں، اور تعصب پر مبنی اصولوں سے نجات کی طرف لے جانا چاہتی ہے۔ اس میں موجودہ علمی اور فلسفیانہ مفروضوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔
جیسا کہ ژاں فرانسوا لیوتار نے کہا کہ، مابعد جدیدیت بڑے بڑے بیانیوں (جامع نظریات) پر بے یقینی کا نظریہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی وضاحت کے لیے صرف ایک ہی جامع نظریہ قابل قبول نہیں ہوتا۔ ہر قوم، ثقافت اور فرد کو اپنی اپنی روشنی میں حقیقت بیان کرنے کی جگہ دی جاتی ہے۔ اس علمی رجحان کا مقصد عالمی سچائیوں کو چیلنج کرنا اور نئے زاویے دریافت کرنا ہے، نا کہ کسی شے کا مکمل انکار یا تباہی کی خواہش رکھنا مقصد ہے۔
مابعد جدیدیت کے مفکرین اور ناقدین میں ایک اہم خیال طاقت اور علم کے تعلق کا ہے۔ مثال کے طور پر، فرانس کے مفکر Michel Foucault نے طاقت/علم کا تصور دیا، جس کے مطابق معاشرے میں جو علم قبول کیا جاتا ہے وہ بھی طاقت کے اثرات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ کیسے طاقت کے محور ادارے ایک ہی سچ کو واضح کرنے اور پروان چڑھانے کے لیے اپنی توجہ مرکوز کیے رکھتے ہیں؟ فوکا کے مطابق طاقت صرف حکمرانوں تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ کے اداروں، اسکولوں، میڈیا اور بات چیت میں بھی واضح ہوتی ہے۔
یعنی طاقت اور سچ بنانے کے عمل میں ایک دوسرے کا گٹھ جوڑ ہے۔ اس نظریے نے پرانے حکومتی اور سائنسی مفروضوں کو چیلنج کیا (جو عدم ثبوت پر پھیلے ) اور ظاہر کیا کہ طاقت ور گروہ اپنی من مانی سچائیاں دوسروں پر مسلط کرتے ہیں۔ اسی طرح ژاں فرانسوا لیوتار نے نشاندہی کی کہ بڑے تاریخی بیانیے خود زیادہ تر طاقت کے ذریعے بنائے گئے بیانیے ہیں، اور جب ان پر تنگ نظری عیاں ہوتی ہے تو دوسرے نقطہ نظر خاموش ہو جاتے ہیں۔ مابعد جدیدیت کے مطابق ہر گروہ اپنی شناخت، زبان اور تاریخ کو اپنے تناظر میں بیان کرتا ہے، جس سے اس کے منفرد تجربات اور حقائق نمایاں ہوتے ہیں یوں طاقت اور استحصال کے جبر کا پتا چلتا ہے کہ کیسے کچھ بیانیے دوسروں کو دبانے میں استعمال کیے جاتے ہیں۔
مابعد جدیدیت ادب میں تنوع کو فروغ دیتی ہے، اس میں روایت پسندانہ یک رنگ رویوں کی بجائے مختلف بیانیہ کو، زبانوں اور اسالیب کو کھل کر پیش کرنے کی سہولت ملتی ہے۔
White man ’s burden
جیسے نظریات یا مغرب بالاتر ہے مشرق کم تر جیسے سخت جامد نظریاتی سوچوں پر تنقید کی ہے۔ جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں کہ، ادب، آرٹ اور دیگر شعبوں میں مابعد جدیدیت مختلف خیالات کے ملاپ کو اہمیت دیتی ہے۔ اس نظریے میں ’اعلیٰ فن‘ اور ’مقبول فن‘ کے درمیان روایتی فرق مٹ جاتا ہے اور نئے تجربات سامنے آتے ہیں۔ نتیجتاً ادب اور آرٹ میں یکسانیت کم اور کثیر آوازیں بڑھتی ہیں، ہر شاعر، فنکار یا مصنف اپنی مخصوص کہانی اور انداز بیان لاتا ہے، اور مجموعی طور پر ایک رنگارنگ ثقافتی منظر نامہ قائم ہوتا ہے۔
یک طرفہ کہانیاں، ایک ہی جیسے کردار، ایک جیسے بیانات کو جانچنے کا ہنر ہمیں مابعد جدیدیت میں ملتا ہے۔ مابعد جدیدیت کا مطلب ہر چیز سے انکار کرنا نہیں بلکہ ہر دعوے پر غور و فکر کرنا ہے۔ یہ نظریہ بتاتا ہے کہ ہمارا علم ہمارے ذاتی تجربات، ثقافتی پس منظر اور زبان وغیرہ سے جڑا ہوتا ہے، لہٰذا ہر فرد و معاشرہ حقیقت کو اپنی منفرد نظر سے دیکھتا ہے۔ اس طرح ہر ایک کی اپنی کہانی بنتی ہے اور کوئی ایک مطلق سچ سب پر لاگو نہیں ہوتا۔ مابعد جدیدیت کا مقصد معاشرے میں انتشار پھیلانا نہیں بلکہ ہر رائے کو سنا جانا اور تنقیدی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ یوں یہ ایک نئے فکری دروازے کا آغاز کرتی ہے جس میں مختلف آراء کو جگہ دی جاتی ہے اور علمی جستجو کو تقویت ملتی ہے


