پاکستانی عوام کی حسرتیں اور بجٹ
جالب بدل سکے گی نہ حالت عوام کی
ابھرے گی جب تلک نہ حکومت عوام سے
پاکستانی عوام کی حسرتیں تو بہت ہیں لیکن بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ عوام حسرتیں ہی پال سکتی ہے، ان کی حسرتیں پوری کرے کون کیونکہ ان کی حسرتوں پر اک اژدھا رکھوالی پہ بیٹھا ہے اگر وہ اپنی حسرتوں کا اظہار بھی کریں تو وہ ان کی حسرتوں کو نگل جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کی حسرتیں بھی بہت چھوٹی چھوٹی ہیں جیسا کہ دو اوقات کا کھانا، معاشرے میں عزت اور تحفظ کے ساتھ رہنا اور اپنے بچوں کا روشن مستقبل۔ اب ان کی حسرتوں کے لیے قومی خزانے پہ تھوڑی ہی بوجھ ڈالا جا سکتا ہے حکومت پاکستان کو اور بہت اہم کام ہیں جن کے لیے خزانے کے منہ کھلے پڑے ہیں۔
اہل اقتدار کو کیا واسطہ اس سے کہ اس ملک کے کروڑوں انسانوں کو دو وقت کی روٹی میسر ہے یا نہیں، انھیں اس سے کیا واسطہ کے ان کے شہریوں کو تحفظ صحت اور سلامتی حاصل ہے یا نہیں۔ وہ کیوں قومی خزانے سے اپنے شہریوں کو روشن مستقبل کی ضمانت دیں اس ملک کا ہر نوجوان روشن مستقبل کا حامل ہو گیا تو ایچی سن والوں کی جی حضوری کون کرے گا، اس ملک کا 99 فیصد طبقہ 1 فیصد طبقے کے آگے اپنے روشن مستقبل کے لیے اپنی آنکھوں میں حسرت، آس اور امید کی کرن لیے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے کون لگائے گا۔
پاکستانی عوام بھی بہت سادہ ہے جو ٹیکس دے کر بجٹ میں اپنے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں جس کے حصے دار اس ملک کی ایک فیصد اشرافیہ ہے جس نے ان پیسوں سے بڑے بڑے پنڈال سجا کے جمہوریت کا راگ بھی تو الاپنا ہے اور عوام کو پانچ سال کے لیے سہانے خواب بھی تو دکھانے ہیں۔ عوام کے علاوہ سب ہی کا حصہ ہے۔ حتی کہ وزیراعظم ہاؤس کے باغیچے کی سجاوٹ کا بھی حصہ ہے جہاں بیٹھ کے اہل اقتدار نے عوام کی کسمپرسی، افلاس، جاہلیت اور غربت کا جشن بھی تو منانا ہے۔
اگر حصہ نہیں ہے تو اس بیوہ ماں کا نہیں ہے جو اپنی پینشن کے سہارے اپنے یتیم بچوں کو پالتی تھی وہ حسرت اور آس بھی پینشن کی مدت دس برس کر کے اس سے چھین لی گئی۔ پاکستان میں پچھلے 77 برسوں میں سیاسی جماعتوں نے عوام کو بہت سہانے خواب دکھائے لیکن جمہوریت کے نام ان غیر جمہوری گرہوں نے عوام کا گلا گھونٹا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جو خالصتاً قومی خزانے میں عوام کے لیے حصہ تھا اس کے لیے محض 13000 مختص کرنا حکومت کی عوام دشمنی کا عملی ثبوت ہے۔
13000 میں تو ایک گھر کا راشن پورا نہیں ہوتا۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا ہو گا اس سے پہلے کے عوام کے ہاتھ ان کے گریبانوں تک پہنچ جائیں۔ آج پاکستان کی 45 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے چلی گئی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو اس سے کیا مطلب انہوں نے تو عوام کا پیسہ حکومتیں بنانے اور گرانے میں لگانا ہے۔ 2025۔ 2026 کا بجٹ ہو یا اس سے پہلے کے بجٹ ہوں تعلیم، صحت اور Human Development کے لیے حکومتوں نے ہمیشہ ہی ہاتھ کھڑے کیے ہیں۔ اس طرح پختون خواہ میں پچھلے 15 سال سے تحریک انصاف والوں کے پاس دینے کے لیے تنخواہیں نہیں، بلین ٹری پروجیکٹ، بی آڑ ٹی اور کوہستان سکینڈل سے اربوں روپے اپنی جیبیں بھرنے کے لیے تھے۔ ان کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں لیکن تبدیلی کے خواب دکھانے کے لیے تجوریوں کے منہ کھل جاتے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ ریاست پاکستان کو کچھ باتوں کا سنجیدگی سے احاطہ کرنا ہو گا۔ وزیر اعظم پاکستان اپنے گھر میں لگی آگ کو جلتا چھوڑ کر عوام کے کروڑوں روپیوں سے بیرونی دوروں میں مشغول ہیں۔ جناب وزیراعظم صاحب جب تک اپنے گھر میں لگی آگ نہیں بجھائیں گے تب تک بیرونی دوروں سے کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، جب تک عوام خوشحال نہیں ہوگی تب تک دنیا میں پاکستان کا امیج بہتر نہیں ہو گا۔ وزیراعظم صاحب خدارا سب سے پہلے اپنے وطن کے عوام کے بارے میں سوچیں اور ارض وطن میں لگی آگ کو بجھائیے اور عوام کی زندگیوں میں بہتری کے لیے اقدامات اٹھائے۔
چڑھ فریدا کوٹھے تے، ویکھ گھر گھر لگی اگ
توں سمجھیں میں دکھی آں، ایتھے دکھی سارا جگ

