میرے پیارے جونیئر اور فریش یونیورسٹی گریجویٹ طالب علم کے لیے ایک پیغام


جب ایک طالب علم یونیورسٹی سے فارغ ہو جائے تو اُس کے دل میں بڑے بڑے خواب ہوتے ہیں۔ لیکن ان خوابوں کو دفن کرنے کی سب سے بڑی غلطی وہ یہ کرتا ہے کہ وہ گھر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ آنے والے ٹیسٹ کی تیاری گھر بیٹھ کر کر لے گا۔ لیکن پاکستان میں گھر بیٹھے نوکری ملنا آسان نہیں، بلکہ تقریباً ناممکن ہے۔ چند ماہ گزرنے کے بعد گھر والوں کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض وقت ضائع کر رہا ہے۔ پھر وہ ”افلاطون“ بن کر قسم قسم کے مشورے دینے لگتے ہیں جیسے ”فلاں اسکول کا پرنسپل میرا دوست ہے، بیس ہزار تنخواہ دے گا، تمہارے جیب خرچ کے لیے کافی ہے، کیا کرو گے ویسے بھی گھر بیٹھ کر؟“

پھر یوں ہوتا ہے کہ روز نئے مشورے اور نئے دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، اور بالآخر طالب علم مجبور ہو کر پرائیویٹ ٹیچنگ شروع کر دیتا ہے۔ میں پہلے بھی کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ”پرائیویٹ ٹیچنگ کرنا خود کو ضائع کرنا ہے۔“ ایک بار اگر اس پرائیویٹ ٹیچنگ میں قدم رکھ لیا جائے تو طالب علم کا مستقبل دھیرے دھیرے برباد ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اُس کا جذبہ، اُس کی توانائی اور محنت کا جوش رفتہ رفتہ کم پڑ جاتا ہے۔ گھر والوں کی باتیں، معاشرے کی تنگ نظری، حسد اور طنز اس کے اعتماد کو دیمک کی طرح کھا جاتے ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ گھر والوں پر بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر یہی ”افلاطون“ اُسے ایسی ایسی باتیں سناتے ہیں کہ خود ضمیر بھی کانپ اٹھے۔

”فلاں کے ساتھ دکان پر لگ جاؤ“
”فلاں کی ٹیکسی چلا لو“
وغیرہ وغیرہ۔

یوں وہ طالب علم، جس کے پاس خوابوں کی ایک دنیا تھی، چند سالوں میں کسی اور کی دکان چلانے یا ٹیکسی چلانے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے : پھر ایک طالب علم کرے کیا؟ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ جب یونیورسٹی سے فارغ ہو جاؤ، تو ہرگز گھر پر بیٹھنے کی غلطی نہ کرو۔ اگر گھر والے تعاون کریں تو فوراً ایم فل شروع کرو، یا تو کسی بھی مقابلے کے امتحان (Competitive exam) یا بیرونِ ملک اسکالرشپ کے لیے تیاری، کسی دوسرے شہر میں ایک کرائے کے کمرے میں شروع کرو۔ ایسا کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ:

1۔ آپ کا جذبہ، حوصلہ اور استقامت برقرار رہتی ہے۔
2۔ آپ گھر والوں کے طعنوں اور معاشرے کی تنگ نظری سے محفوظ رہتے ہو۔

Facebook Comments HS