”تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے“: ایک عام فکری مغالطہ اور پاکستان
”تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے“ ۔ یہ جملہ ہم پاکستانی اکثر بولتے اور سنتے ہیں۔
ملک میں کئی بار مارشل لا لگائے جانے کی بات ہو، ایک ہی سیاسی جماعت کے بار بار اقتدار میں آنے کا معاملہ ہو، ایک ہی طرح کے سانحے کا بار بار وقوع پذیر ہونا ہو، یا آزادی سے لے کر اب تک مجموعی طور پر ملک کو ایک سے مسائل کا سامنا کرنے کی بات ہو، ہم بے اختیار کہ اٹھتے ہیں، کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔
مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ یا ہم محض ایک آسان مگر ایسے خطرناک فکری مغالطے کا شکار ہیں، جس نے نہ صرف ہمارے اجتماعی شعور کو بری طرح مفلوج کر رکھا ہے بلکہ جو ہمیں ہماری غلطیوں سے سیکھنے سے بھی روکے ہوئے ہے؟ آئیے اس خیال کو مختلف دانشوروں اور فلاسفہ کے نکتہِ نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
معروف دانشور علی عباس جلال پوری تو اس تصور کو ایک عام فکری مغالطہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی مشہور کتاب ”عام فکری مغالطے“ میں اس تصور کو تنقیدی نگاہ سے پرکھتے ہوئے ایک پورا مضمون اس تصور کے رد پر باندھا ہے۔ جلالپوری صاحب کا موقف ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی نہیں، اصل میں ہم سیکھتے ہی نہیں ان کے نزدیک یہ ایک غلط العام اور سادہ لوحی پر مبنی تصور ہے جو حقیقت کو مسخ کرتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :
”جب انسانی شعور ہر لمحہ ارتقا پذیر ہے تو پھر تاریخ کِس بنیاد پر خود کو دہرا سکتی ہے؟“
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تصور ہمیں عمل، تجزیے، اور ماضی سے سبق سیکھنے سے کوسوں دُور لے جاتا ہے۔ ہم یہی سوچتے ہیں کہ چونکہ پہلے ایسا ہو چکا ہے، لہذا اب بھی ایسا ہی ہو گا۔ اور یوں ہم کوئی نئی راہ تلاش کرنے کے بجائے ماضی کی زنجیروں میں قید رہتے ہیں۔
بعض مفکرین، جیسا کہ آرنلڈ ٹوین بی، یہ ضرور کہتے ہیں کہ تہذیبوں کے زوال اور عروج میں کچھ ”پیٹرن“ پائے جا سکتے ہیں، مگر وہ بھی انہیں جزوی مشابہتیں قرار دیتے ہیں، ان کا مکمل دہراؤ نہیں مانتے۔ ٹوین بی کی کتاب A Study of History میں تہذیبوں کے ردعمل (challenge and response) کا ماڈل دیا گیا ہے، جس میں قومیں ایک جیسے چیلنجز پر مختلف ردعمل دیتی ہیں۔ ٹوین بی کا نکتہِ نظر یہ ہے کہ تہذیبیں قتل نہیں ہوتیں۔ وہ خودکشی کرتی ہیں (یعنی داخلی کمزوری سے مرتی ہیں ) ۔
اور یہ بھی کہ تہذیبوں کا عروج جنگوں یا جینیاتی برتری سے نہیں ہوتا، بلکہ فکری اور اخلاقی توانائی سے ہوتا ہے۔ نیز یہ کہ معاشرے کی ”تخلیقی اقلیت“ ہی وہ لوگ ہیں جو چیلنج کا مثبت جواب دیتے ہیں اور اپنی تہذیبوں کو بچاتے یا بناتے ہیں۔ ٹوین بی کا ”چیلنج اور ردعمل“ کا نظریہ ہمیں یہ سکھلاتا ہے کہ چیلنجز مقدر نہیں ہوتے، بلکہ مواقع ہوتے ہیں۔ اور ان چیلنجز پر دیا گیا ردعمل ہی کسی قوم یا تہذیب کا اصل امتحان ہوتا ہے۔
تاریخ اُنہی قوموں کو زندہ رکھتی ہے جو چیلنجز کا تخلیقی جواب دیتی ہیں، اور زوال اُن کا ازلی مقدر ہوتا ہے جو صرف شکایت کرتی ہیں یا ماضی میں جیتی ہیں۔ ٹوین بی کے اس نظریے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قوموں کو پیش آنے والے مسائل اصل میں تاریخ یا تقدیر کا جبر نہیں، بلکہ ان قوموں یا ریاستوں کے اپنے افعال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
نطشے نے ”ابدی تکرار“ (eternal recurrence) کا نظریہ تو پیش کیا، لیکن یہ ایک مابعدالطبیعاتی تصور تھا، نہ کہ حقیقی تاریخ کا تجزیہ۔ نطشے کا خیال تھا کہ اگر انسان یہ تصور کرے کہ اس کی زندگی بار بار جوں کی توں دہرائی جائے گی، تو وہ اپنے فیصلوں میں گہرائی لائے گا۔ یاد رہے کہ اس بات کا تعلق اخلاقیات سے ہے، نہ کہ تاریخ نگاری سے۔
اسی طرح مارکس نے کہا تھا۔
”History repeats itself, first as tragedy, then as farce“
مگر مارکس کا یہ کہنا دراصل نپولین کے بھتیجے، لوئی نپولین کی مثال کے تناظر میں دیا گیا طنزیہ بیان تھا نہ کہ کوئی فلسفیانہ اصول۔
ہیگل کے نزدیک انسانی تاریخ ایک ڈائلیکٹیکل عمل ہے۔ thesis، antithesis، اور synthesis کے اصول پر ۔ تاریخ آگے بڑھتی ہے، دہراتی نہیں۔
تاریخ سے نہ سیکھنا پھر سے انہیں حالات و واقعات کا باعث بنتا ہے جو پہلے بھی پیش آ چکے ہوں۔ یعنی اصل وجہ ہمارا اپنا تاریخ سے کوئی سبق نہ لینا ہے۔ اگر ہم پاکستانی پسِ منظر میں دیکھیں تو بات بہت واضح ہو جاتی ہے کیوں کہ نہ تو پاکستانی ریاست، اور نا ہی پاکستانی عوام نے آج تک اپنی تاریخ سے کوئی سبق سکھا ہے۔
ایسٹ پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی بات کریں تو جو کچھ ہم نے اس وقت ایسٹ پاکستان میں کیا وہی کچھ کم و بیش بلوچستان میں بھی کیا جا رہا ہے۔ اور نتیجتاَ حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ بلوچستان میں بھِی اب علیحدگی کی تحریک زور پکڑ رہی ہے۔ بی ایل اے اور اس طرح کی دیگر تنظیمیں اسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ انہیں معاملے کی اس انتہائی سطح پر کس نے پہنچایا۔ کیا ریاست نے بلوچوں کے وسائل پر ان کا حق عملی طور پر تسلیم کیا؟
بلوچستان میں ترقیاتی کام باقی صوبوں کی نسبت کس قدر کیے گئے؟ کیا مزاحمت کاروں کے ساتھ دھوکہ دہی نہیں کی گئی؟ قرآن کے نام پر اور عام معافی کا جھانسا دے کر انہیں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کر کے انہیں مار نہیں دیا گیا؟ بلوچستان کے حقوق کی بات کرنے والوں کو غائب کر دینا، ان کی لاشیں ویرانوں میں پھینک دینا، یہ سب نہیں ہو رہا؟ اور تو اور بلوچ خواتین جب اپنے مسنگ پرسنز کے لئے احتجاجاَ اسلام آباد آ کر مظاہرہ کرتی ہیں تو ان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے، وہ کس کی نظر سے اوجھل ہے؟
سوال یہ ہے کہ یہ سب کر کے ریاست کو کیا ملا؟ بلوچوں کی پاکستان سے مزید نفرت؟ بلوچستان میں آئے روز مزاحمت کاروں کی شدید سے شدید تر ہوتی کارروائیاں اور اس سکیل پر کے بہت سارے اضلاع میں تو حکومت کی رٹ مذاق بن کر رہ گئی ہے۔ علیحدگی پسندوں کی پاکستان سے نفرت کا اب یہ عالم ہو چکا ہے کہ وہ ریاست یا حکومت سے سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتے۔ اور آئے روز ان کی کارروائیوں میں شدید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ میڈیا پر سخت کنٹرول ہونے کی وجہ سے بہت سے معاملات قومی سطح پر سامنے نہیں آتے ہی نہیں ورنہ اندرونی طور پر تو حالات نہایت کشیدہ ہیں۔ لوگوں کے گمان سے بھی زیادہ۔ اور یہ سب کیوں؟ وجہ؟ بنگلہ دیش بننے کی وجوہات سے سبق نہ سیکھنا۔ تو کل کو خدا نہ خواستہ اگر بلوچستان بھی پاکستان سے الگ ہو جاتا ہے تو یہ کہنا غلط ہو گا کہ تاریخ نے خود کو دہرایا ہے۔ سچ تو یہ ہو گا کہ پاکستانی ریاست نے بنگلہ دیش والے واقعے سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
سیاسی قیادت کے بحران کی بات کریں تو ہم نے آج تک بھٹو کو مرنے نہیں دیا، شریف خاندان کو ابھی بھی ایل غالب اکثریت ملکی مسائل کا مداوا سمجھتی ہے۔ حالانکہ ہم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ دونوں کے دور ہائے اقتدار دیکھ چکے ہیں دونوں پارٹیوں نے مجموعی طور پر ملکی حالات کو خراب سے خراب تر ہی بنایا۔ مگر پھر بھی ووٹ اب بھی بھٹو کا ، بی بی کا ۔ یا نواز شریف کا ۔
عمران خان کی بات کریں تو اس کی ساری زندگی ہمارے سامنے رہی ہے۔ اکثریت کو یہ علم تھا کہ وہ آب پارہ والوں کے کاندھوں پر سوار ہو کر مسندِ اقتدار پر فائز ہوا، اس وقت تو عمرانی لوگ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ جی ایچ کیو اور بنی گالہ ایک پیج پر ہیں۔ مگر پھر بھی اس پر اندھا اعتماد کیا۔ پر ہوا کیا؟ خان صاحب نے ہر وہ بات کی جسے لے کر وہ اپنے سیاسی مخالفین کو ہدفِ تنقید بنایا کرتے تھے۔ اس میں الیکٹیبلز پر انحصار، فوجی جرنیل کو ایکسٹینشن دینا اور اسی طرح کے دوسرے معاملات شامل ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے قول و فعل میں تضاد اس قدر واضح ہو گیا کہ لوگ انہیں یو ٹرن خان کہنا شروع ہو گئے۔ مگر عوام نے اس سب سے کوئی سبق نہیں لیا اور ابھی بھی اچھی خاصی تعداد اس کی دیوانی ہے اور اسے مسیحا سمجھتی ہے۔
ان سب باتوں کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ ملکی حالات ہر دور میں خراب رہے۔ سیاست ہمیشہ بحران کا شکار رہی، اور معاشی ترقی ایک خواب رہی۔ بہ ظاہر یہ تاریخ کا خود کو دہرانا ہی ہے، مگر اصل میں یہ سب ہمارا ماضی سے کچھ نہ سیکھنے کا شاخسانہ ہے۔ پاکستان میں بار بار جمہوریت کے تعطل اور آمریت کی واپسی پر یہی کہا جاتا رہا کہ ”ہماری قوم کو آمریت راس آتی ہے“ یا ”پاکستانی سیاست دان ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں اور تاریخ نے یہ ثابت کیا ہے!“ یعنی بقولِ شاعر، اس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے۔ لیکن ایسا سمجھنا اور کہنا دراصل عوام کی اجتماعی بے حسی، ادارہ جاتی کمزوری، اداروں کا اپنی آئینی حدود سے تجاوز اور عوام میں شعور کی کمی کی علامت ہے۔
پاکستان میں مارشل لا نافذ کرتے ہوئے ہر ڈِکٹیٹر نے یہی دعوی کیا کہ ایسا کرنا ”ملک کو بچانے کے لیے ضروری تھا“ ۔ مگر ایک بار بھی سیاست دانوں نے ان وجوہات پر غور کرنا مناسب نہیں سمجھا جو مارشل لا لانے کا باعث بنیں۔ ہر بار فوجی ڈِکٹیٹرز کو قانونی تحفظ فراہم کرنے والی عدلیہ نے نظریہ ضرورت کی چھتری فراہم کی، عوام کی اکثریت نے ان مارشل لاز کو ”تاریخ کی تکرار“ سمجھ کر قبول کر لیا۔ مگر سبق کسی ایک طبقے نے حاصل نہیں کیا۔ اگر آج بھی بہ ظاہر حکومت سویلین نظر آتی ہے، مگر اصل شارٹس لگانے والے کوئی اور ہیں تو اس کی وجہ یہی ہے کہ سیاست دانوں، عدلیہ، وکلا، اور عوام آج تک ماضی کی غلطیاں دہراتے چلے آ رہے ہیں۔ ایسے میں نتیجہ وہی نکلنا ہے جو صورتِ حال پاکستان کی اس وقت ہمارے سامنے ہے۔
کس کس معاملے کو لے کر بات کی جائے۔ ہم سانحات کو تاریخ کا تسلسل سمجھ کر انہِیں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد پورے ملک نے ”کبھی نہ بھولنے“ کا وعدہ کیا۔ لیکن سانحہ مستونگ، سانحہ مچھ، سانحہ رحیم یار خان، اور پے در پے دہشتگردی کے دیگر واقعات پر ہماری بے حسی اور ریاست کی ”وہی اک چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی سو اب بھی ہے“ والی صورتِ حال نے ظاہر کر دیا ہے کہ بھول جانا ہماری قومی روایت ہے۔ ریاست اب بھی ان سانحات کی وجوہات پر غور کرنے اور ان کے تدارک کے لئے کچھ ٹھوس عملی قدم اٹھانے کی بہ جائے ان وجوہات کو مزید طاقت ور بنا رہی ہے جو ایسے سانحات کا باعث بنتی رہی ہیں۔ المختصر تاریخ سے سبق سیکھنا کبھی بھی ہمارا شعار نہیں رہا۔
ان سب باتوں سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہم جس طرح کے حالات کا شکار رہتے رہے ہیں ان کی وجہ تاریخ کا خود کو دہرانا نہیں بلکہ یہ ہماری ریاستی شدت پسندی، ریاست کا شہریوں کے حقوق غصب کرنے کی عادت، پرائے معاملات میں ٹانگ اڑانے کی پالیسی، اداروں کے اپنی حدود سے تجاوز، اور عوام کی اجتماعی بے حِسی، نالائقی، اور بے عملی کا نتیجہ ہے۔
ہیگل کہتا ہے کہ:
”The only thing we learn from history is that we learn nothing from history“
ہیگل کا یہ طنزیہ جملہ پاکستانی معاشرے پر حرف بہ حرف صادق آتا ہے۔
اس عام فکری مغالطے کا نقصان کیا ہے؟ ایک یہ کہ سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ دوئم، ذمہ داری دوسروں یا تقدیر پر ڈال دی جاتی ہے۔ اور سوئم، نظام کی اصلاح کی کوشش ترک کر دی جاتی ہے۔ جب ہم یہ مان لیتے ہیں کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، تو ہم اپنے اعمال کے اثرات سے آنکھیں چراتے ہیں۔ گویا ہم کہتے ہیں، ”کچھ بھی کر لو، ہونا تو یہی تھا!“ ۔ اور یہی وہ سوچ ہے جو قوموں کو مفلوج، اور انہیں بے عملی کی جانب مائل کرتی ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ جوابات بہت مشکل نہیں۔ اول، تاریخ کا تجزیہ کریں، دوئم، غلطیوں سے سیکھیں، ایک ہی غلطی بار بار مت دہرائیں۔ سوئم، سماجی اور سیاسی شعور کو بیدار کریں۔ اور چہارم، نوجوانوں میں تنقیدی شعور کو اجاگر کریں critical thinking کی جانب مائل کر کے انہیں فکری طور پر empower کریں۔
حاصلِ بحث، علی عباس جلالپوری نے درست کہا تھا۔ تاریخ دہراتی نہیں، بلکہ انسان اپنی ناسمجھی دہراتا ہے۔ اور بدقسمتی سے پاکستان کی تاریخ اس ناسمجھی کی ایک بڑی مثال بنتی جا رہی ہے۔ ”تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے“ ، بظاہر ایک انتہائی سادہ سا جملہ ہے، لیکن اگر اسے بغیر سوچے قبول کر لیا جائے تو یہ ہمیں غلط نتائج، محدود سوچ، اور عمل سے گریز کی طرف لے جاتا ہے۔ کل ملا کر یہ کہ تاریخ خود کو نہیں دہراتی، البتہ انسان اگر نہ سیکھے تو وہی غلطیاں دہرا سکتا ہے۔
لہٰذا اگر ہم واقعی آگے بڑھنا چاہتے ہیں، اپنے حالات بہتر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس مغالطے سے نجات پانا ہو گی۔ ”جو ہو رہا ہے، پہلے بھی ہو چکا ہے“ کے بیانئے کو ترک کر کے یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اگر ہم نے خود کو نہ بدلا، تو سب کچھ ویسا ہی ہوتا رہے گا۔ اور وہ وقت دور نہیں جب اس بے عملی کے اثرات ایک ناقابلِ تلافی المیہ کی صورت میں ہم سب کو بھگتنے پڑ جائیں گے۔


