جاپان کا تاج محل ”نکو شرائن کی چندھیا دینے والی الوہی روشنی کے سامنے“ (آخری قسط)
سیکوسن میرے کہنے پر رک گئی اور میں قدم روک کر عظیم الشان عمارت کو دیکھنے لگا۔ جو اس قدر شاندار اور عظیم الشان تھی اور اس کا حسن اور جلال اتنا مسحورکن تھا کہ مجھے تیز بارش اور اس کے تند و تیز تھپیڑوں کا کوئی ہوش نہیں رہا۔ میں نہ جانے کتنی دیر تک بارش سے بے پرواہ ہو کر اس کو دیکھتا رہا۔
گیٹ کے باہر دونوں طرف گارڈین دیوا کے مجسمے ایستادہ تھے جو اس کا محافظ ہے۔ آگے گئے تو سامنے منبت کاری دیکھی۔ سیکوسن نے ہاتھی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ہاتھی کی منبت کاری ایک ایسے مجسمہ ساز نے کی تھی جس نے کبھی بھی ہاتھی نہیں دیکھا۔ اس کی ڈرائنگ دیکھی تھی۔ پہلے تو تصور نہیں کر سکتا تھا لیکن اب یہاں رہ کر اندازہ ہوا ہے جاپانی ہر کام کر سکتے ہیں۔ چلو کچھ تو مانا آپ نے یہ کہتے ہوئے چیری بلازم کھل اٹھے۔
آگے بڑھے تو دائیں طرف کیوزو کا بورڈ تھا۔ میں نے پوچھا اب یہ کیا ہے۔ اس میں شاید جنگل کے ان تمام جانوروں کے مجسمے ہوں گے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ اس میں گوتم بدھ کے 7000 مقدس کلمات ہیں۔ جدید گوتم بدھوں سے فارغ ہوں گے تو آرام سے بیٹھ کر پڑھیں گے میں نے کہا۔ ساتھ ہی مقدس چشمہ تھا۔ جس کے پانی سے جاپانی لوگ منہ دھو کر خود کو گناہوں سے پاک کر رہے تھے کچھ لوگ پویتر پانی کو اپنے اندر انڈیل رہے تھے۔ میں نے کہا: ”سیکوسن ہمارے لیے آب زم زم مقدس پانی ہے۔ لگتا ہے ہر قوم نے آب زم زم کی طرح اپنا اپنا آب زم زم بنایا ہوا ہے۔ عیسائی اسی مقدس پانی سے بپتمسمہ دیتے ہیں۔ ہندو گنگا جل میں نہا کر پاکیزہ ہو جاتے ہیں۔ جاپانیوں کے لیے نکو شرائن کے اس چشمے کا پانی ان کی روحوں کو ارفع و اعلیٰ بناتا ہے۔
تھوڑا سا آگے گئے سامنے باکوشیدا کا ٹمپل ہے۔ جو اس شرائن میں اکلوتی بدھیت عمارت ہے اور یہ اپنے پریشان ڈریگن کی وجہ سے مشہور ہے۔ اس کے اندرونی چیمبر کی چھت پر ڈریگن کی پینٹنگ ہے۔ اس کے لیے علیحدہ ٹکٹ تھا۔ سیکو نے بتایا کہ جب ہم توشوگو شرائن میں داخل ہوئے تھے تو اس نے اس کا ٹکٹ حاصل کر لیا تھا۔ اس نے مجھے لا کر ایک ایسی جگہ کھڑا کیا جہاں پر ایک دائرہ لگا تھا۔ میں اس کے اوپر کھڑا ہو گیا۔
”اب آپ تالی بجائیں۔“
میں نے تالی بجائی۔ ویسے بھی جاپان میں کہیں بھی اور کسی بھی شرائن میں داخل ہوں تو یہی منظر سامنے آتا ہے لوگ شرائن میں داخل ہونے سے پہلے پاکیزہ پانی سے اپنے ہاتھ منہ دھوتے ہیں پھر شرائن میں داخل ہو کر تالی بجاتے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ وہ بھگوان کو جگاتے ہیں۔ تالی سے اس کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے ہیں۔
”سیکوسن آپ لوگ اور آپ کی قوم عجیب ہے اور اس پر بھگوان۔ جن کو جاگنا چاہیے وہ سوتے رہتے ہیں، جسے سونا چاہیے وہ جاگ رہے ہیں۔ آپ کے بھگوان سو رہے ہیں اور قوم جنگ عظیم دوم کی آگ سے نکل کر جاگ گئی ہے اور کندن بن گئی ہے۔ اس لیے آپ کے بھگوان لمبی تان کر سو گئے ہیں۔“
میں نے اس مخصوص جگہ پر کھڑے ہو کر تالی بجائی۔ تو اس کی صدائے بازگشت ایسے محسوس ہوئی جیسے کوئی ڈریگن دھاڑ رہا ہے۔
یہاں سے نکل کر جب ہم شرائن کے صحن سے ہوتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آئے تو ایک نئی دنیا ہم پر آشکار ہوئی۔ ہمارے سامنے جاپان کا خوبصورت مزین گیٹ تھا۔ اور شاید ہی کرہ ارض پر ایسا خوبصورت عمارت ہو جس کو اتنی محنت سے اور خوبصورتی سے بنایا گیا ہو اور یومائے مان گیٹ جاپانی زبان میں اس کو ہگوراشی مان رکھا گیا جس کا مقصد یہ ہے کہ آپ اس کے حسن سے اتنا مسحور ہوتے ہیں کہ دن گزر جاتا ہے حتیٰ کہ رات آپ کو آ لیتی ہے۔ آپ کو وقت کا پتہ نہیں چلتا اور واقعی اس کا اندازہ آپ کو اس وقت ہوتا ہے جب روشنی کا ہالہ آپ کے سامنے آ جاتا ہے۔
یہ عمارت آرٹ اپنے طرز تعمیر اور صناعی کا بہترین نمونہ تھی۔ یہ عمارت چینی طرز تعمیر میں تھی۔ جس کے ایک ایک انچ کو بڑی محنت اور عرق ریزی سے بنایا گیا تھا۔ ان کے دروازوں اور کھڑکیوں کا حسن اپنی جگہ، اس کی زیبائش اور آرائش اپنی جگہ۔ چھوٹی سی چھوٹی تفصیل میں اساطیر کی وسیع و عریض دنیا آباد تھی اور سمندر کو قطرے میں سمو دیا گیا تھا۔ کیرامان گیٹ اور یومائے مان گیٹ دونوں خوبصورت ہیں اور صناعی کا عظیم الشان نمونہ۔ ان کے دروازے، کھڑکیاں اور دوسرے حصوں کو جس محنت اور خوبصورتی سے بنایا گیا ہے اور ان کی زیبائش و آرائش پر کام کیا گیا ہے وہ نہ صرف حیران کن بلکہ کیرامان گیٹ کے اوپر جو سفید رنگ میں شکلیں ہیں وہ چینی جنت میں ماکوسین شوکی مشہور کہانی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ دوسری تین شکلیں تین اسکالروں کی ہیں جو وائین کا ذائقہ چکھ رہے ہیں۔ ان کے چہرے کے تاثرات سے لگتا ہے کہ وائن انہیں ترش لگ رہی ہے۔ اس طرح ان گنت اساطیر کو کارونگ میں ڈھالا گیا ہے۔ سامنے سے دیکھیں تو مشہور چینی تخلیق کار فووائیشی اور اس کے دو بیٹوں کا امیج ہے اور یوئے مان گیٹ کی دوسری مرکزی بیم پر وائٹ ڈریگن کی شکل کھدی ہے۔ اوپر کی بیم پر بچے کھیل رہے ہیں۔ بالکونی کو جن بریکٹوں کا سہارا دیا گیا ہے ان کو پیونی پھولوں اور شیروں کی شکل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جنہوں نے بالکونی کو سہارا دیا ہوا ہے اور ان کے درمیان چینی درویش براجمان ہے۔ اس شرائن کا زمانہ وہ ہے جب چینی سکالر، آرٹسٹ اور تاجر جاپان آ کر رہنے لگ گئے تھے۔ اس طرح جاپانی آرٹسٹوں نے ان کی خدمات مستعار لے کر ان سے سپیشل ڈیزائن تخلیق کرائے اور جاپانی کاریگروں نے اپنی بے مثال صناعی سے ان کو لازوال بنا دیا۔
نکو شرائن میں تین بندروں کی منبت کاری کو کمال حاصل ہے۔ یہ دیوار کے بالکل اوپر ہے۔ اب نکو شرائن اور تین بندر لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ خوبصورت کندہ کاری، لکڑی، ہاتھی دانت اور پلاسٹک پر ان بندروں کی تصویروں کے سوونیئر ہر دکان پر موجود ہیں۔ جن کو دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح بڑے شوق کے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس میں ایک بندر نے کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے ہیں، دوسرے نے زبان پر، تیسرے نے آنکھوں پر اور اس کی انٹرپریشن اس طرح کی جاتی ہے کہ ان تین بندروں کے ایکشن میں انسان کے لیے پیغام ہے کہ برائی کو مت دیکھو، برائی کو مت سنو اور برائی کا اظہار مت کرو۔ اس کی تخلیق میں تو جو حسن ہے وہ اپنی جگہ لیکن ان کے معانی میں بھی ایک زبردست پیغام پنہاں ہے۔
جاپانی فلاسفی میں، ہندوستانی اور چینی فلاسفی کا کافی اثر رہا ہے۔ اس تخیل کو کہاں سے لیا گیا معلوم نہیں ہو سکا۔ بے پناہ لٹریچر اس سلسلے میں کھنگالا گیا لیکن اس کی اوریجن کا علم نہیں ہے۔ صرف ایک خیال ہے کہ مشہور چینی فلاسفر کنفیوشس کے مقالات سے اس اچھوتے تخیل کو لیا گیا ہے۔ چونکہ توکوگاوا پیریڈ میں کنفیوشس کی فلاسفی بہت مقبول تھی۔ چنانچہ جس آرٹسٹ نے بھی اس تخیل کی شرائن میں تجسیم کی وہ لازماً کنفیوشس کے افکار کے بارے میں ضرور جانتا ہو گا۔ تین افکار تو وہی ہیں جن کا اوپر ذکر آ چکا ہے۔ چوتھا یہ تھا برائی سے بچو۔ چونکہ اس میں ایکشن کا اظہار برائی کرنے کا تعمیر میں نہیں ہو سکتا تھا یا اس کے اظہار کی کسی بھی جہت کو نامناسب سمجھا گیا۔ بہرحال جب تک دنیا قائم رہے گی نکو شرائن میں اس تخیل کا خوبصورت اظہار بھی قائم رہے گا۔
میں نے مسز سمبرانو سے کہا وہ دادا رحمان کو بلائے۔ جب سمبرانو نے اسے بلایا تو اس کے اشارے پر دادا بھاگتا ہوا آیا اور آتے ہی کہا:
”سمبرانو میرے لیے کیا حکم ہے۔“
میں نے کہا: ”دادا میں نے بلوایا تھا۔ میں آپ کو ایک بہترین تخلیق کے بارے میں بتانا چاہتا تھا۔ وہ دیکھو تین بندر۔“
”دادا بندر دکھانے کے لیے مجھے بلایا گیا، یہ بھی کوئی تخلیق ہے۔“ اس نے سمبرانو کے چہرے پر نگاہیں گاڑتے ہوئے کہا۔
”دادا بندروں کی تخلیق کے پس منظر میں ایک فلاسفی ہے کہ برائی کی ہر جہت سے بچو اور اس کا اظہار کتنے بہترین طریقے سے ہوا ہے۔“
”دادا یہ بات تو اس تخلیق والی بات سے بھی بدتر ہے۔ میں یہاں نہ بندر دیکھنے آیا ہوں اور نہ ان کی نصیحتیں سننے! تم نے اپنا وقت ضائع کرنا ہے تو کر لو لیکن ہمارا وقت ضائع نہ کرو میں اپنے مشن پر ہوں، دعا کرو میں اپنے مشن میں کامیاب ہووں۔“ دادا نے آنکھ میچتے ہوئے سمبرانو کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایک طرف لے کر چلا گیا۔
بارش رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور میں دعائیں مانگ رہا تھا کہ رک جائے۔ آج کا جلوس تو صحیح طریقے سے دیکھ لیں۔ لیکن نہ بارش کو اس کا خیال تھا نہ جلوس کو اس کی پرواہ۔ جوان، بوڑھے، بچے خوشی کے نعرے لگاتے، بارش کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑھ رہے تھے اور اس وقت میری حیرانی کی حد نہ رہی جب سکول کے بچوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اپنے سکولوں کی یونیفارم پہنے برستی بارش میں سکون کے ساتھ بیٹھے گروپ فوٹو بنوا رہے تھے۔ یا خدایا یہ کون اور کیسے لوگ ہیں جو اس طوفان تند و تیز سے بھی نہیں گھبراتے۔
سیکوسن نے بتایا کہ وہ بھی مئی کا ایک دن تھا جب ایک بڑے جلوس نے ساتھ بہتے دائیا دریا کے اوپر مقدس سرخ پل کو عبور کر کے مشہور شوگن آئیاسو کا جسم خاکی یہاں لحد میں اتارا۔ اس واقعہ کی یاد میں ایک بڑا جلوس ہر سال کی طرح آج بھی شرائن پر حاضری دینے آیا تھا۔ یہ اتنا شاندار جلوس تھا۔ کہتے ہیں تمام جاپان میں اس جلوس کا مقابلہ کوئی جلوس نہیں کر سکتا۔ 17 مئی کو توکوگاوا خاندان کے وارث اس مقدس پل کو عبور کر کے شرائن میں آتے ہیں اور ان تینوں عظیم ہستیوں کو ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں اور آئیاسو یوری تومو اور ہدیوشی ان تین شوگنوں کی یاد میں شرائن کی شکل کے بنے ہوئے تین پورٹیبل شرائن اٹھا کر یومائے مان گیٹ میں سے گزرتے ہیں جو کہ سورج کی روشنی کا دروازہ ہے اور یہ وہیں موجود رہتے ہیں۔ جب تک کہ عوام کا جلوس اگلے روز وہیں نہیں پہنچ جاتا اور آج وہ جلوس پہنچ چکا تھا اور اس جلوس کو دیکھنے کے لیے بے پناہ ہجوم اکٹھا ہو گیا تھا۔ جس میں ایک طرف دادا رحمان، خالصی اور ہمارے جیسے اجنبی لوگ بھی موجود تھے۔ گھوڑوں کے سموں کی ٹپ ٹپ کی آواز آ رہی تھی۔ ایک سو سپاہی زرہ بکتر اور جنگی لباس میں ملبوس دو رویہ قطاریں بنا کر چل رہے تھے۔ ان کے ساتھ سامورائے کا کاسٹیوم پہنے گارڈ تھے۔ نیزے اور تیر کمان اٹھائے، بندوقیں تھامے، جلوس شوگن کے حضور عقیدت کے لیے حاضر تھا۔ اس کے ساتھ بارہ جنگجو امراء سروں پر ہیٹ پہنے ہوئے تھے جو اس دن کے بارہ گھنٹوں کی نمائندگی کرتے تھے۔ کچھ آدمیوں نے لومڑوں کے ماسک پہنے تھے۔ جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نکو کے گرد پہاڑوں میں توشوگو شرائن کی حفاظت کرتے ہیں اور اس جلوس میں شنٹو پروہت شاندار لباس اور شاندار طریقے سے شامل ہیں وہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا۔ کچھ لوگ پیدل تھے، کچھ گھوڑوں پر سوار اور کچھ مختلف سائز اور ڈیزائن کے مختلف رنگوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔ یہیں پہ شنٹو موسیقاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ شروع کر دیا تھا۔ بڑے بڑے ڈرم کی بھرپور آواز سے ماحول گونج رہا تھا۔ شرائن کی گھنٹیاں بجنا شروع ہو گئی تھیں۔ کچھ لوگ حنوط کیے گئے باز اٹھائے ہوئے تھے۔ ان کے عقیدے کے مطابق ان پورٹیبل شرائن پر شوگنوں کی روحیں موجود اور اس جلوس میں شامل تھیں۔
اب میرے سامنے نہ گھڑ سوار تھے، نہ باز تھے، نہ تیر انداز، نہ زرہ بکتر، نہ جنگجو، نہ سپہ سالار، نہ مکوشی، نہ شوگن البتہ ان کی روحوں کی یاد منانے والوں کا ایک نہ ختم ہونے والا جلوس تھا۔ جو برسی بارش میں نیلے پیلے چھاتے لئے بڑھا چلا آ رہا تھا۔ چھاتے سے چھاتا ٹکرا رہا تھا اور کندھے سے کندھا۔ میں سیکوسن کے گرم سانسوں کی حدت محسوس کر رہا تھا۔
سیکوسن نے کہا اب یہاں پر آپ نے بہت خیال رکھنا ہے۔ اب یہاں لوگوں کا ایسا سونامی آنا ہے کہ خود پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچے ماں سے بچھڑ جاتے ہیں، پریمیوں کے ہاتھ چھوٹ جاتے ہیں، آپ میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑے رکھیں۔
میں نے سونامی کا لفظ کئی سال پہلے سیکوسن کے منہ سے سنا تھا ایک نکو شرائن کی یاترا کے وقت، دوسرا جب میں نے ہیروشیما کے ٹور پر وہاں کی انتظامیہ کی طرف سے دی گئی دعوت میں ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے جاپانی زبان میں تقریر کی تھی۔ میری انگلش کی تقریر کا جاپانی زبان میں خوبصورت ترجمہ سیکوسن اور ماتسوموتو نے کیا تھا۔ اس وقت سیکوسن نے کہا تھا کہ آپ کی سپیچ کا ترجمہ تو ہم نے کر دیا ہے لیکن اس میں جو آپ کے جذبات کی سونامی ہے اس کو ہم اپنی زبان میں منتقل نہیں کر سکے۔
یومائے مان گیٹ سے کیرامان گیٹ تک کا راستہ سکول اور کالج کے بچوں اور سیاحوں سے بھرا پڑا تھا۔ سیکوسن نے مجھے کہا کہ کیرامان گیٹ کی جس خوبصورتی کے ساتھ کارونگ کی گئی تھی الوہی روشنی سے آنکھوں کی چندھیا رہی تھی۔ جس کی زیارت کے لیے لمحہ بہ لمحہ لوگوں کی تعداد میں اور ان کے جوش و خروش میں تیزی آ رہی تھی۔ آخر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ لوگوں کا ہجوم سمندر کی تند و تیز لہروں کی طرح بڑھ رہا تھا اور اس کا ایک ریلا تو اس طرح آیا کہ ہم خود پر قابو نہ پا سکے اور اس ریلے میں جدا ہو گئے۔





