پاکستان میں شناخت کا بحران: مقامی جڑوں سے انقطاع


پاکستان اس وقت ایک گہرے شناخت کے بحران سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے قومی شناخت کے بارے میں ایک وسیع خلا پیدا ہو گیا ہے۔ یہ بحران اس وقت شدت اختیار کرتا ہے جب لوگ اپنی اصلی شناخت کو فراموش کر کے دوسروں کی شناخت کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس عمل میں، وہ اپنی اصلی شناخت کو چھپاتے ہیں یا اسے جعلی شناختوں سے بدل دیتے ہیں، جس سے ایک گہری بیگانگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کی موجودہ حالت کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان کی اکثریت کا تعلق وادی سندھ کی تہذیب سے ہے، جو اس خطے کی قدیم اور بنیادی ثقافتی شناخت ہے۔ یہ لوگ اس سرزمین کے اصلی باشندے ہیں، جنہیں ”فرزندانِ خاک“ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن جب آپ لوگوں سے ان کی شناخت کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو اکثر وہ کہتے ہیں کہ وہ باہر سے آئے ہیں۔ ہمارے ڈراموں اور میڈیا میں بھی اسی طرح کے بیانیے پیش کیے جاتے ہیں، جو ترقی کے نام پر غیر ملکی ثقافتوں کی نقل کرتے ہیں۔ خاص طور پر مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور ایران کی ثقافت کو اپنانے کی کوشش کی جاتی ہے، اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا تعلق مشرق وسطیٰ سے ہے یا انہیں واپس وہاں جانا ہے۔ حالانکہ عرب ممالک ہمارے بارے میں زیادہ نہیں جانتے، اور ہمارے مزدور تو کیا، ہنرمند افراد، جیسے کہ انجینئرز اور ڈاکٹرز، وہاں غیر منصفانہ سلوک اور کم تنخواہوں کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود، ہماری اکثریت غیر ملکی شناختوں کو اپنانے کی کوشش کرتی ہے۔

یہ بحران صرف جدید دور تک محدود نہیں ہے۔ تاریخی طور پر بھی، ہم اپنی مقامی شناخت سے دور ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، وہ کھوکھر قبیلہ جو سکندر اعظم کے خلاف لڑا اور اس سرزمین کا دفاع کیا، آج اسے بھلا دیا گیا ہے۔ اس کے بجائے، لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ قطب شاہ کی اولاد ہیں اعوان جو مقامی قبیلہ آوان ہے وہ بھی اپنے آپ کو قطب شاہی کہتے نہیں تھکتا۔ دوسری ذاتیں بھی کہتی ہیں کہ ان کا تعلق عراق، ایران، یا دیگر ممالک سے ہے۔ یہ شناخت کا تیسرا حصہ ہے، جو ہمیں اپنی جڑوں سے مزید دور کرتا ہے۔

پاکستان کا نام بھی اس شناخت کے بحران کو بڑھاوا دینے کا ایک سبب بنا ہے۔ دوسرے ممالک، جیسے کہ شمالی اور جنوبی کوریا یا مشرقی اور مغربی جرمنی، نے اپنی تقسیم کے بعد بھی اپنی ثقافتی یا جغرافیائی شناخت کو برقرار رکھا۔ لیکن پاکستان کے نام نے وادی سندھ یا برصغیر کی وسیع تر شناخت سے تعلق کو کمزور کیا۔ لفظ ”انڈیا“ دراصل سندھ سے نکلا ہے، لیکن ہم اس تعلق کو مسترد کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کا نام ”انڈس پاکستان“ یا ”انڈیانا پاکستان“ ہوتا، تو شاید ہماری شناخت اپنی جڑوں سے جڑی رہتی۔ اس نام نے نہ صرف شناخت کے بحران کو جنم دیا بلکہ اس کا سبب اور نتیجہ دونوں بنا۔

اس بحران کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر ہمارا ”امہ“ کا تصور ہے۔ اگرچہ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ ہم عالمگیر مسلم امہ کا حصہ ہیں، لیکن یہ تصور ایک فعال سیاسی یا معاشی نظام کے طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔ یورپی یونین کی طرح، جہاں لوگ، سرمایہ، سامان اور وسائل کی آزادانہ نقل و حرکت ممکن ہے، ہمارے پاس ایسی کوئی اسلامی یونین موجود نہیں ہے۔ ہم اکثر یہ تصور کرتے ہیں کہ امہ کا صدر مقام کہیں دور، جیسے کہ عرب، استنبول، تہران یا بغداد میں ہے، لیکن ہم اپنی شناخت کو اسلام آباد یا کراچی سے جوڑنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہ خارجی تصورات ہمیں اپنی مقامی سرزمین سے مزید دور کرتے ہیں۔

یہ شناخت کا بحران ہمارے معاشرے کے مختلف پہلوؤں میں نظر آتا ہے۔ مثال کے طور پر، کراچی جیسے مالیاتی اور ثقافتی مرکز کو نظر انداز کر کے ہم غیر ملکی شہروں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ یہ بحران نہ صرف ایک فکری مسئلہ ہے جو ہمارے قومی شعور کو متاثر کرتا ہے۔

اس شناخت کے بحران سے نمٹنے کے لیے، ہمیں اپنی مقامی جڑوں سے دوبارہ جڑنا ہو گا۔ ہمیں وادی سندھ کی تہذیب کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اور تعلیمی نظام، میڈیا، اور عوامی مکالموں کے ذریعے اپنی ثقافتی وراثت کو فروغ دینا ہو گا۔ ساتھ ہی، ہمیں امہ کے تصور کو قومی شناخت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔ اپنی سرزمین سے وابستگی کو مضبوط کر کے، ہم اس شناخت کے بحران کو حل کر سکتے ہیں اور ایک متحد قومی شعور کی تشکیل کر سکتے ہیں۔

آخر میں، پاکستان کا شناخت کا بحران اس کی مقامی جڑوں سے انقطاع اور غیر ملکی شناختوں کو اپنانے سے پیدا ہوا ہے۔ وادی سندھ کی تہذیب کے وارث کے طور پر اپنی شناخت کو قبول کر کے اور قومی بیانیہ کو مضبوط کر کے، پاکستان اس بحران پر قابو پا سکتا ہے اور اپنے لوگوں میں اتحاد اور فخر کا احساس پیدا کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

محمد قاسم کھوکھر

محمد قاسم کھوکھر نے انجینئرنگ میں ایم فل کیا ہے اور تاریخ خصوصاً قدیم تاریخ، عمرانیات، بشریات، فلسفہ، معاشیات اور انتظامی سائنس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہ توانائی، تجارت اور تاریخ پر مختلف روزناموں میں کالم لکھ چکے ہیں۔ امجد نواز وڑائچ کی کتاب ”پنجاب کٹہرے میں“ کے ان کے جائزے کو کافی پذیرائی ملی ہے۔ روزنامہ سماء میں بھی یہ قسط وارشائع ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر مختلف مسائل خصوصاً جذباتی ذہانت، انٹیگریٹی مینجمنٹ اور ڈپریشن پر بات کرتے رہتے ہیں۔ غلام مرتضیٰ کے ساتھ مل کر ان کی کتاب ”دی ڈیوائن پرنٹس“ فی الحال زیرِ اشاعت ہے۔

muhammad-qasim-khokhar has 7 posts and counting.See all posts by muhammad-qasim-khokhar