سندھ اسمبلی میں مذہبی آزادی پر پابندی


گزشتہ چند روز سے سورج میاں خوب غیظ و غضب برسا رہے تھے، ایسے لال پیلے ہوئے جاتے تھے کہ نانی یاد آ گئی۔ البتہ اُس دن موسم قدرے رحم دل تھا تو ٹھنڈی یخ بستہ ہواؤں کے جھونکوں سے دل باغ باغ ہو گیا۔ مگر شام ڈھلے ایک خبر سے ایسی مایوسی چھانے لگی کہ دل یہ سوچ کر بیٹھنے اور فکر مند ہونے لگا کہ پاک وطن میں اقلیتوں خصوصاً مسیحیوں کا کیا مستقبل ہو گا؟ ان کی حالتِ زار پر نہ صرف ترس آنے لگا بلکہ تحفظ اور حقوق کے حوالے سے بھی تشویش بڑھنے لگی۔

خبر یہ تھی کہ اُس دن سندھ اسمبلی میں مسیحی خاتون رُکنِ اسمبلی روما مشتاق مٹو نے اسمبلی میں اپنی تقریر کا آغاز اپنے مسیحی عقیدے کے اظہار سے کرتے ہوئے کہا ”خداوند یسوع مسیح، جو خدا کا اکلوتا بیٹا ہے“ ۔ یہ فقط ایک جملہ ہی نہیں مسیحی ایمان کی بنیاد ہے اور اس کے اقرار بِنا کوئی یسوع مسیح کا پیروکار ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اور مسیحی ایمان کا اقرار یہ ہے کہ:

” میں ایمان رکھتا / رکھتی ہوں خُدائے قادرِ مطلق باپ پر جو آسمان اور زمین کا خالق و مالک ہے اور یسوع مسیح پر جو اُس کا اکلوتا بیٹا اور ہمارا خداوند ہے، وہ رُوح القدس کی قدرت سے پیٹ میں پڑا، کنواری مریم سے پیدا ہوا، اُس نے پینطوس پیلاطوس کے عہد میں دکھ اُٹھایا، مصلوب ہوا، مر گیا، دفن کیا گیا، برزخ میں اُترا اور تیسرے روز مُردوں میں سے جی اُٹھا، آسمان پر چڑھ گیا، اور خُدائے قادرِ مطلق باپ کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہے، وہاں سے وہ زندوں اور مُردوں کی عدالت کرنے کے لئے آنے والا ہے۔“

تاہم روما مشتاق وٹو کی جانب سے بنیادی ایمانی جملے کے ادا ہوتے ہی اسمبلی کے کچھ ارکان کی جانب سے سخت اعتراض اُٹھایا گیا اور صورتحال ناخوشگوار ہونے لگی۔ اس دوران روما مشتاق مُسلسل اس بات کا اظہار کرتیں رہیں کہ یہ میرے ایمان کا حصہ اور میری مذہبی آزادی کا حق ہے مگر اکثریتی ممبران رام ہونے کو تیار نہ تھے؟ آخر کار سپیکر سندھ اسمبلی نے مسیحی ممبر اسمبلی کے مذہبی آزادی کے حق کو رد کرتے ہوئے اُن کی تقریر سے اُن کے عقیدے سے متعلق الفاظ حذف کروا دیے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کی جانب سے اس جانبدارانہ ردعمل نے نہ صرف روما مشتاق کے اظہارِ رائے کے حق کو متاثر کیا، بلکہ اُن کے مذہبی آزادی کے حق کو بھی مسمار کیا گیا نیز اُن کا یہ متعصبانہ رویہ ایوان کے وقار کے بھی منافی تھا کہ جہاں قانون سازی کے ذریعے ہر شہری کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے وہیں پر حقوق کو سلب کیے جانے کی مثال قائم کی گئی۔

پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 20 مذہبی آزادی کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ یہ آرٹیکل ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے۔ آئین میں تمام شہریوں کو مذہبی آزادی اور اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ یہ اصول نہ صرف آئین میں درج ہے بلکہ ایک مہذب معاشرے کی بنیادی قدر اور شہریوں کا مساوی حق بھی ہے۔ تاہم سندھ اسمبلی میں مذہبی آزادی پر پابندی کا پیش آنے والا واقعہ اس بنیادی حق پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے اور ملک میں مذہبی رواداری کی صورتحال پر تشویش کا باعث بنا ہے۔

مذہبی عدم قبولیت کے ایسے واقعات معاشرے پر گہرے اور منفی اثرات مرتب کرنے کا باعث ہیں۔ یہ اقلیتی برادریوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتے اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کا تاثر دیتے ہیں۔ اگر قانون ساز ادارے ہی مذہبی رواداری اور آزادی اظہار کے اصولوں کا احترام نہیں کریں گے تو سماج میں ان اصولوں کی پاسداری کیسے ممکن ہو گی؟ یہ صورتحال پاکستان کے بین الاقوامی امیج کو بھی متاثر کرتی ہے کہ جہاں مذہبی ہم آہنگی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے دعوے کیے جاتے ہیں۔

سندھ اسمبلی میں رُکنِ اسمبلی کے ساتھ روا رکھنے جانے والا یہ واقع اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ ہمیں معاشرے میں باہمی رواداری، احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اسمبلی جیسے اعلیٰ ایوانوں میں اراکین کو قبولیت، رواداری اور رویے میں مثبت ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے نیز اُن پر تمام مذاہب کے پیروکاروں کے عقائد کا احترام لازم ہے۔ اکثریتی طبقے کو اقلیتی برادریوں کو عملی طور پر یہ یقین دلانا چاہیے کہ وہ پاکستان میں مساوات، مذہبی آزادی، عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔ یہ امر پاکستان کے آئینی اور اخلاقی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔

انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ (UDHR) کے آرٹیکل 18 کے مطابق ”ہر شخص کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں اپنے مذہب یا عقیدے کو اکیلے میں یا دوسروں کے ساتھ، عوامی یا نجی طور پر، اپنے مذہب کی تعلیم، عمل، عبادت اور مناسک کے ذریعے ظاہر کرنے کی آزادی شامل ہے۔“ مذہبی آزادی ایک عالمگیر انسانی حق ہے جس کی پاسداری پاکستان کے آئین اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات دونوں کے تحت ضروری ہے۔

سندھ کی مذہبی ہم آہنگی اور رواداری کی روایات کے پیشِ نظر سندھ اسمبلی کے اسپیکر اور تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کریں اور اقلیتوں کو مساوات، عزت اور وقار اور مذہبی آزادی کے حق کے ساتھ زندگی گزارنے میں معاون ثابت ہوں۔ وگرنہ ایسے رویے اگر آج اسمبلی میں فروغ پانے لگے تو کل کو ایسے انتہا پسند عناصر اقلیتوں پر مذہبی قدغن کا مطالبہ لے کر گرجا گھروں اور براہ راست مسیحیوں کی ذاتی زندگیوں تک پہنچ جائیں گے۔ ہمیں ایسے ہی دن پر روک لگانی ہے۔ اُنہیں اس بات کو بھی ذہین نشین رکھنا ہو گا کہ کسی دوسرے کے عقیدے پر آپ کی مرضی نہیں چل سکتی۔ جس کا ایمان عقیدہ، مرضی بھی اُسی کی۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.