سفارت کا نایاب رنگ
حال ہی میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی پہلی نابینا سفارت کار صائمہ سلیم سے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ملاقات خبروں کا مرکز بنی۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ بصارت سے محروم افراد کے لیے عزت، دلچسپی اور حوصلے کا پیغام ثابت ہوئی۔ صائمہ سلیم، جو اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں، نے اپنی شخصیت اور خدمات سے یہ ثابت کیا کہ کوئی بھی جسمانی رکاوٹ کسی کے ارادے اور عزم کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ فیلڈ مارشل نے صائمہ کی ہمت، پیشہ ورانہ مہارت اور عالمی سطح پر پاکستان کے موقف کو اجاگر کرنے کے جذبے کو سراہا اور انہیں نہ صرف معذور افراد بلکہ پوری قوم کے لیے باعثِ تقلید قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ پاک فوج خصوصی افراد کو با اختیار بنانے میں اپنا موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔
صائمہ سلیم صرف میرے لیے نہیں، بلکہ ہر اُس شخص کے لیے ایک درخشاں مثال ہیں جو کسی بھی قسم کی بصارت سے محرومی کا سامنا کر رہا ہے۔ وہ محض ایک سفارت کار نہیں بلکہ ایک راہ شکن شخصیت (trailblazer) ہیں، جنہوں نے 2007 میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کر کے سول سروس میں وہ راستہ کھولا جو پہلے کسی بصارت سے محروم فرد کے لیے ممکن نہ تھا۔ جنیوا اور نیویارک میں پاکستان کی نمائندگی کے دوران، 2021 میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بریل کی مدد سے تقریر کی اور تاریخ رقم کر دی۔ کشمیر اور انسانی حقوق سے متعلق ان کی آواز نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ وہ ایک لکھاری، موٹیویشنل اسپیکر اور معذور افراد کی شمولیت کی مخلص ترجمان بھی ہیں۔
ان کی کامیابی میں جہاں ان کی ذاتی استقامت کا کردار ہے، وہیں جدید ٹیکنالوجی کی سہولت نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آج کا دور Assistive Technologies کا ہے۔ اسکرین ریڈرز، اسپیچ ٹو ٹیکسٹ ٹولز اور بریل ڈیوائسز جیسے آلات نے ان جیسے پیشہ ور افراد کے لیے بین الاقوامی سطح پر کام کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اس لیے اب ہمیں صرف بات چیت پر نہیں، بلکہ پالیسی سازی اور عملی اقدامات پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، چاہے وہ معاون ٹیکنالوجی ہو، حکومت کی معذوروں سے متعلق پالیسیز، یا سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم۔ معذور افراد ہر میدان میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں۔ تعلیم، طب، انجینئرنگ یا انتظامیہ۔ ہر شعبے میں یہ افراد ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ لیکن یہ تصویر کا محض روشن رخ ہے۔
زمینی حقائق اس کے برعکس کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ ہمارا میڈیا صرف ان کامیاب افراد کو اجاگر کرتا ہے جو کسی مقام تک پہنچ چکے ہوں، مگر ان کا اصل سفر۔ تعلیم میں رکاوٹیں، معاشی مسائل، سماجی امتیاز، اور امدادی اداروں کی غفلت۔ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ہماری این جی اوز میں اتحاد کا فقدان ہے، اسپیشل ایجوکیشن کے اداروں میں پیشہ ورانہ تربیت اور مہارت کی کمی ہے، اور عوام میں اب بھی یہ شعور نہیں پایا جاتا کہ معذور افراد کے ساتھ کس طرح کا سلوک روا رکھا جائے۔ میں خود معذور افراد کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن سے متعلق ادارے میں کام کر چکا ہوں، جہاں روز دل دہلا دینے والی کہانیاں سننے کو ملتیں۔ نوکری نہ ملنے پر یہ افراد سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں اور اپنے حقوق کی آواز بلند کرتے ہیں۔ اگر یہی آواز سفارتی سطح پر سنائی جائے، تو یہ نہ صرف مقامی بہتری کا باعث بن سکتی ہے بلکہ عالمی مکالمے کا بھی حصہ بن سکتی ہے۔
آج جب پاکستان ہر سطح پر بین الاقوامی تعاون کا خواہاں ہے۔ خواہ وہ سلامتی کا معاملہ ہو، معیشت یا دہشت گردی۔ تو معذوروں کے شعبے کی بہتری کے لیے بھی عالمی تعاون اور مکالمے کی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی خصوصی تعلیم کی پالیسیاں، معذور افراد کے لیے روزگار کی حکمتِ عملیاں، شمولیت اور مہارت کی ترقی سے فائدہ اٹھا کر ہم ایک نیا قومی بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ جیسے فورمز جہاں پاکستان دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام جیسے اہم مسائل پر بات کرتا ہے، وہاں معذور افراد کی ترقی، ان کے حقوق اور ان کے لیے ریاست کی ذمہ داریوں جیسے موضوعات بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں سفارت کاری کا منظرنامہ بدل چکا ہے۔ اب صرف سیاسی و اقتصادی مسائل ہی نہیں، بلکہ انسانی حقوق، معذوروں کی شمولیت اور برابری بھی مرکزِ گفتگو بن چکے ہیں۔
ایسے حالات میں جب پاکستان کے پاس صائمہ سلیم جیسی تعلیم یافتہ اور پرعزم شخصیت موجود ہے، تو اب وقت ہے کہ ہم ”ڈس ایبلٹی ڈپلومیسی“ کو محض ایک خیال نہ سمجھیں بلکہ ایک قومی روایت کا درجہ دیں۔ وہ لوگ جو اندھیروں سے روشنی کی طرف چلے ہیں، وہی بہتر طور پر ان لوگوں کی نمائندگی کر سکتے ہیں جو اب بھی انہی اندھیروں میں گھرے ہوئے ہیں۔
جیسے کہ فیلڈ مارشل نے کہا ”صائمہ سلیم صرف معذور افراد کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے رہنمائی کا چراغ ہیں۔“ یہ محض ایک تعریفی جملہ نہیں، بلکہ ایک نئے قومی بیانیے کا آغاز ہے۔ اب وقت ہے کہ پاکستان صرف پیروی کرنے والا نہ ہو بلکہ قیادت کرے۔ اور ان آوازوں کو دنیا تک پہنچائے جو برسوں سے خاموش ہیں۔ نظَر اور نظریہ، دونوں کو سفارتی ایجنڈے میں شامل کیا جائے تاکہ ریاستی اداروں میں شمولیت کا سفر حقیقت کا روپ دھار سکے۔


