ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی تجویز


حکومت پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2026 کے نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان نے کم از کم ٹرمپ کے اس ’احسان‘ کا فوری بدلہ چکا دیا ہے کہ انہوں نے بدھ کو آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وہائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر مدعو کر کے اعزاز دیا تھا۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے بدھ ہی کو میڈیا کو بتایا تھا کہ پاکستانی آرمی چیف نے صدر ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام کی بات کی ہے۔ اب اس ’وعدے‘ کو پورا کر دیا گیا ہے۔

اس نامزدگی کے بارے میں ہر طرح کی رائے کا اظہار ہو رہا ہے لیکن ممتاز سیاست دان اور سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے سابق چیئرمین مشاہد حسین نے کہا ہے کہ ’ٹرمپ کو امن انعام کے لیے نامزد کرنا جائز ہے۔ ٹرمپ پاکستان کے لیے اچھے ہیں‘ ۔ رائٹرز نے ان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’اگر یہ اقدام ٹرمپ کی انا کو مطمئن کرتا ہے تو ایسا کرنا مناسب ہے۔ تمام یورپی رہنما بھی ایسی ہی پالیسی پر عمل پیرا ہیں‘ ۔ تاہم امریکہ و اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق سفیر اور ممتاز تجزیہ نگار ملیحہ لودھی اس فیصلے کو ’قومی عزت نفس کے لیے نقصان دہ‘ کہتی ہیں۔ ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں انہوں نے اس حکومتی فیصلے کو افسوسناک قرار دیا اور کہا کہ ’ایک شخص کیسے اس انعام کا مستحق ہو سکتا ہے جو غزہ میں اسرائیلی نسل کشی پر مبنی جنگ کی حمایت کرتا ہے اور ایران پر اسرائیل کے حملے کو‘ عمدہ ’کہتا ہے۔ ان کے خیال میں یہ اقدام پاکستان کے عوام کے احساسات کی عکاسی نہیں کرتا‘ ۔

اس بارے میں کوئی بات حتمی طور سے نہیں کی جا سکتی کہ کون سا حکومتی اقدام پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ پاکستان میں عام طور سے لوگوں کو ہر وہ حکومتی اقدام نقصان دہ اور ناگوار لگتا ہے، جس سے انہیں براہ راست کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو۔ ٹرمپ کی نامزدگی کے معاملے کا تعلق چونکہ عام لوگوں کے مالی حالات سے نہیں ہے، اس لیے سوشل میڈیا پر یہ مباحث دیکھے جا سکتے ہیں کہ پاکستانی حکومت نے غزہ میں اسرائیلی نسل کشی اور ایران کے خلاف اسرائیل کی جارحیت کی حمایت کرنے والے شخص کو نامزد کر کے غلط اقدام کیا ہے۔ تاہم اس معاملہ پر ناروے کی نوبل کمیٹی زیادہ بہتر طور سے فیصلہ کر سکتی ہے جس کے سامنے سینکڑوں نامزدگیاں ہوتی ہیں۔ اور ان میں کسی ایسے شخص کو ہی ہر سال امن انعام کا مستحق سمجھا جاتا ہے جس نے سال بھر کے دوران واقعی الفریڈ نوبل کی وصیت کے مطابق دنیا میں امن کے لیے کام کیا ہو۔

الفریڈ نوبل کا انتقال دسمبر 1896 میں ہوا تھا۔ انتقال سے لگ بھگ ایک سال پہلے انہوں نے اپنی آخری وصیت میں امن انعام کے بارے میں یہ کہا تھا کہ ’اس امن انعام کو خاص طور پر اس شخص یا ادارے کو دیا جائے گا جس نے قوموں کے درمیان بھائی چارے کے فروغ، مستقل فوجوں کے خاتمے یا ان میں کمی، اور امن کانگریسوں کے قیام و فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو‘ ۔ اس وصیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو دنیا کی دو جوہری ہتھیاروں کی حامل قوتوں کے درمیان جنگ رکوانا واقعی اس شرط کو پورا کرتا ہے کہ انعام لینے کا مستحق وہ شخص ہو گا جس نے جنگ کو پھیلنے سے روکا ہو اور امن کے لیے کوشش کی ہو۔ البتہ اس حوالے سے یہ قباحت موجود رہے گی کہ گو اس کا دعویٰ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بارہا کیا جا چکا ہے اور پاکستان بھی ان کے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے لیکن نئی دہلی کی حکومت ٹرمپ کے اس کردار کو ماننے پر آمادہ نہیں ہے۔ اس لیے نوبل کمیٹی نے اگر واقعی ٹرمپ کے نام پر سنجیدگی سے غور کیا تو اسے اس معاملہ پر تحقیق کرنا پڑے گی کہ صدر ٹرمپ نے واقعی یہ جنگ رکوائی ہے یا بھارت کا یہ موقف درست ہے کہ پاکستان اور بھارت نے چار روز ایک دوسرے کو آزما کر خود ہی جنگ بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس نامزدگی یا نوبل امن انعام کے لیے ٹرمپ کی اہلیت کے حوالے سے البتہ غزہ میں تسلسل سے ہونے والی خوں ریزی اور ایران پر اسرائیلی حملے سے پیدا ہونے والی صورت حال میں امریکی صدر کا کردار ضرور سوالیہ نشان بن کر سامنے آتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود تو پاک بھارت جنگ کے علاوہ متعدد دیگر تنازعات ختم کرانے کا کریڈٹ لیتے ہیں اور یوکرین جنگ ختم کرانے میں بھی مستعد ہیں۔ تاہم وہ یہ شکوہ بھی کرتے ہیں کہ ’وہ تو امن کے لیے کوشش کرتے ہیں لیکن دوسرے انہیں کریڈٹ نہیں دیتے‘ ۔ پاک بھارت تنازعہ ختم کرانے میں بھی انہیں یہی شکوہ ہے اور انہوں نے مایوسی کے عالم میں حال ہی میں کہا ہے کہ ’مجھے نوبل امن انعام نہیں ملے گا‘ ۔ البتہ پاکستان کی طرف سے اس اہم عالمی انعام کے لیے صدر ٹرمپ کی نامزدگی کے بعد ان کی یہ مایوسی شاید کم ہوئی ہو کہ کوئی ان کی امن پسندی کا تذکرہ ہی نہیں کرتا۔ پاکستان نے اس حوالے سے تجویز دیتے ہوئے ٹرمپ کو وقت کا سب سے بڑا امن پسند قرار دیا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کی حکومت نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ’بین الاقوامی برادری نے‘ بلا اشتعال اور غیر قانونی بھارتی جارحیت ’کا مشاہدہ کیا جو پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی تھی۔ اس کے نتیجے میں معصوم جانوں کا قیمتی نقصان ہوا، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے لمحے میں صدر ٹرمپ نے عظیم حکمت عملی، بصیرت اور شاندار قیادت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں کے ساتھ مضبوط سفارتی روابط کے ذریعے تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال کو کم کیا۔ بالآخر فائر بندی کو یقینی بنایا اور دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان وسیع تر تصادم کو روکا، جو علاقے اور اس سے باہر لاکھوں افراد کے لیے تباہ کن کا حامل ہو سکتا تھا۔ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ امن کے حقیقی سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا طرز عمل تنازعات حل کرانے میں ان کی کمٹمنٹ کا مظہر ہے‘ ۔

حکومت نے صدر ٹرمپ کی اس پرخلوص پیشکش کا بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ کشمیر کا دیرینہ تنازعہ حل کرانے میں ثالثی پر تیار ہیں۔ پاکستان کے مطابق یہ مسئلہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ ہے۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اس وقت تک مشکل رہے گا جب تک کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔

حکومت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 2025 کے پاک بھارت بحران کے دوران صدر ٹرمپ کی قیادت عملی سفارتکاری اور موثر امن سازی کے طور پر اجاگر ہوئی۔ پاکستان نے امید ظاہر کی کہ ٹرمپ کی ’خلوص سے کی جانے والی کوششیں‘ خاص طور مشرق وسطیٰ میں جاری بحرانوں کے تناظر میں، علاقے اور عالمی سطح پر استحکام کے لیے جاری رہیں گی۔ بیان میں بطور خاص غزہ میں رونما ہونے والے انسانی المیے اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے ٹرمپ کے طرز عمل کا جائزہ لیتے ہوئے اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے کہ نوبل امن انعام کسی ایک سال کے دوران امن کے لیے کی جانے والی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ ابھی 2025 کی نصف مدت باقی ہے۔ امریکہ نے ابھی تک ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اگر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں کہ امریکہ ایران و اسرائیل میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی جارحیت ختم کرانے کی کوئی کوشش بارآور ہوتی ہے۔ اور روس و یوکرین جنگ کی بجائے امن کے زیادہ قریب ہو جاتے ہیں تو ٹرمپ کی شخصیت سے وابستہ تنازعات سے قطع نظر یہ کہنا مشکل ہو گا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نوبل امن انعام کے مستحق نہیں ہیں۔ اگر وہ سال کی باقی ماندہ مدت میں ایران اسرائیل و غزہ کی جنگ اور یوکرین تنازعہ حل کرنے میں پیش قدمی کا سبب بنتے ہیں تو وہ بلاشبہ 2026 میں نوبل امن انعام کے سب سے زیادہ مستحق ہوں گے۔

تاہم جیسا کہ سب جانتے ہیں ابھی غزہ، ایران اسرائیل تنازعہ یا یوکرین جنگ ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ امریکہ کی ابھی تک یہی پوزیشن ہے کہ صدر ٹرمپ آئندہ دو ہفتے کے دوران ایران پر حملے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ اگر امریکہ ایران پر حملوں کی صورت میں جنگ میں براہ راست ملوث ہوجاتا ہے تو ٹرمپ کو نوبل انعام دینے کا ہر جواز ختم ہو جائے گا۔ اس پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت پاکستان نے ٹرمپ کا نام تجویز کرنے میں عجلت سے کام لیا کیوں کہ وہ بہر حال کسی بھی صورت امریکہ کے ساتھ مستحکم ہوتے سفارتی تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہتی ہے۔ اسی لیے مشاہد حسین کے الفاظ میں اگر پاکستان نے ’ٹرمپ کی انا‘ کی تسکین کے لیے یہ تجویز دی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے کیوں کہ تمام یورپی حکومتیں بھی تو تمام اصول پس پشت ڈال کر یہی کچھ کر رہی ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے صدر ٹرمپ کی ملاقات کے بارے میں آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز یا ٹرمپ کے چند جملوں کے علاوہ کوئی معلومات سامنے نہیں ہیں۔ لیکن اس ملاقات میں ایران پر اسرائیلی حملہ زیر بحث آیا تھا اور ٹرمپ نے بعد میں اعتراف کیا تھا کہ ’پاکستان ایران کو بہت بہتر طور سے جانتا ہے‘ ۔ اس ملاقات کے تناظر میں پاکستان اگر ایران پر اسرائیلی حملہ رکوانے یا امریکہ کی براہ راست شمولیت کے حوالے سے کوئی کردار ادا کرتا ہے تو یہ یقیناً عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت ہوگی۔

سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا حکومت پاکستان نے ٹرمپ کے لیے نوبل انعام کی تجویز اسی تناظر میں امریکی صدر کو خوش کرنے اور انہیں تحمل سے کام لینے پر آمادہ کرنے کے لیے دی ہے؟ اس قیاس آرائی کا جواب شہباز شریف کے علاوہ صرف عاصم منیر دے سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی تجویز

  • 22/06/2025 at 12:34 شام
    Permalink

    جن کے ہاتھ غزہ میں معصوم بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ کمال بے شرمی کی بات ہے کہ انہیں ہمارے حکمران خوش کرنے کے لئے امن نوبل انعام کے لئے نامزد کر رہے ہیں۔

    • 24/06/2025 at 9:08 صبح
      Permalink

      جس طرح کرکٹ میں ایک کھلاڑی کسی اننگز میں سنچری بناکر میچ جتواتا ہے تو اسے اس میچ کی کارکردگی کی بنیاد پر مین آف دی میچ قرار دیا جاتا ہے۔

      اسی طرح وہی کھلاڑی کسی اور اہم فائنل میں جب ٹیم کو اس کے رنز کی ضرورت تھی غیر ضروری اور لاپرواہی سے شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوجاتا ہے اور ٹیم کی ہار کا سبب بنتا ہے۔ اب اسی کھلاڑی کو ہم اس دوسرے میچ کی پرفارمنس پر لعن طعن بھی کریں گے۔

      حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرمپ کو بچپن سے نوبل انعام حاصل کرنے کا شوق ہے۔ یہ وہی ٹھرک ہے جو کبھی عمران اور شہباز کو وزیراعظم بننے کی تھی اور اب اس میں سے ہوا نکل چکی۔
      اب بھی یہ خواہش بلاول اور بیگم صفدر کی بدن بولی میں صاف نظر آتی ہے۔

      پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ اگر دیکھا جائے تو ٹرمپ شروع ہونے سے پہلے ہی رکوا سکتا تھا۔ اسی طرح ایران اسرائیل جنگ بھی وہ شروع ہونے سے پہلے رکوا سکتا تھا۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی رک جائے تو ٹرمپ نوبل انعام کیسے جیت پائے گا اسی لئے اس نے پاکستان انڈیا کی جنگ کو ہونے دیا۔ اور جب معاملہ بگڑ کر جوہری تنصیبات پر حملے تک جاپہنچا تو اس نے خود ہی اس تنازعے میں کود کر جنگ رکوادی حقیقت یہی ہے کہ اس کی درخواست نہ انڈیا نے کی تھی نہ پاکستان نے۔ البتہ انڈیا کو یہ احساس تھا کہ ان کی طرف سے دو پاکستان کی جوہری تنصیبا ت پر حملہ کرنے کے وہ ذمہ دار ہوچکے ہیں اور اب پاکستان کو انڈیا کی جوہری تنسیبات پر حملہ کرنے سے نہیں روکا جاسکتا۔
      ایسے میں جب ٹرمپ کی طرف سے ہلکی سی بھی جنگ بندی کی آفر آئی تو انہوں نے اس کو بخوشی قبول کرلیا۔

      کرکٹ کے سنچری میکر کھلاڑی کی طرح پاکستان نے بھی ٹرمپ کو صرف اس جنگ بندی کی وجہ سے اسی سلسلے میں نوبل انعام کی سفارش کی ہے۔ باقی میچوں میں ٹرمپ کی کیسی پرفارمنس ہے پاکستان نے بھی اس پر تنقید کی ہے۔

      ویسے بھی نوبل انعام پاکستان نے نہیں بلکہ نوبل امن کمیٹی نے دینا ہے۔

      غزہ کی موجودہ جنگ نہ اسرائیل نے شروع کی تھی اور نہ ٹرمپ نے۔ سوتے ہوئے پاگل کتوں (اسرائیل سمجھ لیں) کو پتھر مارکر نہ تو امریکہ نے جگایا تھا نہ ایران نے۔ وہ غزہ کے ہی لوگ تھے اوت ان میں اکثر خود بھی مارے جاچکے ہیں۔ اگر آپ کسی جنگ کو اختتام تک پہنچا نہیں سکتے تو شروع کیوں کرتے ہیں۔
      عربوں بالخصوص فلسطینیوں کو اس قسم کی احمقانہ حرکتوں کا بہت شوق ہے اور یہ پچھلے 60 سال سے نظر آرہا ہے۔ جہاں ان کو فائدہ اٹھانا تھا وہاں یہ سوتے رہے اور اب جموں کشمیر کی طرح یہ بھی رات گئی بات گئی ہی سمجھیں۔

      ایران پر بھی ہنسی آتی ہے کہ قبلہ یا تو بم بنالیتے اور یا پھر کوئی معقول سا معاہدہ کرکے اپنی تنصیبات اور لوگوں کو بچالیتے۔ کیا ملا ۔۔۔۔ آمدنی اٹھنی خرچہ روپیہ۔

      ایران وہیں کھڑا ہے جہاں 10 سال پہلے تھا۔ مضبوط فضائیہ اور ایئر ڈیفنس کے بغیر کوئی بھی ملک کچھ بھی نہیں ہے۔
      ایران کے پاس کوئی ڈھنگ کا بی وی آر والا فائٹر ہی نہیں تو کیسی ایئرفورس ؟
      ایران کا سارا زور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائیلوں اور ڈرون پر ہے اور یقینا ان سے جنگ نہیں جیتی جاسکتی ۔ ایران کے پاس تو کوئی اچھا اواکس یا جاسوسی طیارہ بھی نہیں جو یہ بتاسکے کہ تین چار سو کلومیٹر دور دشمن کے کتنے طیارے موجود ہیں !

Comments are closed.