آخری کوشش
دیکھو میں مر رہا ہوں۔ ان سب زخموں کی تڑپ سے مجھے نجات ملنے والی ہے۔ مجھے ان زخموں کی کوئی تکلیف نہیں جو مجھے اس حادثہ میں لگے ہیں اور جن کی وجہ سے میں لہو لہان ہوں۔ یہ زخم مجھے ان بڑے زخموں یعنی میری روح پر لگنے والے زخموں کی نہ مٹنے والی تکلیف سے آزاد کرانے جا رہے ہیں۔
میں نے اپنی مختصر سی زندگی میں ہر نئے موڑ پر پہلے سے زیادہ بھیانک اور دردناک زخم اپنی روح پہ کھائے ہیں۔ پہلے پہل مجھے یہ سب ایک وقتی تکلیف اور درد لگتا تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا جائے گا مگر ہر گزرتا وقت یہ زخم اور زیادہ بڑھاتا چلا گیا۔ میں بھی کہاں ہار ماننے والا تھا۔ ہر زخم کو مسکرا کر اس کے زہر کو اپنے اندر سماتا چلا گیا تا کہ یہ سب میرے پر ہی ختم ہو جائے اور میرے اردگرد موجود لوگوں پہ اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ لیکن آخر کب تک میرا وجود یہ برداشت کرتا اور شاید میں یہ سمجھ نہیں پایا کبھی بھی کہ یہ سب زہر پیتے پیتے ایک دن میں خود زہریلا ہو جاؤں گا اور میرا زہر خود مجھے ہی مار ڈالے گا۔
میں جو خود کو کبھی کبھی سب لوگوں کا مسیحا سمجھتا تھا بالآخر زندگی کی تلخیوں سے تنگ آ چکا تھا۔ آخر کب تک میں اپنی روح پر معاشرے کے ہر طاقتور کو اپنے سے کمزور کو پاؤں کے نیچے مسلتا ہوا دیکھ سکتا تھا؟ میں کب تک خدا کے عدل و انصاف پر یقین کر سکتا تھا جب کہ میں ہر روز دنیا میں اپنے جیسی ان روحوں کو تڑپتا ہوا دیکھتا تھا جن کی محکومی، بے بسی اور لاچاری ان کی اپنی وجہ سے نہیں بلکہ اس ستم زدہ معاشرے کے نظام اور رسومات کی وجہ سے تھی؟
میرا ذہن کب تک مجھے یہ تسلی دے سکتا کہ محنت اور دیانت سے سب کچھ حاصل ہو سکتا ہے جب کہ میں ہر دن کام چور اور خوشامدیوں کو زندگی کی ہر سیڑھی بغیر کسی محنت کے چڑھتے ہوئے دیکھ سکتا تھا؟ آخر کب تک میرا ذہن عقل اور جذبات کی جنگ سہتا جب کہ میں ہر لمحہ اس زندگی میں تضادات پہ تضادات دیکھتا تھا؟ میرے ذہن میں ابھی بھی ایک لمبی فہرست ہے جو نہ تم سن سکو گے اور نہ میں بیان کر سکوں گا کہ آخر یہ سب تماشا کیا ہے؟ کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ سب سوال، یہ سب پیچیدگیاں کتنی تکلیف دہ ہیں؟ اس شخص کے لئے جو سوچتا ہو، جو سوال کرتا ہو، اور جو اس زندگی سے مسئلے ختم کرنا چاہتا ہو۔
ایسا شخص جب یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ہر سوال روح پر کتنا بڑا زخم چھوڑ دیتا ہے؟ ایسا زخم جس میں ہر اگلا سوال نیا نمک پھینکتا ہے اور بالآخر وہ انسان اور کچھ نہیں چاہتا سوائے اس تکلیف سے آزادی کے۔ تمہارے لئے یہ زندگی بہت خوش نما ہے پر اس شخص کے لئے بالکل بھی نہیں جس کی روح چھلنی ہو، جس کو زندگی میں اس کے ایک سوال کا بھی تسلی بخش جواب نہ ملا ہو۔ جانتے ہو اس کو کتنی گھن آتی ہے تمہاری اس زندگی سے؟
جس میں کچھ بھی سمجھ آنے لائق نہیں، جس میں کچھ بھی ترتیب سے نہیں ہو رہا ہے، جس میں ہر اس شخص کو کچلا جا رہا جو تھوڑا سا بھی دوسروں سے مختلف سوچتا ہو۔ کیا تم سمجھ سکتے ہو یہ میرا لہو سے بھرا ہوا جسم مجھے کتنا بھلا محسوس ہو رہا ہے؟ بالآخر یہ سب میرے روح کے زخموں کے درد کو ختم کر دے گا، یہ میری سب بے چینی کو ختم کر دے گا، اور یہ سب مجھے اس بے ہنگم زندگی سے نجات دلائے گا۔ نہیں شاید تم کبھی نہیں سمجھو گے کہ میں نے خود کو کیوں مارنے کی کوشش کی؟
بالکل بھی نہیں کیوں کہ تم اس کرب سے نہیں گزرے جس سے میں ہر لمحہ گزرتا رہا ہوں۔ اگر تم اس سے گزرے ہوتے تو تم ہر گز یہ نہ پوچھتے کہ اتنی قیمتی زندگی کو ختم کیوں کرنا چاہتے ہو؟ اس لیے کہ آج یا تو مجھے میرے ہر سوال کا جواب مل جائے گا یا یہ سب کچھ میرے ساتھ ختم ہو جائے گا جیسے کہ کبھی تھا ہی نہیں۔ یہ میری آخری جواب تک پہنچنے کی آخری کوشش ہے۔ ”


