ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر ملاقات۔ کیا پاکستان ایک بار پھر امریکی راڈار پر آ گیا


18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مابین ہونے والی ملاقات کو پاکستان میں بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس ملاقات کی دعوت چند ہفتے قبل امریکی صدر کی طرف سے دی گئی تھی لیکن ایران اسرائیل جنگ کے آغاز کی وجہ سے اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا اور عالمی دنیا اور انڈیا اپنے اپنے تناظر میں اس ملاقات کے نتائج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اس ملاقات کی دعوت کا پس منظر یہ ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت کابل ائرپورٹ کے باہر امریکی فوجیوں پر داعش کی طرف سے کیے جانے والے حملے کے مرکزی ملزم شریف اللّٰہ اور چند دیگر ملزمان کو امریکہ کے کہنے پر پاکستان کی طرف سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ملزم کی گرفتاری کو اپنے انتخابی ایجنڈے میں شامل کیا تھا اور اس کی گرفتاری کا ٹرمپ کو ڈومیسٹک سیاست میں جو ایڈوانٹج حاصل ہوا اس کی وجہ سے ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کی تعریف کی اور یہاں سے پاک امریکہ تعلقات نے نیا ٹرن لیا جو کہ بائیڈن پیریڈ میں بہت سرد مہری کا شکار رہے تھے۔

پھر ٹرمپ کی طرف سے پاک انڈیا جنگ کو رکوانے کی کوششوں میں پاکستان نے مثبت جواب دے کر ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کا کریڈٹ لینے کا نہ صرف موقع فراہم کیا بلکہ اس کریڈٹ کو انڈیا کے برعکس تسلیم بھی کیا۔ یہ پہلو بھی اس دعوت کے دیے جانے کا باعث بنا۔ اور اس کا تذکرہ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا۔ انہوں نے ملاقات کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ پاکستان اور انڈیا کے ساتھ تجارت بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کی فیلڈ مارشل سے ایران اسرائیل جنگ پر بات ہوئی ہے وہ ایران کو بہتر جانتے ہیں اور موجودہ صورتحال پر پریشان ہیں۔

ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ملاقات میرے لئے اعزاز ہے۔ فیلڈ مارشل نے میرے کہنے پر پاک بھارت جنگ کو بڑھنے سے روکا میں نے اسی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے انہیں امریکہ مدعو کیا۔ آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ملاقات میں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں ہونے والی گفتگو میں دو طرفہ ہم آہنگی اور گہرائی کا اندازہ اس سے امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک گھنٹے کے لئے طے شدہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں تجارت، کرپٹو کرنسی، مصنوعی ذہانت، اقتصادی ترقی و معدنیات اور جدید ٹیکنالوجیز سمیت متعدد شعبوں میں دو طرفہ باہمی تعاون بڑھانے پر بات ہوئی۔ جنرل عاصم منیر نے پاکستان انڈیا کے مابین جنگ بندی میں سہولت کاری کے لئے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور صدر ٹرمپ نے علاقائی امن و استحکام کے لئے پاکستان کی کوششوں اور امریکہ اور پاکستان کے درمیان انسداد دہشتگردی کے حوالے سے تعاون کو سراہا۔

اس ملاقات کے حوالے سے یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکہ کی تاریخ کا یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی ملک کے آرمی چیف کو امریکی صدر کی طرف سے دورے کی دعوت دی گئی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے روایتی پروٹوکول کو توڑ کر ایک چیف آف آرمی سٹاف سے صدر امریکہ کی کی جانے والی اس ملاقات سے دنیا بھر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کیا پاکستان ایک بار پھر امریکی راڈار پر آ گیا ہے اور امریکہ کو اس کی جنوبی ایشیا اور دنیا میں ضرورت پڑ گئی ہے۔ تاہم یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ اس ملاقات کی کوئی تصویر یا ویڈیو اور مشترکہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا اور نہ ہی جنرل عاصم منیر نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی اور آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز میں غزہ اور کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا۔

بہرحال جنرل عاصم منیر کی شخصیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ انہوں نے ملاقات میں کشمیر، بلوچستان میں بھارتی مداخلت، سندھ طاس معاہدہ، غزہ اور ایران پر اسرائیلی حملے کے حوالے سے پاکستان کے موقف اور خدشات کو دو ٹوک انداز میں بیان کیا ہو گا اور پاکستان کی دفاعی ضروریات کے حوالے سے بھی ضرور بات کی ہوگی اور دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے مخصوص انداز میں کھل کر جنرل صاحب کو اپنے عالمی و جنوبی ایشیا کے امریکی ڈیزائن میں پاکستان کے رول پر بات کی ہوگی۔ پاکستان کو اس ملاقات کے مثبت نتائج برامد ہونے کی توقع رکھنی چاہیے اور اس ملاقات میں طے ہونے والے دو طرفہ معاملات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے کے لئے اپنے تئیں کوشش کرنا چاہیے۔ تاہم پاکستان کے حوالے سے امریکہ کی ماضی کی روش کو مدنظر رکھتے ہوئے فی الحال اس ملاقات سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ 1951 سے 2025 تک پاکستانی سول حکمرانوں کے علاوہ 1961 سے 2006 کے دوران فوجی حکمرانوں فیلڈ مارشل صدر ایوب خان، صدر جنرل آغا یحییٰ خان، صدر جنرل ضیا الحق سے لے کر صدر جنرل پرویز مشرف تک امریکی صدور سے ظہرانے اور ڈنر پر ملاقات کا یہ سلسلہ چلا آ رہا ہے۔ اور فوجی حکمرانوں کی ان تمام 12 ملاقاتوں کو سرکاری سطح پر بڑا کامیاب قرار دیا گیا۔ لیکن ان سے بعض وقتی فوائد تو ضرور حاصل ہوئے لیکن بعض ملاقاتوں میں جنوبی ایشیا میں حالات پاکستان کے حق میں سازگار ہونے کے باوجود بڑے سٹرٹیجک نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ تاہم یہ پہلو ضرور ذہن میں رکھنا چاہیے کہ فوجی حکمرانوں کی اکثر ملاقاتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر کی گئیں۔ جبکہ کچھ ملاقاتیں امریکہ کی سرکاری دعوت پر اور کچھ پرائیویٹ سطح پر ہوئیں۔ اور ان تمام فوجی حکمرانوں کو صدر پاکستان کی حیثیت سے بلایا گیا۔ جبکہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے دعوت دی گئی۔ دوسری طرف یہ پہلو قابل غور ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات سے قبل وزیراعظم مودی سے G 7 کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر ٹیلی فون پر 35 منٹ بات کی اور بقول وزیراعظم مودی ”ٹرمپ نے انہیں کہا کہ تم کینیڈا تک تو آ ہی گئے ہو تو امریکہ بھی ہوتے جاؤ۔ مل کر کھانا کھائیں گے اور بات کریں گے۔ لیکن میں نے انہیں شائستگی سے ٹال دیا“ ۔ یاد رہے کہ یہ وہی ٹائم تھا جب جنرل عاصم منیر امریکہ کے دورے پر تھے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے امریکہ نے گزشتہ 77 سالوں میں پاکستان کو اپنی ضرورت اور مفادات کے مطابق استعمال کر کے بیچ منجدھار میں چھوڑ دیا۔ جس کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک مختلف صورتوں میں بھگت رہی ہے۔ یقیناً اس میں ہماری سیاسی اور فوجی قیادت کی ناعاقبت اندیشی کا بھی اتنا ہی قصور ہے۔

لہذا دانشمندی کا تقاضا اور تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اب ماضی کی غلطیوں کو نہ دوہرایا جائے اور کسی نئے ٹریپ میں آئے بغیر ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح اور دو ٹوک پالیسی اپنائی جائے اور عالمی و علاقائی منظر نامے میں پیدا ہونے والے مواقعوں کو بھر پور طریقے سے اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور چیلنجز سے نبٹنے کے لئے حقیقی دوستوں کی مدد سے سفارتی و دفاعی میدان میں ہر طرح سے اور ہر دم تیار رہا جائے۔ کیونکہ دشمن ہماری دہلیز پر پہنچ کر ہمارے خلاف جال بچھا چکا ہے۔ اب دشمن کو اس کے ہی جال میں الجھا کر ناکامی سے دو چار کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ دوستوں کی مدد سے اس میں کامیابی حاصل کر کے ہم دشمن کے عزائم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS