پٹواری نامہ


صاحبو! وہ قصہ تو آپ نے یقیناً پڑھ رکھا ہو گا جب قدرت اللہ شہاب صاحب نے بطور ڈپٹی کمشنر، جھنگ کی ایک ضعیف عورت کی زمین کا ایک پرانا مسئلہ حل کیا تو اس نے اپنی جھُریوں بھری ہتھیلیاں اُٹھا کر ڈی سی صاحب کو یوں دُعا سے نوازا تھا ”پُتر! اللہ تجھے پٹواری بنائے“ اور صدر ایوب کی خود نوشت کا وہ باپ بھی کہ جس میں صدر ایوب کو اس کی والدہ نے کہا تھا ”اگر تمہیں واقعی اختیار ملا ہے تو میرے گاؤں کے پٹواری کو سیدھا کر کے دکھاؤ“ ۔

آپ شاید اُس واقعے سے بھی آشنا ہوں جب ایک پٹواری نے صدر ایوب کو للکارا تھا۔ جی ہاں ایک پٹواری نے صدر ایوب کی کلاس لے لی تھی۔ ہوا کُچھ یوں تھا کہ صدر ایوب کو ضلع جہلم کی تحصیل چکوال کے قصبہ خانپور کی ایک شکار گاہ بہت پسند تھی جہاں وہ کم از کم بارہ دفعہ شکار کرنے آئے تھے اور پھر ایک دن خُدا کا کرنا ایسا ہوا کہ کرپشن کے خلاف بنائی گئی سول اور فوجی افسران پر مشتمل ایک انسپکشن ٹیم نے خان پور میں ہی ایک کھُلی کچہری لگانے کی ٹھان لی۔ پٹواری کے خلاف کرپشن کی متعدد شکایات اور پھر پٹواریوں کی شان میں ہوئی مُسلسل قوالی سُن کر حلقہ پٹواری خانپور شاہنواز خان کھڑا ہو گیا تھا ”اس کھلی کچہری میں کرپشن کے خلاف میری بھی ایک شکایت درج کی جائے“ ۔

تم نے کِس کے خلاف شکایت درج کروانی ہے؟
صدر ایوب کے خلاف!
تمہارا مطلب ہے صدر کرپٹ ہیں؟
جی ہاں بالکل کرپٹ ہیں، وہ بل نہیں دیتے، وہ بارہ مرتبہ یہاں شکار پر تشریف لا چُکے ہیں، صدر سے پوچھیں اُن کے ان دوروں کے اخراجات کِس نے برداشت کیے؟ انہی کرپٹ پٹواریوں نے۔

سیدھی سی بات ہے پٹواری چھوٹے چور ہیں اور صدر بڑا چور۔ پٹواری تھوڑی تھوڑی کر کے جو رشوت اکٹھے کرتے ہیں صدر صاحب ایک ہی دورے میں وہ ساری رشوت ہڑپ کر جاتے ہیں۔

تو صاحبو! ماضی قریب کا پٹواری بھی کُچھ ایسا ہی مِلا جُلا کردار تھا۔ سرکار کی تمام مشینری اسی کے دم سے رواں تھی۔ پٹواری کے پاس دنیا کے ہر مسئلے کا حل موجود تھا۔ کسی دور دراز گاؤں میں کوئی حادثہ ہو پٹواری حاضر، کوئی وبا پھوٹ پڑی پٹواری کو بھیج دیں، کسی ذاتی کام سے کسی پہاڑ کی چوٹی پر آئے اہم سرکاری غیر سرکاری شخص کو کوئی مشکل درپیش آئی، پٹواری کی خدمات حاضر، کوئی سرکاری ٹیم کسی معائنے پر آئی پٹواری صاحب کھانے کا بندوبست کر کے سامنے موجود۔ سمجھدار لوگوں کو خوب معلوم تھا کہ ”رپورٹ پٹواری مفصل ہے“ سپریم کورٹ تک مفصل قرار پاتی تھی اور یوں سیانے زمیندار اور سیانے افسر دونوں پٹواری سے بنا کر رکھتے تھے۔ یہ پٹواری تھا یا کوئی جادوگر جس کی پٹاری میں ہر مسئلے کا حل موجود تھا۔

پٹواری کا ڈائریکٹ رابطہ یا ریونیو افسر سے پڑتا ہے یا پھر اپنے اے سی سے۔ جہاں پٹواری بڑے لائق اور عوام کا خیال رکھنے والے بھی موجود تھے تو زیادہ تر عوام کو شدید ذلیل کرنے والے بد عُنوان۔ لیکن عموماً پٹواری کے بارے میں لوگ شاکی ہی رہے ہیں۔ تو صاحبو! پٹواری کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے اُس کے کے بارے میں اپنا عمومی رویہ نرم ہونے کے باوجود کسی پٹواری کی عوام سے مسلسل زیادتی ہمیں سخت اقدامات پر ہمیشہ مجبور کرتی رہی۔

اپنی اسسٹنٹ کمشنر کی پہلی تعیناتی اور پٹواری سے پہلا رابطہ تھا۔ پٹواریوں کی ”مفصل رپورٹیں“ سمجھنے کی کوشش کرتے مشاہدے میں آیا کہ ہر دوسری شکایت شہر کے ایک اہم حلقے کے پٹواری اکرم سے متعلق ہے۔ ذرا کھوج لگایا تو معلوم ہوا موصوف علاقہ ایم پی اے کے خاص آدمی ہیں، ایم پی اے صاحب کے حواریوں کو بھی خوش رکھتے ہیں اور عوام نام کی کسی مخلوق سے واقف نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ ہر کاغذ کے ریٹ مقرر ہیں۔ اپنے خاص مُنشی رکھے ہوئے ہیں اور خود تو رہے ایک طرف اُن کے مُنشی صاحبان بھی کسی کو پکڑائی نہیں دیتے۔ مزید یہ کہ پٹواری صاحب کے خلاف کارروائی ممکن نہیں کہ آج تک کوئی افسر کامیاب نہیں ہو سکا۔ کسی نے ہمت کی بھی تو پٹواری صاحب نے کبھی کسی کو بستہ (ریکارڈ) حوالے نہیں کیا۔ مطلب کُھلا چیلنج کہ

ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جُنبش میں
ہے جِسے غرور آئے کرے شکار مجھے

لیں جناب! عوام کی شدید مشکلات کے پیشِ نظر سوچ بچار شروع ہوئی اور اس بھاری پتھر کو چومنے کا فیصلہ ہوا۔ کارروائی بڑی مشکل کہ پٹواری صاحب کو ہلکی سی بھنک بھی پڑ جاتی تو ریکارڈ کسی تہہ خانے کی نظر ہو جانا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد میں نے اپنے اے ڈی سی کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ انہیں درخواست کی کہ پہلے ڈپٹی کمشنر صاحب سے بات کر کے ان کو اعتماد میں لے کر یقین دہانی حاصل کریں۔ موصوف کی شہرت کے پیشِ نظر یہ مرحلہ بھی طے ہوا اور کارروائی کی اجازت عطا ہوئی۔

اے ڈی سی صاحب سے گُزارش کی کہ وہ پٹواری کی پڑتال رکھیں اور جونہی وہ پڑتال کے لئے ریکارڈ مہیا کرے پٹواری کو معطل کر کے اُس کے خلاف ضابطے کی کارروائی شروع کر دی جائے۔ لیکن پٹواری بڑا کائیاں تھا، پہلے تو لیت و لعل سے کام لیتا رہا لیکن پھر افسر کے اصرار اور اعتماد دلانے پر بھی صرف ایک رجسٹر دفتر لایا۔ روزنامچہ اور رجسٹر انتقالات جیسے اہم ترین ریکارڈ کے لئے بڑے صاحب کی طرف سے پٹواری صاحب کو کئی دن تک اعتماد میں لینے کی کوشش کرنا پڑی تب جا کر وہ پڑتال کے لئے درکار ضروری ریکارڈ فراہم کرنے پر آمادہ ہوا۔ اب باری تھی موصوف کو معطل کرنے کی۔ ڈپٹی کمشنر کے سوال کہ معطل کرنے کی وجہ؟ تبدیل کر دو۔ عرض کیا سر! تبدیل کیا تو ایم پی اے صاحب نے فوراً تبادلہ کینسل کرنے کا دباؤ ڈالنا ہے، معطلی پہ اُس کے دباؤ کا رُخ بحالی پر ہو گا اور ہم کم از کم یہ تو منوا ہی لیں گے کہ چلیں کُچھ آپ کی مان کر بحال کر دیتے ہیں لیکن پٹواری صاحب کو ہمارے دفتر میں کام کرنا ہو گا۔

لیں جی وہی ہوا بڑا شور شرابا ہوا، سیاسی غیر سیاسی دباؤ اور پتا نہیں کیا کیا لیکن پہلا معرکہ کامیاب رہا اور عوام نے سُکھ کا سانس لیا۔

شاہ جی ابھی بھی شاید پٹواری ہیں۔ کمال شخصیت ہیں، اپنے سید ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے، میٹھے اتنے کہ کیا شہد اور کیا شکر لہجے میں شیرینی گھُلی ہوئی لیکن یہ شیرینی مشروط تھی یعنی صرف اپنے باسز اور اپنے سے طاقتور کے لئے۔ عام آدمی یعنی عوام کے لئے وہ مثلِ کوڑتُما تھے ( ایک کڑوا ترین جنگلی پھل جس کا انگریزی نام Citrullus Colocynthis ہے ) ۔ سب سے پہلے تو وہ کسی عام تام کو مِلتے نہیں تھے، مِل جاتے تو پیسے لئے بغیر کسی کا کام کرنا گُناہ سمجھتے تھے، بعض اوقات تو پیسے دے کر بھی کوئی کام کروا کر دکھائے، جھوٹ بولنے پر قدرت حاصل تھی یعنی کہ

جھوٹ بولیں گے اور لاجواب کر دیں گے

ایک دن میرے دوست اور مقامی ایم پی اے کے والد بن کر کال کھڑکا دی۔ ”اے سی صاحب، سردار بات کر رہا ہوں شاہ جی اپنا بچہ ہے ذرا خیال رکھنا ہے اس کا۔“ میں سمجھ گیا یہ شاہ جی کی ہی شرارت ہے۔ فوراً سردار صاحب کو کال کر کے شاہ جی کی کارستانی گوش گُزار کی تو سردار صاحب نے اپنے ڈیرے پہ بُلا کر شاہ جی کی خوب خدمت کی اور اسی دن شاہ جی کا تبادلہ کر دیا گیا لیکن شاہ جی استاد تھے اپنی جگہ پہ آنے والے پٹواری سے ڈیل کر کے ریکارڈ اپنے پاس ہی رکھنے کا بندوبست کر لیا یعنی تبادلہ صرف کاغذوں کی حد تک ہی نافذ العمل ہو سکا۔ دو تین ہفتے بعد میرے علم میں یہ معاملہ آیا تو شاہ جی کو بُلاوے کا پیغام بھیجا لیکن شاہ جی پکے اُستاد تھے کہاں ہاتھ آتے تھے اپنا نمبر بند کیا اور گُم ہو گئے۔

شاہ جی کی ڈھونڈ ابھی جاری تھی کہ ایک دن ہاتھ میں درخواست اور پاسپورٹ لے کر خود ہی حاضر ہو گئے ”سر! آپ کے علم میں ہو گا میں ہر سال زیارات پہ جاتا ہوں اس سال بھی ویزہ لگوا لیا ہے ایک ماہ کی چھٹی عنایت کریں آپ کے لئے دُعا کروں گا۔ سوچا شاہ جی آخر پھنس ہی گئے نا؟

شاہ جی کا پاسپورٹ اپنے ہاتھ میں رکھا اور شاہ جی کو حکم دیا کہ چھٹی تب منظور ہو گی جب اپنا مکمل بستہ لے کر آؤ گے اور آپ کا پاسپورٹ تب تک میرے پاس امانت ہے۔

سر! مسئلہ ہی کوئی نہیں ریکارڈ ابھی حاضر کرتا ہوں۔

بستہ پٹوار یعنی سرکاری ریکارڈ تو نہ آیا البتہ دس بارہ دن بعد خبر آئی کہ شاہ جی زیارات کے لئے ایران عراق پہنچ گئے ہیں۔ مجھے شدید حیرت ہوئی کہ شاہ جی کا پاسپورٹ تو میری دراز میں ہے مُرشد ایران کیسے پہنچ گئے؟ ذرا پڑتال کی تو معلوم ہوا شاہ جی نے پاسپورٹ گم شُدگی کی رپٹ درج کروا کر نیا پاسپورٹ بنوا لیا تھا اور یوں عازمِ زیارات ہو کر اب اپنے گناہ بخشوانے میں مصروف ہیں۔

واپس آئے اور پھر گُم ہو گئے۔ ایک دن لینڈ ریکارڈ سنٹر کا اچانک دورہ کرنے پر پھر ہاتھ آ گئے۔ ساتھ ہی ایک پریشان حال شکایت کنندہ بھی شکایت لے کر حاضر ہو گیا۔ میں نے شدید ڈانٹ پلائی تو بڑی لجاجت سے عرض کیا سر! اسی کا کام کرنے کے لئے تو یہاں آیا ہوں ابھی دو منٹ میں کام کر کے ساتھ قانونگو اور تحصیلدار سے بھی منظوری لے دیتا ہوں۔ پانچ منٹ بعد میری وہیں پر موجودگی میں ہی واقعی حاضر ہو گئے۔ سر! یہ لیں ساری فائل مکمل ہے ملاحظہ فرمائیں۔ شاہ جی کے ٹریک ریکارڈ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میں نے تحصیلدار سے تصدیق چاہی تو معلوم ہوا کہ مُرشد نے اپنے بعد قانون گو اور تحصیلدار کے دستخط بھی بقلم خود یعنی اپنے ہاتھ سے ہی ثبت کر کے سائل کا کام آسان کر دیا ہے۔

شاہ جی سے ہم نے اپنی اور عوام کی جان کیسے چھڑوائی یہ ایک اور داستان ہے۔

تو صاحبو! ہر پٹواری کے ساتھ اپنی ایک داستان وابستہ ہے اور فیض کی زبان میں مال پٹوار کی دھاندلی کا قصہ تو شاید تمام ہوا لیکن کیا کیجئے سرکار کے ہر ادارے میں کئی اکرم اور کئی شاہ جی بیٹھے ہیں جو آج بھی عوام کا خون چوس کر بذریعہ حج و زیارات رِند کے رِند رہ کر ہاتھ سے جنت نہ جانے کا کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں۔ رب تعالیٰ بھی بخش دیتا ہو گا غفور الرحیم جو ہوا۔

Facebook Comments HS