اسرائیلی جارحیت اور نیویارک کے میئر کا الیکشن


اسرائیلی وزیرِ اعظم کے تین دہائیوں پر محیط پرزور اصرار پر آخر امریکی صدر ٹرمپ کا دل پگھل ہی گیا اور انہوں نے نیتن یاہو کی دیرینہ خواہش ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے پوری کر دی!

امریکہ کا سر، اسرائیل کی ہر فرمائش کے سامنے تسلیم خم ہے، آخر ان کا رشتہ ہی ایسا ہے کہ اس نے اسرائیل کے سات دہائیوں پہ محیط سات لاکھ خون معاف کر رکھے ہیں۔ اکثر ہم پوچھتے ہیں کہ ”یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟“

اقوامِ متحدہ میں کوئی اس تعلق کے بارے میں سوال اٹھائے تو
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی

ادھر امریکہ کے بڑے شہر نیویارک میں میئر کے انتخابات چل رہے ہیں۔ ظہران ممدانی بمقابلہ آنڈریو کومو۔ آنڈریو کومو، جو ریاست نیویارک کے سابق گورنر اور اسی شہر کے سابق میئر رہ چکے ہیں، ان کا تمام سیاسی کیریر کرپشن اور جنسی ہراسانی کے سلمہ ستاروں سے ٹنکا ہوا ہے۔ ان کی کرتوت کے باعث ان سے استعفیٰ لیا گیا لیکن اس دوران وہ نیویارک کے مقامی لوگوں کے فقط ساٹھ ملین ٹیکس ڈالر اپنے وکیلوں کے اخراجات پہ بے دردی سے خرچ کر چکے تھے۔ صرف تیرہ خواتین تو وہ تھیں جو سامنے آئیں، ان گنت نے تو ہراسانی کا تذکرہ ہی نہیں کیا۔ مائیکل بلومبرگ، بِل ایکمین سمیت تمام بلینئر مشینری اور کارپوریٹ ڈیموکریٹ پارٹی حرکت میں آ گئی ہے کہ کہیں، تدبر سے بھرا نوجواں مسلم، ظہران ممدانی نیویارک کا مئیر نہ بن جائے!

ظہران ممدانی مشہور فلم ہدایت کار میرا نائر کے قابل فرزند ہیں اور نیویارک کے اسمبلی ممبر بھی ہیں۔ ان کے پاس مال دولت بینک بیلنس گاڑیاں وغیرہ تو نہیں مگر نیویارک شہر کے بیشتر مسائل کو حل کرنے کی شدید لگن اور جذبہ ہے۔ اب محض لگن اور جذبے سے کوئی کیمپین تو چلتی نہیں، بات ہر پھر کر پیسے پہ آجاتی ہے۔ جو دے اس کا بھی بھلا اور جو نا دے اس کا بھی بھلا مگر، اسرائیلی جارحیت کو لے کر، ظہران سے ایسے آڑے ٹیڑھے اور چبھتے ہوئے سوالات کیے گئے جیسے کہ وہ نیویارک کے مئیر کے لیے نہیں بلکہ تل ابیب کے میئر کا الیکشن لڑ رہے ہوں!

دوغلی پالیسی، دوغلا رویہ اور دوغلے پن سے بھری ڈیموکریٹک پارٹی ایک طرف تو کہتی ہے کہ امریکی لوگ اپنا بھلا نہیں سمجھتے، ووٹ کرنے نہیں نکلتے اور شکوہ کرتی ہے کہ نوجوان تو بالکل ہی ووٹ نہیں ڈالتے، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ ڈیوڈ ہاگ اور دیگر ترقی پسند نوجوانوں کو پارٹی سے نکال دیا کیونکہ وہ جنگ کے خلاف ہیں۔ بحیثیت سابق کاونٹی پارٹی صدر، میرا مشورہ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے یہ ہی ہے کہ

آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی

اور ظہران ممدانی، ”وہ کیا گردوں تھا جس کا تو ہے اک ٹوٹا ہوا“ تارا کی مثل نیویارک میں رہنے والے تمام رنگ و نسل اور مختلف مذاہب کے لوگوں کے لیے ایک امید کا دیا ہیں۔ خدانخواستہ یہ دیا بجھا تو آگے غم کی ایک اور لمبی تاریک رات ہے۔

طولِ شبِ ہجراں کو زلف سے ناپ سکتے ہیں، مگر فیض بھی طولِ شبِ غم کی لمبائی بتانے سے قاصر رہے ہیں۔ اور رہی بے چاری امتِ مسلمہ، تو صدیوں سے اس کی ایک ہی شکایت رہی ہے کہ

؀ مجھے کیا برا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

چوبیس جون اس اہم فیصلے کا دن مقرر ہے۔ بحیثیت سابق اسمبلی امیدوار، جسے بحیثیت مسلمان کیمپین کرنے کا تجربہ ہے، میرا پیغام ظہران، اور نیویارک کے تمام ووٹرز کے لیے یہی ہے کہ

”جیت“ کا ایک دن مقرر ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

Facebook Comments HS