دیار و دشت میں بھٹکتی کہانیاں


کچھ کہانیاں فقط کہانیاں نہیں ہوتیں، یہ وقت اور تاریخ کا ایسا ملاپ ہوتی ہیں جن میں انسان اپنے ماضی کی کوتاہیوں، کمزوریوں، حکام کے غلط فیصلوں، ان کے تعصبات اور ذاتی مفادات کے تحت رونما ہونے والے المیوں کو کسی فلم کی مانند اپنے سامنے رونما ہوتا دیکھتا ہے اور کف افسوس ملتا ہے۔ ماضی کی کچھ ایسی ہی درد ناک کہانیوں کو ذکی نقوی نے اپنے حساس قلم سے یوں زندہ کیا ہے جیسے وہ خود زمانوں قبل تاریخ کے ان پیچیدہ و گمبھیر ادوار کا حصہ رہے ہوں جن کے نوحے ہمارے آج کو شرمندہ کیے دیتے ہیں۔

حال ہی میں ریڈنگز سے شائع ہونے والے ان کے افسانوی مجموعے ’دیار و دشت‘ کی پہلی کہانی ’سپاہی تنویر حسین کی ڈائری‘ 1971 ء میں ہونے والے مشرقی پاکستان کے سانحے کا ایسا دردناک نوحہ ہے، جس میں ہمارے ماضی کے کئی تلخ و تاریک سچ پوشیدہ ہیں۔ یہاں ان مرنے اور مارنے والوں کی داستان الم رقم ہے جو کبھی ہم مذہب و ہم عقیدہ ہوا کرتے تھے۔ تب آمریت اور مقتدر سیاسی قوتوں کی رنجشوں، باہمی تعصبات، عناد، مفادات کے گٹھ جوڑ اور دشمن کی سازشوں نے اس سانحے کو ایک جنگ کی صورت کیسا ہولناک بنا ڈالا تھا، اس سب کا درد بھرا بیان اس کہانی کو دلگداز بنا دیتا ہے۔ ذرا کہانی کا یہ تکلیف دہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

”ٹھیک بیس منٹ بعد ہمیں حکم ملا کہ تمام جھونپڑیاں جلا دی جائیں۔ حکم پر عمل درآمد ہونے میں بمشکل آدھا گھنٹہ لگا ہو گا۔ ان گھروں میں گھریلو سامان نہ ہونے کے برابر تھا۔ چند گھروں سے مزاحمت ہوئی لیکن غیر مسلح۔ یہ لوگ پکڑے گئے لیکن درانی صاحب نے انھیں ندی پار دفع ہو جانے کا حکم دیا۔ تھوڑی دیر بعد ندی کی جانب سے برین گن کا شدید فائر آیا۔ جواباً ہم نے مشین گن اور رائفلوں سے فائر کی بوچھاڑ کر دی۔ جب فائرنگ بند ہوئی تو سرچ پارٹی نے آ کر بتایا کہ وہاں اسلحے کے ساتھ گیارہ لاشیں ملی ہیں۔ جلے ہوئے گھروں سے دو لاشیں اور بھی برآمد ہوئیں، جو ایک عورت اور بچے کی تھیں۔ بچہ بمشکل سال کا ہو گا۔ میں نے زندگی میں پہلی بار جلی ہوئی لاشیں دیکھی تھیں، میرا سر چکرانے لگا۔“

جنگ اور اس کی لرزہ خیزیوں سے واقف ہونے کے سبب، ذکی نقوی بخوبی جانتے ہیں کہ جنگ مفاد پرستی کا خوفناک کھیل ہے، جس میں ہار جیت کے ثمرات فقط مقتدر قوتوں کے لیے ہوا کرتے ہیں۔ جب کہ ایک سپاہی کا مقدر ہمیشہ اس جنگ کا ایندھن بننا ہوتا ہے۔ اسے کبھی فرق نہیں پڑتا کہ اس کا تعلق جنگ ہارنے والی قوم سے ہے یا جیتنے والی قوم سے۔ اس کے نصیب میں جنگ کی خوفناک لرزہ خیزی یوں لکھ دی جاتی ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد بھی وہ ان سفاک ہولناک یادوں سے اپنا پیچھا کبھی نہیں چھڑا پاتا۔ کہانی ’شکست‘ میں کرنل تھاپا بھی 1971ء کی اسی ہولناک جنگ اور دشمن قیدی سپاہیوں کو دی جانے والی لرزہ خیز اذیتوں کو کبھی اپنی یادوں سے محو نہیں کر پاتے، وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ: ”یہ جو جنگ ہوتی ہے نا جس میں ایک قوم جیت جانے کا دعویٰ کرتی ہے، یا یوں کہہ لو کہ جیت جاتی ہے اور ایک قوم ہار جاتی ہے، سچ تو یہ ہے کہ اس جنگ میں ہمیشہ ایک سپاہی شکست سے دوچار ہوتا ہے۔ شکست جو فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی فقط defeat کے نہیں  ہوتے، بلکہ breakage اور damage کے بھی ہوتے ہیں۔ تو ایک سپاہی کے حصے میں ہمیشہ breakage اور damage ہی آتا ہے، یعنی روحانی اور ذہنی توڑ پھوڑ۔“

”اس جنگ کے بعد ہم دونوں طرف کے فوجیوں نے جو پاگل پن، سفاک، توہین زدہ، بدبو دار یادیں، زخم، شرمندگی، بے عزتی، ضمیر کا خلفشار اور جو کچھ پایا، اس سب کا میزان فقط ایک لفظ ’شکست‘ میں ہی سما سکتا ہے۔ بس یہی سچ ہے کہ تب ہم سپاہیوں کے حصے میں فقط شکست آئی تھی۔“

ذکی نقوی

ان افسانوں کے بعض کردار ایسے سیدھے اور سچے ہیں کہ ان کی عقل و خرد سے لپٹی باتیں سیدھی دل میں اتر جاتی ہیں۔ فوج میں بھرتی ہونے والے دو دوستوں اشفاق اور خالد کو ملنے والا شیرانی جسے بیک وقت سادگی و طراری کے سبب وہ منگول کہا کرتے تھے، زندگی کے ان حقائق کی گرہ کشائی کرتا ہے جو انسان کی فہم و ادراک سے پرے ہوا کرتے ہیں۔ وہ ماضی کی ان غلطیوں کو بھی تسلیم کرتا ہے، جو تاریخ میں ہمارے کردار پر انگلی اٹھاتی ہیں۔ مثلاً کہانی ”اشفاق اور اس کا دوست منگول“ کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

”مگر یہ جو آخری دنوں میں ایک بدصورت جنگ دیکھنی پڑی، وار آن ٹیرر جو کہ آغاز میں ہم نے قومی جذبے سے مغلوب ہو کر جرات مندی سے گزاری، مگر باقی جو تھی وہ اس احساس کے زیرِ اثر شدید بے دلی میں گزاری کہ مغرب کے ہتھیار مشرق میں بیچنے کے حیلے بہانے آج کل جنگ کہلاتے ہیں۔“

مجموعے میں شامل کئی کہانیاں یک کرداری خاکوں کی صورت ابھرتی ہیں۔ جن کے مرکزی کردار اپنی سادگی، سادہ لوحی، قناعت پسندی اور دوسروں کی مدد کے سبب دوسروں کی زندگی کے کانٹے چنتے چلے جاتے ہیں۔ کہانی ”چاچا ایلس کدوری“ کا کرم خان بھی ایسا ہی مشفق کردار ہے، جس کی زندگی کے حالات و واقعات ہمارے معاشرے کے مسائل کی حقیقی تصویر کشی کرتے ہیں۔ کرم خان کا بنایا گیا الکرم گرامر سکول زمانے کی جس بے توجہی کا شکار ہوتا ہے اس پر علاقے کے چالاک اور مفاد پرست سیاستدانوں کے رویے یہاں بڑی خوبی و مہارت سے بیان کیے گئے ہیں۔ ذرا دیکھیے :

”الکرم گرامر سکول کی خستہ حال عمارت، جس کے سامنے گلی میں سارا سال گندا پانی اکٹھا ہوا رہتا تھا، جس میں اینٹیں رکھ کر گزرنے والوں کے لیے آسانی پیدا کی گئی تھی۔ میاں غفار شاہ ہاشمی کا بیٹا مخدوم افتخار ہاشمی ایم پی اے بنا تو اسی گلی سے گزر کر ووٹ مانگنے آیا تھا۔ اس کی مدت کو اب پانچ سال ہونے کو آئے ہیں۔ وہ آج کل میں پھر دوبارہ آئے گا اور یہ گلی اپنے کیچڑ اور تعفن کے ساتھ ہمیشہ یہیں رہے گی۔“

یک کرداری خاکہ نما کہانیوں میں ایک کہانی بھولے گجر کی بھی ہے۔ اپنے نام کے برعکس جس کی فتنہ پرور فطرت کا شر پولیس میں بھرتی ہونے کے بعد سوا ہو جاتا ہے۔ بھولے گجر کی شہادت نما موت پر طنز کے نشتروں میں ڈوبی یہ کہانی، ہمارے معاشرے کے مخصوص اداروں میں چھپی سیاہ بھیڑوں پر طنز کی ایسی چوٹ ہے جس پر پڑھنے والا داد دیے بغیر نہیں رہ پاتا۔ کہانی کا یہ اقتباس دیکھیے :

”میرے وطن پنجاب کی پولیس میں اگر کوئی تھانیدار اس امر کا دعویٰ کرے کہ وہ رشوت نہیں لیتا، تو اس کی صداقت یا ذہنی توازن دونوں میں سے کوئی ایک چیز ضرور مشکوک ہے۔ پولیس کے افسران اور تھانیداروں میں ایک دوسرے سے عدم وفاداری کا عفریت ایسا خوفناک ہے کہ اس کے خوف سے وہ ایک دوسرے کے جرائم پر پردہ ڈالنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اسی باریک ڈور سے ان کا سارا مضبوط نظام بندھا ہے۔“

مزید اس کہانی کا یہ حصہ بھی ملاحظہ کیجیے جہاں علاقے کے ایس پی صاحب بھولے کے اکھڑ، بدمزاج اور گالم گلوچ کے ناروا رویے پر معزز شہریوں کو فقط یہی تاکید کرتے ہیں کہ:

’اگر بدتمیزی کے الزام پہ میں تھانیدار معطل کرنا شروع کر دوں تو میرا سارا محکمہ گھر بیٹھا ہو گا۔ آپ صبر و تحمل سے بیٹھیں خداوند اجر دے گا۔ ”

یہاں طنز کی مزید کاٹ ملاحظہ کیجیے : بھولا ’کرپشن کی اخلاقیات‘ کا قائل تھا، جہاں صوبے بھر میں بیشتر تھانیداروں میں عادت ہے کہ دونوں پارٹیوں سے رشوت لے کر تفتیش کا اختتام ’میرٹ‘ پر کرتے ہیں، وہاں بھولا ایسا نہیں کرتا تھا، اس نے جب کسی سے رشوت کی مد میں ایک وقت کا کھانا بھی کھایا تو اس کے ایک ایک لقمے سے وفادار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جب بھی رشوت لی، سوچ سمجھ کر بڑا ہی ہاتھ مارا۔ ”

اس مجموعے کی خاص بات اس کے موضوعات کا تنوع ہے۔ یہاں فقط تاریخ ہی نہیں، حال کے مسائل کے ساتھ مستقبل کی دنیا کا ادراک بھی گہرائی سے ابھرتا ہے۔ تیزی سے جدت کی جانب بھاگتی مستقبل کی مشینی دنیا کے لیے تحریر کیا گیا ان کا مختصر افسانہ ”میکنائزیشن“ دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسان اور فطرت کے حقیقی تعلق میں پڑنے والی دراڑ کو عیاں کرتا ہے۔ کہانی کا مرکزی کردار کیپٹن جیک جیسمنڈ جب اپنے گھوڑے ریجنالڈ سے میکنائزیشن کے سبب ہمیشہ کے لیے جدا ہونے لگتا ہے تب ان دونوں کے درمیان ہونے والا مکالمہ اپنی اندر گہری فکر سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کیپٹن کے اپنی دھرتی، فطرت اور خلوص و احساس سے جڑے رشتوں کے لیے کہے گئے الفاظ ملاحظہ کیجیے :

”انسان جوں جوں فطرت سے ناتا توڑ رہا ہے، توں توں اس کائنات میں تنہا ہوتا جا رہا ہے۔“

”میں ہندوستان کی پر اسرار زمین میں پلا بڑھا ہوں، جہاں ایک پراسرار اداسی نے صدیوں سے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ وہ اداسی جو مستقبل میں جھانکنے کی بجائے ماضی میں دیکھنے کی بے پناہ قوت عطا کرتی ہے۔ یہاں پیڑوں کی مانند آدمی کی جڑیں بھی مٹی میں دھنسی ہوئی ہیں۔ یہ جگہ دستِ قدرت سے ہاتھ ملانے کی قوت رکھتی ہے۔ تبھی تو یہ صدیوں سے سادھوؤں، گیانیوں اور صوفیوں کا مرکز ہے۔“

منٹو کے نیا قانون کی مانند کہانی ”قومی شناختی کارڈ“ قومی و انسانی حقوق کی تلفی، مساوات کی پامالی، رواداری کی بے توقیری اور ان خوابوں کے جہنم پر مشتمل ہے، جنھیں مانک مصلّی اپنا قومی شناختی کارڈ بننے کے بعد دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔ اس دلگداز کہانی کا ذرا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

”اس کے بعد مانک کی زندگی کے چند واقعات ہی قابلِ ذکر ہیں۔ ایک تو یہ کہ گاؤں والوں کو یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ الہڑ عاشقوں سے لہجے میں ہیر سنانے والے مانک مصلّی کی زبان تھانیدار صاحب نے انھیں گالی بکنے پر بلیڈ کی تیز دھار سے کاٹ دی۔ دوسرا جب وہ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو اس نے اپنا شناختی کارڈ چولہے میں جھونک ڈالا۔ تیسرا مانک مصلّی کا نام اب گونگا مصلّی پڑ گیا تھا اور اسے اب اس کی پرواہ بھی نہیں تھی کہ وہ سبز شناختی کارڈ پر لکھی اپنی شناخت پر لعنت بھیجتا تھا۔“

شہرِ مدفون ”اس افسانوی مجموعے کی سب سے طویل کہانی ہے، جو مارکیز کے ماکوندو کی مانند ایک ایسے گاؤں کا قصہ ہے، جس کی یادیں، باتیں، قصے، کہانیاں اس کے کھرے کرداروں کی صورت کہانی کے مرکزی کردار کی زندگی کا کل سرمایہ ہیں، مگر افسوس کہ گاؤں کی اس سادہ، شفاف اور سادہ لوح زندگی پر اب شہر کے حریص افراد اور چھاؤنی کے کرم فرماؤں کی نظر ایک ایسی سڑک کی صورت پڑ گئی ہے جو عنقریب اس دیہات کی فطری سادگی مسخ کرتے ہوئے، اسے ہڑپ جائے گی۔ کہانی کے ایک کردار اقبال نائی کی زبان سے کہانی کا یہ معنی خیز اقتباس ملاحظہ کیجیے :

”یہ سڑک مجھے تو یوں لگتی ہے جیسے شہر والوں، بیرونی آباد کاروں اور قابضوں کی حرص بھری زبان ہے، جو انھوں نے ہماری خوشیاں، سادگی، معصومیت اور سب سے بڑھ کر ہماری زمینوں کو چاٹنے کے لیے یہاں تک پھیلائی ہے۔“

فکر و خیال کی زرخیزی اور معنی کی گہرائی سے بھرپور ان عمدہ و حساس کہانیوں کی اشاعت پر محترم ذکی نقوی صاحب کو دلی مبارک باد اور ان کے تخلیقی سفر کے لیے بہت سی نیک تمنائیں۔

Facebook Comments HS