اغواستان سندھ: جہاں قلم مر گیا، اور پرچی بولنے لگی


جب ایک استاد اسکول جاتے ہوئے کتابوں کے ساتھ بندوق بھی لے کر نکلے، تو سمجھ لیں کہ معاشرہ اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔ اللہ رکھیو، کندھ کوٹ کے ایک سرکاری اسکول میں پڑھانے والا ایک معمولی مگر غیر معمولی استاد تھا۔ وہ بچوں کو پڑھانے نکلتا، مگر ساتھ بندوق بھی رکھتا۔ یہ بندوق نہ ریاست کی طرف سے تھی، نہ کسی ادارے کی جانب سے تحفظ کا وعدہ، یہ اُس کا اپنا یقین تھا کہ شاید یہ ہتھیار اُسے اغوا یا قتل سے بچا سکے۔ مگر بندوق بھی کچھ نہ کر سکی۔ وہ ایک دن اسکول سے واپس آتے ہوئے کچے کے علاقے میں گولیوں کا نشانہ بنا، اور مر گیا۔ اُس کے ساتھ اُس کی بندوق بھی بے جان ہو گئی۔ ایک استاد کا قتل صرف ایک انسان کی موت نہیں، بلکہ تعلیم، قانون، اور انسانیت کی اجتماعی ہار تھی۔ وہ اسکول جس کی دیوار پر اللہ رکھیو نے چاک سے لکھا تھا ”ہم خاموش ہیں، اس لیے مجرم ہیں“ آج اس دیوار پر صرف دھول ہے، خاموشی ہے اور دروازے پر تالا۔

کندھ کوٹ، کشمور، گھوٹکی، شکارپور، لاڑکانہ اور قمبر جیسے اضلاع میں یہ اب معمول کی بات ہے کہ استاد بندوق لے کر جائے، یا دکاندار بھتہ دے کر زندہ رہے۔ اغوا برائے تاوان ایک باقاعدہ انڈسٹری بن چکی ہے۔ ہر ماہ پرچیاں تقسیم ہوتی ہیں۔ بھتے کی پرچیاں۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو یا تو اغوا کر لیا جاتا ہے یا اس کی لاش کسی نہر کنارے ملتی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے تماشائی بن چکے ہیں۔ پولیس اسٹیشن نیلام ہوتے ہیں، ایس ایچ او کی تعیناتی بولی پر طے پاتی ہے اور ایماندار افسر اگر کبھی لگ بھی جائے تو اُسے ہٹا دیا جاتا ہے۔

ان علاقوں میں رہنے والے تاجر، خاص طور پر ہندو برادری، سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ ہر ماہ ایک نئی قیمت پر زندہ رہنے کا حق خریدا جاتا ہے۔ اگر نہ دیں تو ان کی جان، ان کا کاروبار اور ان کے خاندان سب داؤ پر لگ جاتے ہیں۔

نہ صرف زمینی راستے غیر محفوظ ہیں، بلکہ اب تو موبائل نیٹ ورک بھی اغوا کاروں کے مددگار بن چکے ہیں۔ شہری بتاتے ہیں کہ کچھ علاقوں میں مخصوص وقت پر سگنل بند ہو جاتے ہیں تاکہ کسی کی لوکیشن یا رابطہ ممکن نہ رہے۔ یوں جیسے ہی کوئی واردات ہوتی ہے، علاقہ کٹ آف ہو جاتا ہے۔

اسی صورتِ حال سے تنگ آ کر کندھ کوٹ، کشمور اور گرد و نواح کے شہری، سول سوسائٹی اور ہندو پنچایت کے نمائندگان اسلام آباد جا پہنچے۔ انہوں نے نیشنل پریس کلب کے سامنے مطالبہ کیا کہ ان کے علاقوں میں بھی وہی ریاستی تحرک دکھایا جائے جو وزیرستان یا وانا میں ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ”یہاں ڈاکو راج ہے۔ چاول کی سب سے بڑی منڈی بند ہو چکی ہے، آدھی سے زیادہ آبادی نقل مکانی کر چکی ہے اور بچے اسکول جانا چھوڑ چکے ہیں۔“ یہ لوگ ریاست سے تحفظ مانگنے آئے، مگر آنکھوں میں تھکن اور چہروں پر مایوسی تھی۔

اب سوال یہ نہیں رہا کہ ”ریاست کہاں ہے؟“ ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریاست واقعی موجود بھی ہے؟

اللہ رکھیو جیسے استاد اب صرف قبروں میں ملتے ہیں۔ اُن کی بندوق خاموش ہے، کتاب بند، اور قلم دفن ہو چکا ہے۔ زندہ ہے تو صرف وہ پرچی جو ہر مہینے ایک نیا تاوان مانگتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “اغواستان سندھ: جہاں قلم مر گیا، اور پرچی بولنے لگی

  • 23/06/2025 at 3:45 شام
    Permalink

    یہ سارے کام ریاست کے نہیں اب صوبے کے ہیں۔
    ریاستی ذمہ داری محض آئین کے ابتدائی نکات تک ہے وگرنہ 18 ویں ترمیم کے بعد اب یہ امن و امان کو قائم کرنا صوبہ یعنی سندھ کی ذمہ داری ہے۔
    ریاست یا وفاق بے چاری کیا کرسکتی ہے۔

Comments are closed.