ٹریفک وارڈنز کی بدمعاشی
کل فیس بک پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں کلمہ چوک لاہور میں دو ٹریفک وارڈنز ایک شہری کو دھکم پیل اور مبینہ تشدد کرتے ہوئے زبردستی رکشہ میں ڈال رہے ہیں پیچھے سے ایک خاتون کے چیخنے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں مگر بے رحم اور بے حس ٹریفک وارڈنز وردی کی طاقت کے نشہ میں چور ہو کر نوجوان کو رکشہ میں ڈال کر لے گئے اور خاتون کو چیختے چلاتے تنہا چھوڑ دیا، پھر وہی ہوا جو 78 برسوں سے پاکستان میں ہوتا آ رہا ہے کہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر سی ٹی او (ٹریفک پولیس افسر ) نے پہلے حسب روایت نوٹس لیا اور پھر دونوں ٹریفک وارڈنز اور شہری کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے حوالات میں بند کروا دیا اور میڈیا پر واہ واہ کروا لی۔
پنجاب کے دیگر شہروں کا علم نہیں مگر لاہور میں ٹریفک وارڈنز بپھرے ہوئے بھینسے کی طرح سڑکوں پر کھڑے ہوتے ہیں اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے بجائے شہریوں کے دھڑا دھڑ چالان کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں، دنیا بھر کے شہروں میں ٹریفک کی روانی کے لئے ٹریفک اہلکار تعینات ہوتے ہیں پاکستان سمیت لاہور میں بھی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹریفک وارڈنز تعینات ہوتے ہیں جو شدید گرمی، سردی اور بارش میں بھی فرائض سرانجام دیتے ہیں اور یقیناً یہ ایک بہت مشکل اور کٹھن کام ہے اور اس کام کو دیانتداری سے سرانجام دینے والوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔
ہمارے معاشرے اور سرکاری اداروں میں چند کالی بھیڑیں ہیں جن کی وجہ سے ادارہ یا معاشرہ بدنام ہوتے ہیں، یہ جاہل افراد ادارے اور معاشرے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں، کلمہ چوک میں ہونے والے واقعہ میں بھی یہی کچھ ہوا، خبر کے مطابق شہری ون وے کی خلاف ورزی کر رہا تھا اور ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا، ٹریفک وارڈنز نے روکا تو ان سے بدتمیزی شروع کردی، ہمارے اداروں کا مسئلہ یہ ہے جب کسی کو تننے کا پروگرام ہو تو ڈھیر سارے الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں جس طرح آج کل پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ ہو رہا ہے تاکہ عوام سمجھیں بندہ واقعی قصور وار ہے۔
کلمہ چوک کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے جس نے بھی اس کو ڈیزائن کیا ہے وہ انتہائی جاہل اور نالائق انجینئر ہے، مثلاً گارڈن ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، پنجاب یونیورسٹی اور علامہ اقبال ٹاؤن سے آنے والی ٹریفک کو کلمہ چوک انڈر پاس سے اوپر سے سیدھا جانے کے لئے راستہ ہی نہیں دیا گیا، حد تو یہ ہے کہ چند دنوں سے ان علاقوں سے آنے والی ٹریفک کو دائیں جانب چونگی امر سدھو سے جانے والا راستہ بھی بند کر دیا گیا ہے، اب اس ٹریفک کو بائیں مڑ کر اچھرہ نہر کے پل سے گھوم کر چونگی کی طرف جانا پڑتا ہے لیکن موٹر سائیکل سواروں نے سیمنٹ کے بلاک کھسکا کر راستہ بنا لیا ہے
ان علاقوں کی ٹریفک نے اگر کلمہ چوک پار کر کے نیشنل پارک کے ساتھ قائم دفاتر، سینٹ میری کالونی یا زیرو پوائنٹ تک جانا ہو تو ان کے لیے راستہ ہی کوئی نہیں، ان کو مجبوراً لمبا چکر کاٹ کر نہر سے ہو کر اس طرف جانا پڑتا ہے جس میں کم از کم بیس سے پچیس منٹ لگتے ہیں جبکہ یہ راستہ بمشکل ایک منٹ ہے، ممکن ہے مذکورہ موٹر سائیکل سوار نے جلدی میں یہ راستہ لیا ہو اور آگے سے ٹریفک وارڈن ٹکر گئے، اکثر ٹریفک وارڈنز بات ہی بدتمیزی سے شروع کرتے ہیں جیسے کسی کن ٹٹے کے کارندے ہوں، اہم مسئلہ یہ ہے ٹریفک کی روانی کے لئے یہ کوئی حل نہیں کہ راستے بند کردو، عوام جائیں بھاڑ میں۔
ٹریفک وارڈنز کی شہنشاہی دیکھنا ہو تو شوکت علی روڈ پر کچھ دیر کے لئے کھڑے ہوجائیں تو وارڈنز کے کارنامے دیکھیں، ماشاءاللہ شوکت علی روڈ کو جس انجینئر نے سنگل فری بنایا ہے اس کی ڈگری چیک کرنی چاہیے، جوہر شادی ہال کے سامنے تین طرف سے آنے والی ٹریفک اکٹھی کردی جس کی وجہ سے ہمیشہ وہاں ٹریفک جام رہتی ہے، جب یہ سڑک بنی تو بدترین ٹریفک جام رہنے لگی جس کو دو بار توڑ کر دوبارہ بنایا گیا اور یہ کام نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی کے دور میں ہوا جس کو ہر کام جلدی میں مکمل کرنے کی لت لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر اکبر چوک، بی او آر سوسائٹی اور فیصل ٹاؤن سے یو ٹرن لے کر نہر کی جانب والی ٹریک ایک ہی مقام پر اکٹھی کردی گئی ہے پھر جناح ہسپتال کے تین گیٹ اسی سڑک پر کھلتے ہیں اور یہاں ہر وقت وارڈن تعینات ہوتے ہیں مگر بدترین ٹریفک جام میں بھی وہ غریب موٹر سائیکل سواروں کے چالان کرنے میں مصروف ہوں گے۔ ایک اور دلچسپ بات اسی مقام پر دیکھنے کو ملتی ہے، جناح ہسپتال چوک میں گرین بیلٹ پر کرسیاں لگا کر اپنی ہی عدالت لگائے بیٹھے ہوتے ہیں اور نہر سے آنے والے مزدا ٹرک، لوڈر رکشے اور پک اپس کے چالان کرنے میں مصروف ہوتے ہیں، ان گاڑیوں کو سڑک پر کافی دیر تک کھڑا رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اور ٹریفک جام ہو جاتی ہے مگر مجال ہے ان وارڈنز کو اس کی کوئی پرواہ ہو۔
مشرف دور میں چودھری پرویز الہٰی نے اپنی وزارت اعلی میں ٹریفک وارڈنز کا نظام لاگو کیا تھا، نجانے ان کا مائنڈ سیٹ اسی وقت سے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی طرح بنا دیا گیا کہ سڑکوں پر چلنے پھرنے والے عوام بلڈی سویلین ہیں اس لئے ان سے تمیز سے بات ہی نہیں کرنی، اس دور میں ٹریفک وارڈنز کو پسٹل بھی دیے تھے، تب بھی چند سر پھرے وارڈنز نے وہ پسٹل مجرموں کو پکڑنے کے لئے استعمال کرنے کے بجائے عوام پر ہی گولیاں برسا دیں جس کے بعد ان سے پسٹل واپس لے لئے گئے، اب چند ماہ قبل وارڈنز کو ہتھکڑیاں لگانے کا اختیار بھی دیدیا گیا۔ اب وہ شاید واپس لے لیا گیا ہے۔
گزشتہ برس واپڈا چوک میں ایک وارڈن نے میرے سامنے ایک ریڑھی والے کو سڑک کے قریب کھڑے ہونے پر اس کا ترازو اٹھا کر مار دیا وہ محنت کش بھاگ نکلا اور بچ گیا، میں نے وارڈن سے پوچھا یہ کیا حرکت کی ہے، تم یونیفارم میں ہو تو اس نے کہا کہ روز سڑک پر کھڑا ہو جاتا ہے اور مانتا ہی نہی، تو میں نے جواب دیا کہ وہ تو ان پڑھ اور جاہل ہے، تم یونیفارم میں ہو اور شاید کالج، یونیورسٹی میں بھی پڑھے ہو، مگر تم میں اور ریڑھی والے میں کوئی فرق نہیں رہا، اس بدتمیزی کا کوئی جواز نہیں تم قانونی کارروائی کرو۔
اسی طرح چند برس قبل شام کو اللہ ہو چوک سے گزر رہا تھا، پانچ، چھ وارڈنز نے مزدا ٹرک والوں کو روکا ہوا تھا، میرے سامنے ایک ڈرائیور ٹرک سے اتر کر آیا تو وارڈن نے کوئی بات کیے بغیر اس کو تین چار تھپڑ مار دیے، یہ دیکھ کر میں نے گاڑی روک لی اور ان وارڈنز کے پاس گیا اور پوچھا کہ اس کا قصور کیا ہے اس کو تھپڑ کیوں مارے ہیں جس پر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا، میں نے پوچھا کون سا قانون ہے کہ ایک شخص محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا رزق کما رہا ہے اور تم اس کو تھپڑ مار رہے ہو، کون سے قانون نے تمہیں اجازت دی ہے اور اگر ایسا کوئی بیہودہ قانون ہے بھی تو تم پڑھے لکھے ہو کچھ شرم کرلو، میری انگریزی میں گفتگو سن کر دوسرے وارڈنز نے مجھ سے معذرت کی۔
یہ چند واقعات ہیں جو میرا ذاتی مشاہدہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سڑکوں پر بڑے لوگوں کی بگڑی اولادیں اور اکڑ خان نوجوان پھرتے ہیں مگر ایک قانونی ادارے کا ان جاہلوں سے اس طرح کا برتاؤ کسی طرح مناسب نہیں ہے، اس سے محکمے کی بدنامی ہوتی ہے کیونکہ پاکستان کے کسی بھی ادارے نے عوام کے سامنے اپنا سافٹ امیج نہیں بنایا، اس طرح کی ویڈیوز دیکھ کر عوام کی رائے بدتمیز اور بد لحاظ نوجوانوں کے حق میں ہو جاتی ہے، سی ٹی او، سی سی پی او اور آئی جی پنجاب کو اس اہم معاملے پر توجہ دینی چاہیے، جو وارڈنز اکڑ خان ہیں ان کو دفاتر میں بٹھائیں اور ان کا نفسیاتی علاج کرائیں، ان کی جگہ سلجھے اور تہذیب یافتہ وارڈنز کو فیلڈ میں تعینات کریں، بہت سے ایسے وارڈنز بھی ہیں جو کسی بائیکر یا کار والے کو روکتے ہیں تو پہلے ہاتھ بڑھا کر سلام کرتے ہیں اور اس کی قانونی خلاف ورزی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں جس پر وہ معذرت کرتا ہے، کئی بار دیکھا ہے کہ سلجھے ہوئے وارڈنز سے اگر اپنی غلطی کی معافی مانگ لیں تو وہ وارننگ دے کر چھوڑ بھی دیتے ہیں کہ آئندہ احتیاط کریں، اس لئے بگڑی اولادیں وارڈنز سے جھگڑنے کے بجانے ان کا بھی خیال کریں کہ وہ اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں۔


