خواب، محبت اور زندگی 38


mahnaz rahman

جب میں نے کرامت علی کو جمعیت کے ہاتھوں مرنے سے بچایا

1970 میں کراچی یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کئی سالوں کے وقفے کے بعد فارغ التحصیل طلبہ کے لئے تقریب تقسیم اسناد یعنی کانووکیشن منعقد کرانے کا فیصلہ کیا۔ کرامت علی، رشید رضوی، عابد علی سید اور این ایس ایف کے دیگر لڑکوں نے کانووکیشن کی کارروائی کو درہم برہم کرنے کا فیصلہ کیا۔ این ایس ایف کا کہنا تھا کہ ایسی ڈگریوں کا کیا فائدہ جو آپ کو ملازمت نہ دلوا سکیں۔ ان ڈگریوں کی بے وقعتی ظاہر کرنے کے لئے کانووکیشن میں ہنگامہ کرنا ضروری سمجھا گیا۔

کانووکیشن والے دن میں اور نسرین صبح سویرے ایڈمنسٹریشن بلاک کے قریب سجائے ہوئے پنڈال کے پاس پہنچ گئے۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ ہمارے ساتھی کہاں سے آئیں گے اور کیا کریں گے۔ اچانک کہیں سے کرامت نمودار ہوئے اور جیسے ہی انہوں نے نعرے لگاتے ہوئے سجاوٹ کے لئے رکھے ہوئے پھولوں کے گملے میں سے ایک اٹھا کر زور سے زمین پر پھینکا، بجلی کی سرعت کے ساتھ جمعیت کے لڑکوں کا ایک گروہ وہاں پہنچ گیا اور انہیں گھیر کر مارنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مار مار کر کرامت کو زمین پر گرا دیا اور پھر ایک لڑکے نے قریب پڑا ہوا وزنی پتھر اٹھا کر کرامت کا سر کچلنے کے لئے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر بلند کیا ہی تھا کہ میں نے زور دار چیخ ماری۔ اس نے چونک کر دیکھا اور تب اسے احساس ہوا کہ دو لڑکیاں اس کارروائی کی چشم دید گواہ ہیں، اس نے وزنی پتھر ایک طرف ڈال دیا۔ اور اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے کھسک لیا۔

میں غصے سے پاگل ہو چکی تھی اور چیخ چیخ کر جمعیت کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ این ایس ایف کے کامریڈ اور دیگر ہمدرد ساتھی لڑکے میرے ارد گرد جمع ہونے لگے۔ مجھ پر تو جیسے دورہ پڑ گیا تھا اور میں مسلسل جمعیت کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔ پھر کسی نے کہا ”آرٹس لابی کی طرف چلتے ہیں“ ہم ایک چھوٹے سے جلوس کی شکل میں آرٹس لابی تک پہنچے اور ساتھیوں نے مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا۔ میں نے لابی میں کھڑے ہو کر جمعیت کی جتنی مذمت کر سکتی تھی، کی اور پھر ہم منتشر ہو گئے۔ اگلے روز یونیورسٹی میں ہر ساتھی کہہ رہا تھا ”مہ ناز نے بہت اچھی تقریر کی“ لیکن یہ تو میں ہی جانتی تھی کہ یہ تقریر نہیں تھی بلکہ ایک شدید جذباتی رد عمل اور جمعیت کے خلاف ایک شدید قسم کا سیاسی اشتعال اور ابال تھا۔ اس وقت میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ اس تقریر کی وجہ سے مجھے بائیں بازو کی یعنی این ایس ایف کی طالب علم لیڈر تسلیم کر لیا جائے گا۔ کرامت نے آگے چل کر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ، پائلر جیسا مشہور ادارہ قائم کیا۔ ہماری دوستی اس کے دنیا سے رخصت ہونے تک قائم رہی۔

برسوں بعد این ایس ایف کی فتح۔ میری فتح

ایم اے فائنل میں رخسانہ نے تجویز پیش کی کہ مجھے اکنامکس سوسائٹی کی نائب صدر کا الیکشن لڑنا چاہیے (صدر کوئی پروفیسر ہوتا تھا) ۔ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ آرٹس فیکلٹی کا سب سے بڑا ڈیپارٹمنٹ تھا اور اس وقت تک کبھی کسی لڑکی نے اس عہدے کے لئے الیکشن نہیں لڑا تھا۔ اس وقت تک جمعیت کے اعجاز شفیع گیلانی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہو چکے تھے۔ وہ بھی میرے ساتھ اکنامکس ڈیپارٹمنٹ میں تھے اور یہ بات جمعیت کے لئے نا قابل برداشت تھی کہ این ایس ایف کی لڑکی اسی ڈیپارٹمنٹ میں جمعیت کو ہرا دے۔

جمعیت والوں نے مجھے ہرانے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کیے۔ مجھے الیکشن میں حصہ لینے سے باز رکھنے کے لئے طرح طرح کی دھمکیاں دی گئیں۔ پیپلز پارٹی نئی نئی بنی تھی۔ پاکستان میں پہلی مرتبہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن ہونے جا رہے تھے۔ جمعیت والوں کو خوف تھا کہ اگر یونیورسٹی میں بائیں بازو کی کوئی امیدوار کامیاب ہو گئی تو باہر یہی پیغام جائے گا کہ آنے والے ملکی الیکشن میں پیپلز پارٹی بھی کامیاب ہو گی۔ جمعیت نے اس سے پہلے کبھی یونیورسٹی میں کبھی اس عہدے کے لئے کسی لڑکی کو کھڑا نہیں کیا تھا مگر صرف مجھے ہرانے کے لئے انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کی اور میرے مقابل ایک لڑکی کو امیدوار کھڑا کیا۔ ان کے سارے حربوں کے باوجود میں الیکشن جیت گئی اور ہر کوئی مجھ سے آ کر یہی کہتا تھا کہ حسین نقی کے سات سالوں بعد این ایس ایف نے کراچی یونیورسٹی کے کسی الیکشن میں کامیابی حاصل کی ہے۔

نتائج کے اعلان کے بعد جمعیت کا ایک لڑکا میرے پاس آیا اور بولا ”یہ آپ کے نظریات کی کامیابی ہے“ ۔ اس جملے سے زیادہ فخر و خوشی کی بات میرے لئے اور کیا ہو سکتی تھی۔ میرے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔ ان میں وہ ہار بھی شامل تھے جو جمعیت کے لوگ اپنی امیدوار کی کامیابی کی امید میں لے کر آئے تھے۔ میں اپنے سپورٹرز کے ساتھ ایڈمنسٹریشن بلاک کی طرف گئی جہاں طارق فتح اور چند اور طلبا بھوک ہڑتال کیے لیٹے ہوئے تھے اور وہ سارے ہار میں نے ان لوگوں پر ڈال دیے۔ (سالوں بعد بد قسمتی سے طارق فتح سامراجی بیانیہ کا ماؤتھ پیس بن گیا اور بلا معذرت اسرائیل کی نسل کشی کی پالیسیوں کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ نریندر مودی کی مطلق العنانیت کا بھی حامی بن گیا۔ اسے ایک شرم ناک قلب ماہیت ہی کہا جائے گا) ۔

مزے کی بات یہ ہے کہ الیکشن میں کامیابی کے چند دن بعد ایک دوست نے آ کر کہا ”اب تو این ایس ایف کی رکنیت کا فارم بھر دو“ ۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ میں جو این ایس ایف کی ”لیڈر“ بن چکی تھی اور الیکشن جیت چکی تھی، ابھی تک باضابطہ طور پر رکن نہیں بنی تھی۔ اپنی جیت کے بعد میں نے آٹھ آنے (آدھا روپیہ) والا رکنیت کا فارم بھرا اور باضابطہ طور پر رکن بنی۔

Facebook Comments HS