ہندو لڑکے کیوں محبت نہیں کرتے؟
ہر طرف خوف ہے کہ کب کس کی بچی اغوا ہو جائے اسی سبب بچیوں کو اسکولوں سے نکال کر گھر بٹھا لیا گیا ہے۔ خوف صرف مسلط نہیں بلکہ مارکیٹ کیا گیا ہے۔
سوہانہ شرما
عدالت نے کم عمر سوہانہ شرما کو شیلٹر ہوم بھیجنے کا حکم صادر کیا۔ عدالت کے فاضل جج کے دل کو نہ سوہانہ کی سسکیاں اور نہ اس کے باپ کی آہ و زاریاں پگھلا سکیں کیونکہ انھیں کامل یقین ہے کہ بچی اغوا نہیں بلکہ اپنی مرضی اور محبت کے ہاتھوں خود اس اغواکار کے ساتھ گئی۔ بچی ہندو مذہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کرنا چاہتی ہے لیکن والدین کے خوف سے غلط بیان دے رہی ہے۔ سوہانہ شیلٹر ہوم لے جانے والی وین میں بیٹھی ہے اور اپنے باپ کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے ہے۔ آنسوؤں کی لڑی بڑی لمبی پروئی ہے کہ ٹوٹ کے ہی نہیں رہی۔
بابا مجھے جلدی لینے آنا۔ بہت جلدی۔ مجھے گھر جانا ہے۔
آؤں گا شہزادی جلدی آؤں گا۔ بے بس باپ جھوٹا دلاسا دیتا ہے۔ جانتا ہے کہانی تو ختم ہونے کو ہے۔
مینا کماری
مٹھی کے ایک پسماندہ گاؤں میں مٹی سے لیپے ایک کمرے کے گھر میں چارپائی پر بیٹھی مینا کماری اپنے میلے کچیلے دوپٹّے سے آنکھ سے رواں آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ بات کرتے ہوئے بار بار اس کے گلے میں درد کا ایک گولا سا پھنس جاتا تو اس کی درد بھری روداد سننے والوں کو بھی گلے میں ایک پھندا سا لگتا محسوس ہوتا جسے آس پاس بیٹھے ہوئے اپنا گلا کھنکار کر صاف کرنے کی اپنی سی سعی کرتے۔
کمرے میں سوائے بوسیدہ چارپائی کے جس کی بان بوڑھے برگد کی داڑھی کے مانند جگہ جگہ سے لٹک رہی تھی، صرف ایک تپائی پر دو گلاس دھرے تھے۔
چارپائی پر اس کا دو سال کا بچہ اس کے پہلو سے لگ کر ساتھ بیٹھا تھا اور دوسرا اس کے پیٹ میں چند ہفتوں بعد ہی اس بے حس دنیا میں آنے کو بے چین تھا۔ مینا جس دن اغوا ہوئی اس کی عمر تیرہ سال تھی۔ دس ماہ میں کوئی چھ آدمیوں کی ہوس کا نشانہ بنی۔ ہر مرد اس کا ریپ کرنے سے پہلے کہتا کہ ہمارا نکاح ہوا ہے۔ بقول مینا کے کہ نہ کوئی مولوی ہوتا نہ نکاح پڑھایا جاتا تھا۔ بس مجھے بنا سنوار کر مختلف مردوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔ ایک دو ماہ میں جب ایک مرد کا دل اوب جاتا تو پھر وہی کہانی دہرائی جاتی۔
دس ماہ میں ان گِدھوں نے مینا کا ماس نوچ کھایا اور جب وہ حاملہ ہو گئی تو ایک رات اسے نیم بے ہوشی میں اس کے علاقے کے آس پاس پھینک گئے۔
مینا یہ تو نہیں جانتی کہ پیٹ میں پلنے والا بچہ کس کا ہے؟ ہاں البتہ وہ یہ ضرور جانتی ہے کہ ”ماں وہی ہے“ ۔ اس کے پھولے پیٹ کو دیکھ کر دل سے ایک آہ نکلی کہ یارب کوکھ میں بیٹی نہ ہو۔
رنکل کماری
تھرپارکر کے ایک محلے کی گلی میں بچے گُلّی ڈنڈا کھیلتے ہوئے آسمان سر پر اٹھائے ہوئے ہیں کچھ ہی سمے میں ان بچوں کے شور و غل میں ایک اور بچی کی چیخیں اور آہ و بکا بھی شامل ہو جاتی ہے۔ سارے بچے کھیل چھوڑ کر محلے کے واحد پکے مکان کی جانب دیکھنے لگتے ہیں جس کی دیواریں فصیلوں کی مانند اونچی ہیں۔ ایک کم سن بچی رنکل کماری چھت کی دیوار سے اپنا منہ باہر نکال کر زور زور سے چلا رہی تھی ”مدد کرو میری، مجھے میرے گھر جانے دو، بھگوان کا واسطہ مجھے چھوڑ دو میں مر جاؤں گی“ ۔ ایک بچے نے موبائل سے ویڈیو بنا کر اس منظر کو قید کر لیا۔
اسی سمے کسی نے پیچھے سے آہ وزاری کرتی بچی کو بالوں سے پکڑ کر زور کا جھٹکا دیا۔ بچوں کی نظریں وہی جمیں ہیں لیکن اب نہ وہاں کوئی چیختا ہوا چہرہ ہے اور نہ چلاتی ہوئی آوازیں۔ ثبوت کے طور پر ویڈیو بھی رنکل کماری کو بازیاب نہ کروا سکی۔ پوری آبادی کو آج بھی سانپ سونگھا ہوا ہے۔
وائیتو
حیدرآباد کی ایک کچی آبادی کی ”وائیتو“ چار بچوں کی ماں، دھان پان سے بدن پر گوشت نام کی شے نہ ہونے کے برابر ہے۔ لیکن حوصلہ و ہمت کسی چٹان سے کم نہیں کہ آج بھی اپنے اغواکار اور ریپ کرنے والے رکشہ ڈرائیور کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہے۔ وہی رکشہ والا جس میں بیٹھ کر وہ روز اپنے محلے کی دوسری عورتوں کے ہمراہ اپنے کام پر جایا کرتی تھی۔ اسی رکشے والے نے اس ہندو عورت کو مال غنیمت سمجھتے ہوئے اغوا کر لیا تھا۔ لیکن جیسا کہ عام طور پر عورت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے کہ بھاگ کر گئی ہوگی، وائیتو کے لئے بھی یہی عذر پیش کیا گیا جس میں پولیس کا رول نہایت مکروہ رہا۔ کیونکہ ایک غریب ہندو عورت کی نسبت ایک مسلمان مرد کو بچانا زیادہ افضل عمل ہے۔
وائیتو کے گھر کی دہلیز پر لٹکا پردہ ہوا میں اُڑتے ہوئے اس کے دوپٹّے کی مانند لگ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں مینا کی طرح آنسو نہیں ایک عزم ہے بردباری ہے۔ غالباً عمر اور تجربہ رویوں میں فرق پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ بار بار ایک ہی جملہ دہراتی ہے کہ ایسے سماج کے ناسوروں کو سزا ہونی چاہیے۔ ضرور ہونی چاہیے۔
وہ جب اغوا ہوئی تو تقریباً دو ڈھائی ماہ اس کے چاروں بچے اپنی ماں کے لئے بلکتے رہے، اس کا شوہر در در جا کر انصاف اور اپنی بیوی کی بازیابی کے لئے منتیں کرتا رہا۔ لیکن شنوائی اس ملک میں کم ہی لوگوں کا مقدر ہوتی ہے۔ یہ تو ہندو بھی، غریب بھی اور پھر ایک عورت کا اغوا۔ کس کے پاس ہے وقت ان جیسے کم تر لوگوں کی فریاد سننے کا؟
لیکن سلام ہے اس کمیونٹی کی عورتوں کو جنھوں نے مل کر اپنی وائیتو کو اس چنگل سے چھڑانے کے لئے کئی دن احتجاج کیا اور ڈنڈے لے کر اس اغوا کار کے گھر کا گھیراؤ تب تک جاری رکھا جب تک پولیس کو لا محالہ اسے بازیاب نہ کرانا پڑ گیا۔
یہ مختلف عمر کی چار ہندو عورتوں کی سچی روداد ہیں۔ نہ جانے اور کتنی ایسی عورتیں ہوں گی جن کی کہانی منظر عام پر نمودار نہ ہو سکی یا وہ رنکل کماری کی طرح اندر ہی کہیں مدفون ہو گئیں ہوں۔
چلئے مان لیتے ہیں کہ صرف یہی چار عورتیں اس زیادتی کا شکار ہوئی ہوں باقی سارا فسانہ ہی ہوں۔ تو سوال ہے کہ کیا ”یہ چند“ عورتوں کے ساتھ ہونے والا ظلم کوئی معنی نہیں رکھتا؟
سوال یہ نہیں کہ آیا چار یا پانچ غریب ہندو عورتیں تھیں یا تیس یا چالیس۔ سوال یہ بھی نہیں کہ اغوا ہوئیں، ریپ ہوئیں، جبری شادی ہوئی، بہلا پھسلا کر بھگایا یا سب محبت کا شاخسانہ تھا۔
کلیشے اور واہیات ہی سہی پر کہا جاتا ہے کہ ”محبت اور جنگ میں سب جائز ہے“ تو سوال صرف یہ ہے کہ صرف ہندو عورت ہی کیوں؟ ہندو مردوں کو محبت کیوں نہیں ہوتی؟
اقلیت کے لئے قانون بنانے کی ضرورت اس ملک میں ضرورت پڑتی ہے جہاں انھیں اپنے حقوق نہیں ملتے۔ آپ بے شک سینکڑوں قوانین بنا دیں اگر ان پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا تو سب کارروائیاں بے مقصد رہیں گیں۔ اوپر سے نیچے تک ایک ہی ذہنیت کے افراد انصاف مہیا کرنے بیٹھے ہوں گے تو ہمارا پدر شاہی معاشرہ ثواب کمانے کے نام پر اپنی ہوس پوری کرتا رہے گا۔ یاد رکھئیے ”کفر کے ساتھ معاشرے نہیں ٹوٹتے، نا انصافی کی وجہ سے معاشرہ تتر بتر ہو جاتا ہے“ ۔


