جادوئی تھر کا سفر: قسط نمبر تین : تاریخ اور مہم جوئی کا آخری دن


سورج ابھی ابھی طلوع ہوا تھا کہ ہم پرجوش مسافروں کا گروہ سندھ تھر کی پراسرار خوبصورتی کو دریافت کرنے کے لیے روانہ ہو گیا۔ اس کے بعد جو دن گزرا، وہ روحانی سکون، تاریخی عجائبات، اور اس دلکش خطے کی جاندار ثقافت سے بھرپور تھا۔ یہاں ہماری اس ناقابلِ فراموش سیر کا ایک جھلک پیش ہے۔

ہماری مہم جوئی کا آغاز قصبو مندر سے ہوا، جو تھر کے خشک مناظر کے درمیان گھرا ایک روحانی پناہ گاہ ہے۔ مندر کی پیچیدہ کاشی گری اور پُرسکون ماحول اور اس میں آزاد گھومتے لا تعداد مور نے دن کا نقشہ طے کر دیا، جس نے آگے کے جوش و خروش سے پہلے غور و فکر کا ایک لمحہ بخشا۔ مندر کے صحن میں بھجن گانے والے مقامی گلوکار ہمیں دیکھ کر حضرت سچل سرمست کا کلام گانے لگے۔ باہر بنلکت تو مقامی لوگ تھر کی جڑی بوٹیاں لئے کھڑے تھے۔

وہاں سے ہم کنجھر پہاڑی کی طرف نکل پڑے، جو اب ایک تفریحی مقام ہے حکومت نے وہاں پارکنگ اور چھاؤں کا بہترین انتظام کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دو پہاڑوں کے درمیان ایک لوہے کا پل بنا دیا ہے جس سے یہ مقام مزید خوبصورت اور اس تک رسائی آسان بن گئی ہے۔ ابھی بھی یہ مقام ایک کم جانا پہچانا جواہر ہے جہاں پتھریلی زمین کی دلفریب خوبصورتی اور وسیع صحرائی نظارے ملتے ہیں۔ چڑھائی کے بعد ہمیں محیط نظارے میسر آئے، جو فوٹوگرافر کے لیے جنت کے مترادف تھے۔

قریب ہی حاجی کھوسو میوزیم اور ثقافتی مقام منتظر تھا۔ سندھ کی ورثے کی اس دولت کدہ نے قدیم نوادرات، روایتی پوشاک، اور لوک داستانوں کے نمائشوں کو پیش کیا۔ میوزیم کے نگران، جو دِل سے ایک کہانی کار تھے، نے ہمیں تھر کے مضبوط سماجوں اور ان کی لازوال روایات کی داستانیں سنائیں۔

اب واپسی پر دوبارہ گیسٹ ہاؤس آ کر مقامی ذائقوں کے ساتھ ایک سادہ مگر دل کش ناشتے کے لیے وقفہ لیا۔ تازہ پکی ہوئی پوری مسالہ دار چنے اور حلوہ مقامی لسی نے ہمیں آگے کے سفر کے لیے توانائی بخشی۔ یہ سادہ لمحہ ہمیں خطے کی بے تکلف خوبصورتی کی یاد دلا گیا۔

اسلاماکوٹ پر ہمارے گروہ نے تین الگ الگ مقاماتُ کو روانہ ہونے کے لئے راستے جدا کیے کچھ دوست امر کوٹ روانہ ہوئے کچھ دوست رحمیار خان اور مٹھی ہمارا منتخب راستہ، جہاں تھر کی کثیر الثقافتی روح زندہ ہو گئی۔

مٹھی میں ہم نے ڈائمنڈ ہوٹل پر وقفہ لیا۔ ایک پرکشش مقام جو اپنی کڑک چائے اور کرارے پکوڑوں کے لیے مشہور ہے۔ توانائی بحال کرنے کے بعد ہم مٹھی میں موجود شیو مندر گئے، جو رنگ برنگی دیواروں سے سجا ایک تعمیراتی شاہکار ہے اور شہر کی ہندو۔ مسلم ہم آہنگی کی علامت ہے۔ یہاں پر ہمیں پریتمُ نے مندر کے متعلق معلومات فراہم کیں اور اپنے عقائد سے روشناس کروایا۔

اس کے بعد ہینڈی کرافٹ شاپ جس کے مالک کا نام تھا لو کمہار جس مقامی ثقافتی ورائٹی اور بولنے کے انداز نے ہمارے دِل جیت لیے۔ کڑھائی والے اجرک، رلی، چنری، شیفون، لہنگے، ایپلک ورک، تھر کے روایتی کڑاہی، آئینہ دار کپڑوں سے لے کر ہاتھ سے تراشے گئے لکڑی کے مجسموں تک، ہم نے تھر کی فنکاری کو گرفت میں لینے والے تحائف چنے۔ ہر ٹکڑا خطے کی روح کا ایک حصہ محسوس ہوتا تھا، جو گھر والوں کے ساتھ بانٹے کے لئے بہترین تحفے تھے۔

جب شام ڈھلی تو ہم کراچی کی جانب بدین روڈ پر نکل پڑے، راستے میں ٹھٹہ براق ہوٹل پر رکے۔ اس روڈ سائیڈ ریسٹورنٹ نے ہمیں اپنی مشہور سندھی بریانی خوشبو دار چاول جو نرم گوشت اور مصالحوں سے لبریز تھی۔ اور منہ میں پگھلنے والی سجی (بھنا ہوا بکرے کا گوشت) سے حیران کر دیا۔ ہنسی اور کہانیوں نے فضا کو بھر دیا جب ہم نے اس ضیافت کا لطف اٹھایا۔

ستاروں بھری رات کے نیچے، ہم کراچی واپس پہنچے، خاک آلود مگر گہرے اطمینان کے ساتھ۔ یہ دن تضادات کا ایک رنگین تانا بانا تھا۔ قدیم مندر اور خشک پہاڑیاں، سادہ ناشتے اور ذائقہ دار رات کا کھانا، خاموشی اور رنگ برنگے ثقافتی پہلو۔

سندھ تھر محض ایک منزل نہیں ؛ یہ ایک جذبہ ہے۔ اس کے مقدس مقامات سے لے کر دستکاری اور کھانوں تک، یہاں کا ہر لمحہ تاریخ اور انسانیت سے مکالمہ محسوس ہوتا ہے۔ خواہ آپ تاریخ کے شوقین ہوں، ثقافت کے دلدادہ، یا محض ایک آوارہ گرد، تھر ایسی کہانیاں پیش کرتا ہے جو سفر کے ختم ہونے کے بعد بھی دیر تک زندہ رہتی ہے۔

اگلی بار تک، سفر کرتے رہیں!

Facebook Comments HS

ڈاکٹر معظم خان درانی

ڈاکٹر معظم خان درانی شعبہ بشریات، اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور میں استاد ہیں اور نور محل میوزیم کی تزئین و آرائش میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف کیمریج کے ماہسا پرجیکٹ ساتھ مل کر تاریخ کو جدید تناظر جمع کرنے پر کام کر رہے ہیں

moazzam-khan-durrani has 9 posts and counting.See all posts by moazzam-khan-durrani