اردو کی پہلی خاتون ناول نگار


ناول کی صنف مغرب سے درآمد شدہ ہے ویسے تو ہمارے مشرقی ادب میں زیادہ تر علوم اور اصناف مغرب ہی سے مستعار شدہ ہیں۔ اردو کے پہلے ناول نگار ڈپٹی نذیر احمد دہلوی جنھوں نے استعماری سر پرستی کے تحت پہلا ناول تحریر کیا اور اس صنف کی بنیاد رکھی مگر اس صنف میں خواتین بھی کسی سے کم نہیں رہیں ہمارے ہاں ڈپٹی صاحب پر تو بہت لکھا گیا مگر کسی نے اردو کی پہلی ناول نگار پر نہیں لکھا چند مضامین کے علاوہ۔ رشید النساء اردو کئی پہلی ناول نگار خاتون ہیں 1881 میں انھوں نے اصلاح النساء لکھا جو 1894 میں منظر عام پر آیا بقول ادیب سہیل

”اصلاح النساء“ کی مصنفہ رشید النساء کھلے ذہن کی مالکہ تھیں، جسے عرف عام میں روشن دماغی اور روشن خیالی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان کے یہاں یہ روشن خیالی علم کے ذریعے بھی آئی ہے، اور وراثت میں بھی ملی۔ وہ شمس العلماء سید وحید الدین خان بہادر، صد را علی کی بیٹی، شمس العلماء نواب سید امداد امام اثر کی بہن، بہار کے رئیس اور مشہور وکیل مولوی یحیی کی بیوی، سر علی امام و حسن امام کی پھوپھی، بیرسٹر محمد سلیمان، لیڈی سر عبدالرحیم اور بیہار کی پہلی صاحب دیوان شاعر شار کبری ( جس کے شعری مجموعے کا نام ”خیالات کبری“ ہے اور 1939ء میں قومی پر لیس بانکی پور پٹنہ سے شائع ہوا ہے ) کی والدہ تھیں۔ اتنا کچھ بتا دینے کے بعد اب اس بات کو بیان کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ ان کا ادنی، تہذیبی اور معاشرتی ماحول و منظر کیسا ہو گا۔ ”

ناول ڈپٹی صاحب کی تقلید میں لکھا ہوا نظر آتا ہے جس کا ذکر انھوں نے ناول کے ابتدا میں کیا ہے ناول انیسویں صدی کی عورتوں کی تصویر کشی کرتا ہے اور اشراف گھرانوں کو ملنے والی سہولیات کو بھی موضوع بناتا ہے کہ اس زمانے میں اشراف کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر تھے

ناول دو مسلمان گھرانوں کی کہانی ہے جو عظیم آباد کے پاس رہتے ہیں ناول میں پیروں، فقیروں، پنڈتوں اور اس طرح کے مذہبی لوگوں کو تنقید کا نشانہ بنایا مزید یہ کہ پڑھی لکھی خاتون اور اس کی تربیت گھریلو ماحول پر مثبت پیرائے میں نظر آتی دکھائی دیتی ہے مصنفہ نے ناول میں وہ تمام رسوم جن کا تعلق مذہب سے نہیں اس پر سخت تنقید کی ہے

ناول پیش کش اور کردار نگاری کے اعتبار سے مراۃ العروس سے بہتر نظر آتا ہے عظیم آباد کی خاص زبان لہجہ کو اس کا موضوع بنا نے کے ساتھ محاورات کا ہنر مندی سے استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ مصنفہ کو زبان و بیاں پر درک ہے ناول میں انگریزی تعلیم کی طرف خاصا توجہ دی گئی ہے جیسا کہ امتیاز الدین کا اشرف النِسا کو سکول، کالج اور انگریزی تعلیم دلوانا ناول خاص اس عہد کی نشاندہی کرتا ہے جس میں خواتین معاشرے میں دوسرے درجے کی مخلوق سمجھی جاتی تھی جو کہ کہیں آج میں یہ سوچ معاشرے میں ملتی ہے انیسویں صدی کے دور میں لکھے گئے ایسے کئی ناول گوشہ گمنامی میں گم ہیں جن پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے اور ادیبوں کو اپنے گرد بنائے گئے خاص دائرہ کار سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے ۔

Facebook Comments HS