نیم چاند نما گڑھے جو افریقہ کی زمین کو سیراب کر رہے ہیں : پاکستان کے لیے ایک موثر حل
اقوام متحدہ کی رپورٹ: دنیا کو لاحق خطرہ
زندگی کا سیارہ ”زمین“ اس وقت خشک سالی کی لپیٹ میں ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کا سنگین اثر ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پچھلی تین دہائیوں میں زمین کا تین چوتھائی ( 3 ⁄ 4 ) حصہ خشک سالی کا شکار ہو چکا ہے اور زرخیز زمین تیزی سے بنجر ہو رہی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سیکنڈ چار فٹ بال اسٹیڈیم کے برابر زرخیز زمین بنجر ہو رہی ہے، جو سالانہ 10 کروڑ ہیکٹر کے نقصان کے مترادف ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کی 40.6 فیصد زمین خشک سالی کی لپیٹ میں ہے، اور ان متاثرہ علاقوں میں تقریباً 2.3 ارب لوگ بستے ہیں جو زراعت اور مال مویشی پر انحصار کرتے ہیں۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو 2100 تک کینیڈا کے رقبے کے برابر زمین بنجر، غیر زرعی اور خشک ہو جائے گی۔
خشک سالی صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی، انسانی اور حیاتی بحران بن چکی ہے۔ زرعی زمین کی تباہی سے غذائی قلت، بے روزگاری، نقل مکانی، غربت اور صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں اور وہاں بسنے والے جانداروں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہیں، جیسے کہ الجزیرہ کے مطابق، 2022 کینیا میں خشک سالی اور قحط کے سبب ہزاروں جاندار ہلاک ہوئے، جن میں 512 جنگلی جانور، 208 ہاتھی، 381 زیبرے، 49 نایاب نسل کے زیبرے، 12 زرافے اور مزید جاندار شامل تھے۔
کئی افریقی ممالک، جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور لاطینی امریکہ کے خطے اس چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ایسی پائیدار تکنیکوں کی اشد ضرورت ہے جو کم لاگت، ماحول دوست اور مقامی افراد کے لیے قابلِ عمل ہوں۔
شدید متاثرہ براعظم افریقہ، خصوصاً ساحلی علاقے جہاں بعض اندازوں کے مطابق 70 سے 80 فیصد تک بنجر ہو چکی ہے۔ وہاں مقامی افراد نے صدیوں پرانی تکنیک ”نیم دائرہ نما گڑھے“ کو دوبارہ زندہ کیا اور کر رہے ہیں۔ اس وقت کئی افریقی ممالک میں ”گریٹ گرین وال“ منصوبے کے تحت کامیابی سے اپنایا جا رہا ہے۔
نائجر میں، ورلڈ فوڈ پروگرام کی مدد سے شروع ہونے والے اس منصوبے نے پانچ سالوں میں 400 سے زائد خاندانوں کو 3000 ایکڑ بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے میں مدد دی، جب کہ برکینا فاسو میں فصلوں کی پیداوار میں چار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
2015 میں ”جسٹ ڈگ اٹ“ نامی تنظیم نے اس تکنیک کو تنزانیہ، نائجر اور دیگر افریقی ممالک میں متعارف کروایا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ بنجر زمین دوبارہ زرخیز ہو چکی ہے، قابلِ کاشت بنا دی گئی ہے اور مزید اس پر کام اور نتائج حاصل ہو رہے ہیں۔
نیم چاند نما گڑھے کیا ہیں؟
نیم دائرہ نما گڑھوں کی تکنیک، جسے ہاف مون ٹیکنیک، نیم چاند نما بند، مائیکرو بیسن، ارتھ اسمائل یا کریسنٹ شیپڈ پٹس ان سبھی ناموں سے جانا جاتا ہے۔ جس کی لمبائی 6 میٹر، چوڑائی 1 میٹر، اور اونچائی 0.5 میٹر ہوتی ہے، جب کہ اس کی قوس (خم) کا رداس 2 میٹر ہوتا ہے۔ ایک پرانی مگر موثر طریقہ کا رہے جو خشک اور نیم خشک علاقوں کی زمین کو زرخیز بناتی ہے۔ یہ گڑھے بارش کے پانی کو روکتے، محفوظ کرتے اور زمین میں جذب کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے مٹی نرم، زرخیز اور مرطوب ہوتی ہے، اور فصلوں کی افزائش ممکن بناتی ہے۔ اس میں زمین پر ہلکی ڈھلان والے حصے میں گولائی میں گڑھے کھودے جاتے ہیں۔ جن کا خم اوپر کی طرف ہوتا ہے، تاکہ بارش کا پانی رُک کر آہستہ آہستہ زمین میں جذب ہو جائے۔ یہ تکنیک سب سے پہلے افریقہ کے ساحلی علاقوں میں کامیابی سے دوبارہ متعارف کروائی گئی۔ یہ تکنیک نہ صرف زمین کی نمی بحال کرتی ہے بلکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، زیرِ زمین پانی کی سطح کو بہتر بناتی ہے، مٹی کی زرخیزی میں بہتری اور ماحولیات کی بحالی بھی ممکن ہوتی ہے۔ یہ کم لاگت، مشینری کے بغیر اور مقامی افراد کی مدد سے قابلِ عمل تکنیک ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
تکنیک کے نمایاں فوائد میں سے چند ایک
· یہ تکنیک مشینری یا کیمیکل کے بغیر کھدائی کو ممکن بناتی ہے، اور انسانی قوت کے ذریعے زمین کی کھدائی کو موثر اور قابلِ عمل بناتی ہے۔
· بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچاتی ہے، اسے زمین میں جذب کرنے میں مدد دیتی ہے اور سیلاب کے خطرات کو کم کرتی ہے۔
· درختوں اور چارے کی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے، جو کہ جانوروں اور مقامی حیاتیات کے لیے موزوں ماحول میسر کرتا ہے۔
· مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے، خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت سے سماجی ہم آہنگی میں اضافہ کرتا ہے۔
پاکستان میں صورتِ حال اور اس تکنیک کی ضرورت
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ”پاکستان کے تقریباً 68 فیصد رقبے کو نیم بنجر یا بنجر قرار دیا گیا ہے اور کاشتکاری کے قابل زرخیز زمین تیزی سے بنجر ہوتی جا رہی ہے“ ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس اور مقامی مشاہدات کے مطابق پاکستان میں زمین کی بالائی تہہ ضائع ہو رہی ہے، پانی کی شدید قلت ہے، زرعی پیداوار میں کمی آئی ہے، زراعت پر منحصر روزگار ختم ہو رہا ہے، دیہی غربت، بھوک، غذائی قلت اور شہری ہجرت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ماحولیاتی نظام بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔
مزید برآں، موسمیاتی تبدیلیوں نے بارش کے نظام کو غیر متوقع بنا دیا ہے، جس سے کسانوں کی منصوبہ بندی متاثر ہوتی ہے۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، اور اس شعبے میں مزید کمی پورے معاشی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ ایسے میں نیم دائرہ نما گڑھوں جیسی تکنیک نا صرف ماحولیاتی بلکہ معیشت کی بقا کے لیے بھی اہم ہیں۔
بلوچستان، سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں جہاں بارش کم اور زمین سخت ہے، وہاں یہ تکنیک پائیدار زراعت کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ بلوچستان کے علاقے چاغی اور نوشکی، سندھ میں تھرپارکر اور عمرکوٹ، اور پنجاب کے صحرائی علاقے چولستان میں یہ طریقہ قابلِ عمل ہے۔
پاکستان میں اس تکنیک کے ممکنہ استعمال اور سفارشات
1۔ بارانی علاقوں میں پانی کا ذخیرہ کیا جاسکتا ہے جیسے کہ تھرپارکر، ڈی آئی خان، خاران، اور کوہِ سلیمان جیسے علاقوں میں اس تکنیک سے بارانی کاشتکاری کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
2۔ زرعی جامعات اور تحقیقاتی ادارے میں اس طریقہ کار اور ماڈل پر کام، فیصل آباد، پشاور، ٹنڈو جام کی زرعی جامعات، پائلٹ پروجیکٹس کے ذریعے اس تکنیک کے ماڈل تیار کریں۔
3۔ اس منصوبے پر پالیسی سطح پر کام اور اس کو اپنایا جانا چاہیے۔ اس تکنیک کو نیشنل کلائمیٹ پالیسی، واٹر پالیسی، اور ایگریکلچرل ڈویلپمنٹ پلانز میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
4۔ تعلیم اور آگاہی مہمات کے ذریعے لوگوں اور کسانوں میں آگاہی پیدا کرنا۔ دیہی علاقوں میں کسانوں کو تربیت دینے اور آگاہی پیدا کرنے کے لیے میڈیا، اسکولز، اور سماجی تنظیموں کی مدد لی جائے۔
5۔ اس سے مقامی وسائل اور افرادی قوت استعمال میں آئیں گی جس سے مشینری کے بغیر، انسانی محنت اور مقامی علم کے ذریعے اس عمل کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
6۔ شہری علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح جو کہ تیزی سے کم ہو رہی ہے، اس میں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ، شہری خالی زمینوں پر یہ گڑھے بارش کے پانی کو جذب کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔ شہروں کو سرسبز بنائیں گے، جس سے آلودگی میں بھی کمی آئے گی اور شہری سیلاب کے خطرات بھی کم ہوں گے۔
7۔ نائجیریا، مالی، کینیا جیسے ممالک اور اقوام متحدہ سے تکنیکی معاونت، تربیت، اور اشتراکِ علم کا تبادلہ ممکن بنایا جاسکتا ہے، جس سے یہ بہتر انداز اور نتائج کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔
غرض یہ طریقۂ کار زمین کو دوبارہ سیراب کرنے کے لیے ایک انتہائی موثر اور کارآمد حل ہے، جو کم وسائل میں بھی اچھے نتائج فراہم کر سکتا ہے۔ افریقہ کے 11 ممالک جن میں نائجر، نائجیریا، کینیا، تنزانیہ، ایتھوپیا، مالی اور موریطانیہ شامل ہیں، ان ممالک میں 44 ملین ایکڑ زمین (تقریباً 178,000 مربع کلومیٹر) کو اس تکنیک کے ذریعے زرخیز بنایا گیا ہے۔ پاکستان جو کہ خشک سالی، پانی کی قلت اور پانی کے ضیاع جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ اس کے لیے یہ تکنیک ایک آسان، کم لاگت اور موثر حل فراہم کر سکتی ہے، جو نہ صرف زمین کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی اور معیشت کے استحکام کی طرف بھی قدم بڑھا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم افریقہ کے تجربات سے سیکھتے ہوئے، پاکستان میں اس تکنیک کو عوامی، تحقیقی، پالیسی اور عملی سطح پر اپنائیں، تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے زمین، پانی اور خوراک محفوظ بنائی جا سکے۔ یہ محض ایک زرعی یا ماحولیاتی معاملہ نہیں، بلکہ انسانی بقا اور ترقی کا سوال ہے۔



