”کڑوا سچ“ ۔ میکسم گورکی کی کہانی

18 جون 1936 کو روس کے دارالحکومت کی فضا میں اداسی گھلی ہوئی تھی۔ اس کی پتھریلی گلیوں میں خاموشی، سوگ کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ ایک بڑا ہجوم ایک جنازے کے ساتھ رواں دواں تھا، مگر یہ کوئی عام جنازہ نہ تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کا الوداعی سفر تھا جس کے لفظ مزدور کے لہو میں گونجتے تھے، جو ظلم پر برستا نہیں تھا، صرف لکھتا تھا، اور اس شدت سے لکھتا تھا کہ تخت لرز اٹھتے تھے۔ یہ میکسم گورکی کا جنازہ تھا۔
پھولوں سے سجا تابوت، آہستہ آہستہ سوویت حکومت کی عمارت سے باہر لایا گیا۔ سامنے، سپاٹ چہروں والے فوجی سلیوٹ کر رہے تھے۔ مگر سب سے نمایاں منظر وہ تھا جب خود جوزف اسٹالن، اپنے بازو میں طاقت اور چہرے پر ضبط سمیٹے، گورکی کے تابوت کو کندھا دے رہا تھا۔ ساتھ ہی ایک اور سوٹ پہنے شخص، نظریں نیچی کیے، جیسے گورکی کے لفظوں کے بوجھ تلے دبا ہو، تابوت کا دوسرا سرا تھامے ہوئے تھا۔
کیا یہ سچ تھا؟ وہ اسٹالن، جس پر شک کیا جاتا رہا کہ گورکی کی موت میں اس کا ہاتھ ہو سکتا ہے، آج خود جنازہ اٹھائے کھڑا تھا؟ گورکی کی زندگی کی سب سے تلخ سطر شاید یہی تھی۔ وہ اپنی موت کے بعد بھی ان ہاتھوں پر سوار تھا جن پر وہ ہمیشہ سوال اٹھاتا رہا۔
گورکی، جس کا اصل نام الیگزی میکسمووچ پیشکوف تھا، 1868 میں نژنی نووگورود کے ایک معمولی خاندان میں پیدا ہوا۔ بچپن میں ہی والدین کا سایہ چھن گیا۔ اس کی پرورش اس کی نا نی نے کی اور 1880 میں بارہ سال کی عمر میں گھر سے بھاگ گیا۔ دسمبر 1887 میں خودکشی کی ناکام کوشش کے بعد اس نے پانچ سال تک زار کی روسی سلطنت کا پیدل سفر کیا۔ ملازمتیں بدلیں غربت، فاقہ، مارپیٹ، مزدوری۔ سب کچھ اس کی زندگی کا حصہ بنے۔ مگر اس کی آنکھوں میں ایک ضد تھی، اور دماغ میں لفظوں کی تپش۔
”زندگی کڑوی ہے،“ اس نے ایک دن قلم اٹھایا، ”تو کیوں نہ سچ بھی کڑوا ہو؟“
وہ خود کو ”گورکی“ کہنے لگا۔ مطلب: کڑوا۔
1906 میں شائع ہونے والے اس کے ناول ”مدر“ (Mother) نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی۔ یہ کہانی ایک ایسی ماں کی تھی جو انقلاب کے نظریات میں اپنے بیٹے کے ساتھ شریک ہو گئی۔ گورکی کا قلم مزدوروں کے لیے بولتا، محنت کشوں کے لیے چیختا، اور ظلم پر نفرت انگیزیاں پھینکتا۔ اس تحریر کا آغاز ہی گورکی کے اندر چھپے ہوئے طوفان کا غماز ہے۔ وہ لکھتا ہے : ”ہر روز صنعتی کالونی کے اوپر، دھواں اور تیل سے بھری ہوئی ہوا میں، فیکٹری کا ہارن کانپتا اور ٹوٹ پھوٹ کر بجتا تھا، اور اس کی پکار پر، چھوٹے چھوٹے سرمئی مکانات سے لوگ باہر نکلتے۔ بلکہ ایسا لگتا جیسے خوف سے چُوہوں کی مانند بھاگتے ہوں۔
۔ اور سیاہ، موٹی چیختی ہوئی فیکٹری کی نلکیاں کالونی کے اوپر جیسے موٹی لاٹھیاں کھڑی ہوں، اپنے سیاہ دھوئیں سے ماحول کو ڈھانپتی تھیں۔
شام ہوتی تھی، جب سورج ڈھلتا اور اس کی تھکی ہوئی سرخ شعاعیں مکانات پر پڑتیں تو ان کی کھڑکیاں چمکنے لگتیں۔ فیکٹری اپنے پتھر والے اندر سے مزدوروں کو ایسے نکال دیتی جیسے بے کار فضلہ پھینکا جاتا ہو۔ ”
ناول کا یہ آغاز گورکی کی بے رحمانہ اور حقیقت پسندانہ اسلوب کی مثال ہے۔ گرم، گندے، مزدوروں سے بھرے ماحول کی منظر کشی اور فیکٹری کا بے حس تسلط۔ یہ سب ملازمت کش عوام کی روزمرہ زندگی کی تلخی اور ظلم کی عکاسی کرتے ہیں۔
ناول کا وہ حصہ بہت دلچسپ ہے جس میں ماں اور بیٹے کے درمیان خدا کے وجود و عدم کے بارے میں مکالمہ ہوتا ہے۔ جس میں گورکی اپنے یقین کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے۔ ”میں انسان پر یقین رکھتا ہوں، ماں! ان کی طاقت پر، جو اس ظالم دنیا کو بدل سکتی ہے۔ چرچ ہمیں سکھاتا ہے کہ دکھ برداشت کرو تاکہ جنت ملے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ انصاف یہیں، اسی زمین پر ہو۔“
گورکی نے روسی انقلاب کی حمایت کی، مگر بالشویکوں کی شدت پسندی سے خائف بھی رہا۔ لینن سے اس کی دوستی رہی، مگر جب اسٹالن نے اقتدار سنبھالا، گورکی آہستہ آہستہ پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے تنقید کی، لکھا، چیخا، پھر خاموش ہو گیا۔ اور 1921 میں اٹلی چلا گیا۔
مگر 1932 میں اسٹالن کی خصوصی دعوت پر واپس آیا۔ شاید امید تھی کہ حالات بہتر ہوں گے، شاید کوئی سودے بازی تھی، یا شاید واپسی کا فیصلہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔
18 جون 1936 کو اچانک خبر آئی: ”میکسم گورکی نہیں رہا۔“
کہا گیا نمونیا تھا، مگر سرگوشیاں کچھ اور کہتی تھیں۔
کہا گیا:
”وہ بہت جانتا تھا، بہت بولتا تھا۔“
”اور اسٹالن ایسے لوگوں کو زیادہ دیر زندہ نہیں چھوڑتا۔“
اور پھر وہ دن آیا۔
تصویر کا منظر سامنے آتا ہے۔ گورکی کا تابوت، فوجی وردی زیب تن کیے ہوئے اسٹالن کے کندھوں پر اور دوسری طرف سیاہ سوٹ میں ملبوس اسٹالن کا سب سب سے قریبی ساتھی با اثر سیاستدان ویاچسلاف مولوتوف (Vyacheslav Molotov) تاریخ نے ایک لمحے کے لیے ساکت ہو کر یہ تضاد محفوظ کر لیا۔ ایک طرف طاقت اور دہشت کی علامت، دوسری طرف وہ شخص جس کا قلم کسی طاقت کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔
گورکی تو جا چکا تھا، مگر اس کی تحریریں رہ گئیں۔ وہ تحریریں جو آج بھی چیختی ہیں، کہ سچ کبھی مر نہیں سکتا۔
”میں مر جاؤں گا،“ گورکی نے کبھی لکھا تھا،
”مگر میرے الفاظ زندہ رہیں گے۔ اور جب وقت آئے گا، وہ تمہیں آواز دیں گے۔“
اور آج، اس تصویر میں وہ آواز پھر سے سنائی دیتی ہے۔


