ڈاکٹر حبیبہ حسن جنگ کے دوران ایران کا حال سناتی ہیں
یہ چھ یا سات جون کی شام تھی جب میں نے ڈاکٹر حبیبہ حسن کو فون کیا اور کہا کہ دس جون کو رات کا کھانا غریب خانے پر کھائیے گا۔ ڈاکٹر شیرشاہ، گوہر تاج، شیما کرمانی اور کچھ دوست بھی ہوں گے۔ فون میں ان کی ہنسی گونجی اور آواز آئی ”میں تو نو جون کو الصبح ایران جا رہی ہوں۔ نئی ائر لائن چلی ہے، کراچی سے سیدھی تہران جائے گی اور دو گھنٹے میں پہنچ جائیں گے“
میں نے پوچھا سب خیریت ہے؟
” ہاں سب ٹھیک ہے کہتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ تم تو جانتی ہو میری صحت کے مسائل، اکیلے سفر کرنا اب ممکن نہیں رہا، میری بیک کے مسائل بڑھ رہے ہیں، اب نہ گئی تو شاید کبھی نہ جا سکوں، میری کزن ڈاکٹر سعیدہ حیدر اپنی بہن سے ملنے جا رہی ہے، اس کی سنگت میرے لئے بہت بڑی سپورٹ ہے۔ “
ان کے سفر کے لئے دعائیہ کلمات کہتے ہوئے ہماری گفتگو ختم ہو گئی۔ وہ دو سال قبل فالج کے بہت سخت حملے سے دوچار ہوئی تھیں لیکن جس تیزی اور ماشا اللہ جتنی اچھی طرح انھوں نے واپس نارمل ہونے کا سفر طے کیا وہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ واپسی کے اس سفر میں ان کی شخصیت کی پختگی اور عزم و ہمت کا بھی بہت دخل ہے۔
ڈاکٹر حبیبہ حسن پیشے کے اعتبار سے بچوں کے امراض کی ماہر ہیں۔ ان کا شمار بہت سینئرز ڈاکٹرز میں ہوتا ہے۔
بچوں کے امراض کی ماہر ہونے کے علاوہ وہ شہر کی ایک بہت ہی جانی مانی شخصیت بھی ہیں کہ اپنے زمانہ طالب علمی سے لے کے آج تک وہ ہر اس احتجاج کا حصہ ہوتی ہیں جو کسی بھی نا انصافی، ظلم، تشدد، ہراسانی، حقوق کے حصول، قانون کی پاسداری کے سلسلے میں ہوتا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور عورتوں سے متعلق کسی بھی مسئلے پر آواز اٹھانے والوں میں وہ سب سے آگے ہوتی ہیں۔ ایسا صرف وہ ہی لوگ کرتے ہیں جن کی نوجوانی اس دشت کی سیاحی میں گزری ہوتی ہے اور معاشرے میں ظہور پذیر ہونے والے نامناسب واقعات اور اقدامات پر آواز اُٹھائی ہوتی ہے۔ ان کا آواز بلند کرنے کا مرض عمر کے ہر حصے میں زندگی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔
ڈاکٹر حبیبہ حسن اسی مرض کے مریضوں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ عورتوں اور بچوں کے مسائل پر کام کرنے والی متعدد تنظیموں کے بننے، بنانے کے مراحل سے گزرنے کے علاوہ ان کی عہدیدار رہی ہیں اور آج بھی ہیں۔
کراچی شہر میں بننے والے عورتوں کے پہلے غیر سرکاری شیلٹر ہوم کے بانیوں میں سے ہیں۔ انھوں نے برسوں کراچی جیل میں عورتوں اور بچوں کی فلاح کے لئے بھی کام کیا ہے۔ وہ بچوں کے تین ایسے اداروں سے بھی وابستہ ہیں جن کی ضروریات دوسرے بچوں سے کچھ مختلف ہوتی ہیں۔ پاکستان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل سے ان کی وابستگی بہت پرانی ہے۔ اس حوالے سے وہ ساؤتھ ایشیا کی عورتوں کی نمائندگی بھی کرتی رہی ہیں۔
ان تمام خوبیوں اور گنُوں والی ڈاکٹر حبیبہ نو جون کی صبح کراچی سے اُڑ کے تہران جا پہنچیں۔ اپنی کزن کے گھر ایک بھرپور دن گزارنے کی اگلی صبح وہ سب زیارتوں کے لئے قم گئے۔ بقول ان کے صبح سے شام تک کا یہ سفر بہت آرام دہ اور یادگار تھا۔ صاف ستھری سڑکیں، مہذب لوگ، خوبصورت نظارے، سب کچھ اتنا اچھا اور مکمل تھا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اگلے تین دن میں کیا ہونے جا رہا ہے۔ عام لوگ آنے والے دنوں میں ہونے والی میٹنگز اور ملاقاتوں کے حوالے سے بہت پر امید اور مطمئن تھے کہ اچھا ہی ہو گا۔ سکون اور اطمینان کی اس فضا میں بقول ان کے ہم خوب گھومے پھرے، بازاروں کی خاک چھانی، ایرانی مٹھائی گز، پستے اور بہت ساری خریداری کی، ایران میں سیاحوں کی آمد و رفت سال کے بارہ ماہ رہتی ہے۔ ان میں ایک بہت بڑی تعداد زائرین کی ہوتی ہے۔
13 جون کی رات کو سارا ایران زندگی کے معمولات سے فارغ ہوکے سو رہا تھا کہ رات کے تین بجے ایران کا شمالی اور مشرقی حصہ خوف ناک دھماکوں سے گونج اٹھا، پورا تہران ہل رہا تھا، گو کے وہ نارتھ میں رہائش پذیر تھیں لیکن دھماکوں کی کارروائی سنائی دے رہی تھی۔ ٹی وی کھولا گیا تو حقیقت احوال سے آگاہی ہوئی، کچھ دیر بعد ہی پتا چل گیا تھا کہ فوج کی ہائی کمان سمیت کچھ سائنسدان بھی ان دھماکوں میں نہیں رہے، اسرائیل کے اس اقدام کے خلاف عام لوگوں میں بہت غم و غصہ تھا، لوگوں نے سڑکوں پے نعرے لگانے شروع کر دیے، تہران کی فضائیں دھوئیں، ایمبولینس اور فائر فائٹرز کی آوازوں سے گونجنے لگیں، یوں ہی صبح کی سفیدی نمودار ہو گئی، پٹرول پمپز پر لائنیں لگ گئیں، عام لوگ وہاں سے نکلنا چاہتے تھے، جہازوں کی پروازیں جاری تھیں، لوگوں میں فوجی ہائی کمان اور سائنسی تجربہ گاہوں سے وابستہ افراد کے قتل کے خلاف شدید غم و غصہ تھا، خاص طور پر اس حقیقت کا پتا چلنے کے بعد کہ فوجیوں اور سائنس دانوں کی اموات کا سبب اندورنی سازشیں اور مخبری جیسی کارروائیاں ہیں اور سہولت کار وہ یہودی آبادی ہے جو ایک عرصے سے ایران کے باشندے کہلاتے ہیں، جن کو برسوں پہلے ایران نے پناہ دی تھی، سہولت کاری کے اس کام میں دانستہ نادانستہ مقامی آبادی یعنی ایرانیوں کی کمزوریوں نے بھی کسی حد تک رول ادا کیا، ہر ملک میں جو بھی حکومت ہوتی ہے وہ سب کی پسندیدہ نہیں ہوتی ایسا ہی ایران میں بھی ہے، آج بھی ایران میں نہ صرف مقتدر جماعت کے مخالفین ہیں شاہ کے وفادار بھی ہیں، وہ آج بھی بادشاہت کے لوٹنے کے منتظر ہیں، ان سارے عوامل کو نظر انداز تو نہیں کیا جاسکتا۔
ہماری آمد کا چوتھا دن اور یہ صورت حال تھی۔ وہ دن ہم نے سوچ بچار اور ادھر ادھر رابطوں میں گزارا۔ تہران میں پاکستانی سفارت خانہ بند ہو گیا اور عملہ آذر بائیجان چلا گیا، البتہ زاہدان شہر کا دفتر کام کر رہا تھا۔ تہران سے نکل کے ہم مشہد پہنچے، جس کزن کے گھر ٹھہرے تھے ان کا ایک گھر مشہد میں ہے اور سب ساتھ ہی وہاں پہنچے۔ مشہد کے سفارت خانے کے ذریعے واپسی کے پروگرام کو آخری شکل دی، دو دن مشہد میں قیام کیا لیکن جب وہاں بھی حملہ ہوا تو لوگوں نے وہاں سے بھی انخلاء شروع کر دیا۔
تہران کو بری طرح تباہ کر دیا، کتنی مشکلوں سے بستیاں بستی ہیں، شہر سنورتے ہیں اور منٹوں میں اقتدار کی ہوس اور جھوٹی انا سب کچھ تہس نہس کر دیتی ہے، موبائل سروس بری طرح متاثر، ایک دوسرے سے رابطہ کرنا ناممکن، انسانی جبلت کے عین مطابق بس ٹکٹ اور مختلف اشیاء کی خفیہ خرید و فروخت کا سلسلہ شروع، ایرانی کرنسی میں ملنے والا بس ٹکٹ سو روپے سے بڑھ کے پانچ سو کو چھونے لگا، بس اڈوں سے بسیں غائب، مشہد سے زاہدان آنے کے لئے جس بس کو شام پانچ بجے چلنا تھا، وہ رات کو ساڑھے بارہ بجے چلی، دس گھنٹے کا سفر سولہ گھنٹے سے زیادہ میں طے ہوا، راستے میں دو جگہ بسیں رکیں تاکہ مسافر باتھ روم وغیرہ جا سکیں، زاہدان سے تافتان میں داخل ہوئے۔ ایک بس میں پچاس مسافر، چارسو لوگوں کا قافلہ، آٹھ بسوں پر مشتمل تھا۔
ہمارے قافلے کے آگے، درمیان اور پیچھے فوجی کانوائے تھا، اپنے ملک میں فوج کے زیر سایہ کوئٹہ شہر میں داخل ہوئے تو شہر کی مرکزی سڑک کے تمام سگنلز سبز تھے، بسوں کو تیزی سے نکالنے کا حکم تھا، پتا نہیں بی ایل اے، ٹی ایل اے کس کا خطرہ تھا، سامان تو سارا مشہد میں چھوڑ دیا تھا، بس پلاسٹک کے ایک شاپر میں دو جوڑے کپڑے تھے، اس سے زیادہ پکڑنا میرے بس کی بات نہیں کہ ایک ہاتھ میں اسٹک تھی، وہ رات ائر پورٹ کے پاس ایک ڈاکٹر کے ہاں گزاری۔
اگلی صبح کی پرواز سے کراچی پہنچ گئے، اس ساری ناگہانی میں بہت کچھ پوشیدہ ہے جس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا لیکن ایک بات مسلمہ ہے کہ بہت جان دار قوم ہے، دو ہزار کلو میٹر سے زیادہ بذریعہ سڑک سفر کے دوران کوئی گندا علاقہ نظر نہیں آیا، کہیں کسی سڑک بازار میں کوڑا تو دور کی بات ہے کاغذ کا ٹکڑا نظر نہیں آیا، تعلیم کا تناسب بہت زیادہ ہے، نوے فی صد آبادی تعلیم یافتہ ہے، انھیں اپنے اچھے برے کی تمیز ہے، سیاسی شعور بہت زیادہ ہے، سب کو ایران سے پیار ہے، میر جعفر کا کردار انسانی جبلتوں میں سے ایک ہے، جب تک انسان ہے یہ کردار بھی زندہ رہے گا۔
واپسی کے سفر میں اندازہ ہوا کہ پاکستان سے طلبہ طالبات کی ایک بڑی تعداد تعلیم کے حصول کے لئے ایران گئی ہوئی تھی۔ انھیں اس بات کی بہت فکر تھی کہ پتا نہیں واپس آنے والے ان بچوں کی تعلیم اور مستقبل کا کیا ہو گا۔ مستقبل پر تو اب سب ہی کے سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ قطر پر گولے برس رہے ہیں۔


