تنہا اور غیر شادی شدہ افراد کا مستقبل کیا ہے؟


ڈاکٹر خالد سہیل
رضوانہ شیخ

رضوانہ شیخ کا خط

تسلیمات،

ڈاکٹر خالد، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ ہمارے درمیان سابقہ خط و کتابت کافی مثبت رہی ہے اور اس بنا پر لکھے گئے مضامین سے کئی لوگوں کو رہنمائی ملی ہو گی۔ کچھ دنوں سے میں ایک اور معاشرتی مسئلے پر غور کر رہی ہوں اور اس کے بارے میں پڑھ کر اور دیکھ کر افسوس بھی ہوا ہے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں بھی یہ بات آئی ہے۔ اور یہ مسئلہ ہے تنہا، سنگل/غیر شادی شدہ/بیوہ/طلاق شدہ یا خاندان کے بغیر زندگی گزارنے والی خواتین کا۔

میری ایک شناسا خاتون کا رنگ کافی گہرا اور وزن زیادہ تھا۔ انہی وجوہات کی بنا پر انہیں رشتہ نہ ملا اور وہ اب تک غیر شادی شدہ ہیں حالانکہ اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ اب وہ ایک اکیڈمی چلا رہی ہیں اور یہی ان کی روزانہ کی مصروفیت ہے۔

ایک اور خاتون شادی کے کچھ عرصے بعد بیوہ ہو گئیں۔ ان کی کوئی اولاد نہیں اور دوسری شادی بھی نہ ہو سکی۔ اب وہ کبھی کسی رشتے دار کے گھر اور کبھی کسی اور کے پاس تھوڑا تھوڑا عرصہ رہتی ہیں کیونکہ کوئی بھی ان کو مستقل اپنے ہاں رکھنے کا روادار نہیں۔ وہ تعلیم یافتہ اور جاب کے قابل بھی نہیں ہیں۔ اس طرح ان کی زندگی مسلسل ایک گرداب کا شکار ہے جس سے نکلنے کا کوئی راستہ سمجھ میں نہیں آتا۔

بعض اعلیٰ تعلیم یافتہ اور بہت زیادہ کمانے والی خواتین کو ان کے برابر کا رشتہ نہیں ملتا۔ انہیں اپنے سے کمتر رشتے سے مجبوراً شادی کرنا پڑتی ہے جو ان کے لیے خوشی اور اطمینان کی بجائے ذہنی اذیت کا باعث بن جاتی ہے۔ شوہر اور سسرال سے جب انہیں معقول مقام اور عزت نہیں ملتی تو وہ تنگ آ کر طلاق لے لیتی ہیں۔ ایسی خواتین کو لوگ یہ کہہ کر طعنہ دیتے ہیں کہ اس کا تو مزاج ہی نہیں ملتا کسی سے۔ پتا نہیں اسے کیا چاہیے؟

کئی اور برسرِ روزگار اور تعلیم یافتہ خواتین بعض اوقات خود ہی شادی نہ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں کیونکہ وہ گھریلو اور عام خواتین کی طرح اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتیں۔ وہ خوشی اور اطمینان سے عاری رشتہ جوڑنے کی بجائے تنہا رہنا قبول کر لیتی ہیں۔ اس موضوع پر بی بی سی اردو پر ایک آرٹیکل بھی نظر سے گزرا تھا۔ لوگ شادی نہ ہونے کے بارے میں سوال کر کر کے ایسی خواتین کو مسلسل یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ ان کی زندگی نامکمل ہے۔

یہ مسئلہ ہم جنس پرستی کا رجحان رکھنے والے مرد و خواتین کے ساتھ بھی ہے۔ ایک اور آرٹیکل بی بی سی پر ہی پڑھا تھا کہ دو پاکستانی خواتین ایک دوسرے سے بہت اُنسیت رکھتی تھیں اور وہ مرد سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ گھر سے دور غالباً لاہور میں انہیں دورانِ تعلیم تین چار سال ایک دوسرے کے ساتھ ہاسٹل میں رہنے کا موقع ملا۔ پھر جاب کے دوران بھی وہ ساتھ ہی رہیں۔ ان میں سے ایک خاتون کو کچھ عرصہ بعد گھر والوں کی مرضی سے شادی کرنا پڑی۔

ظاہر ہے اس کے پاس شادی سے انکار کا بہانہ کوئی نہیں تھا۔ اگر وہ ایک خاتون سے اپنی محبت کے بارے میں گھر میں بتاتی تو شاید وہ اس پر ظلم کرتے۔ اس کے پاس خاندان کی مرضی سے شادی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس طرح ایک کی شادی نے اُن دو کو جدا کر دیا۔ شادی کرنے والی خاتون کو تو چلیں، گھر، بچے، شوہر کی صورت میں ایک مصروفیت یا زندگی کا سہارا یا ایک مقصد مل گیا لیکن وہ خاتون کیا کرے جو تنہا رہ گئی؟ ہو سکتا ہے وہ کسی مرد کو شریکِ حیات بنانے میں دلچسپی نہ رکھتی ہو۔ پھر اُس کا اور ایسے حالات سے دوچار دوسری خواتین کا کیا مستقبل ہے؟

اس مسئلے پر میں نے خود تھوڑی تحقیق کی۔ پتا چلا کہ پاکستان میں ہم جنس پرستی یا ایسا تعلق قانوناً ناجائز ہے۔ غیرت کے نام پر قتل اور پولیس کیس کے خوف سے لوگ اپنی زندگی کے اس پہلو کو خفیہ رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ جنسِ مخالف میں عدم دلچسپی کی بنا پر شادی نہیں کرتے اور ہم جنس جوڑوں کی شادی ہمارے ہاں ممکن نہیں۔ اگرچہ ہمارے ہاں ایسے لوگوں کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں لیکن انسانیت کے نکتۂ نظر سے دیکھیں تو ایسے افراد بہت بڑے مسئلے کا شکار ہیں۔ جب انہیں جذباتی، نفسیاتی اور دلی تعلق یا سہارے کے لیے کوئی ان جیسا شخص نہ ملے تو ان کی زندگی اور ذہنی کیفیت کیا ہو گی؟

یہی مسئلہ ہمارے ہاں ہیجڑوں کے ساتھ ہے جن کے لیے شادی کرنا یا خاندان بنانا ممکن نہیں۔ جوانی یا درمیانی عمر تک وہ جنسی استحصال کا نشانہ بنتے ہیں یا ناچ گا کر پیسے کماتے ہیں اور عمر گزر جانے کے بعد بھیک مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ملک کی دو سپر سٹار فلمی شخصیات۔ میرا اور ریشم۔ بھی بدستور غیر شادی شدہ ہیں۔ ان سے انٹرویوز کے دوران بھی کئی دفعہ شادی نہ ہونے اور تنہا زندگی گزارنے کے بارے میں سوال ہوتا رہا ہے۔ ظاہر ہے ان کے لیے اس کا جواب اور اپنی اندرونی کیفیت کا اظہار کافی اذیت ناک ہوتا ہو گا۔ فلموں سے یاد آیا کہ ہماری پرانی فلموں /ڈراموں میں بیوہ/طلاق شدہ/تنہا عورت کے لیے ایک ڈائیلاگ بولا جاتا تھا: یہ پہاڑ جیسی زندگی اکیلے کیسے گزارو گی؟

تو ڈاکٹر صاحب، اتنا طویل خط لکھنے کا مقصد ہے کہ آپ بطورِ نفسیات دان ایسی خواتین (اور مردوں کے لیے بھی) کیا مشورہ دیتے ہیں۔ انہیں جب نفسیاتی، جذباتی، جنسی سہارے اور ضروریات کے لیے کسی غمگسار دوست اور ساتھی کی طلب محسوس ہو تو وہ کیا کریں؟ وہ اپنی اس محرومی کے ساتھ کیسے ایک صحت مندانہ زندگی گزار سکتے ہیں؟

ایسے لوگوں کے لیے نہ صرف نفسیاتی اور جذباتی حوالے سے رہنمائی درکار ہے بلکہ یہ بھی کہ اس معاملے میں معاشرتی سطح پر کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں جو ایسے مسائل کا شکار افراد کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ کچھ کینیڈا کے بارے میں بھی بتائیے کہ وہاں معاشرتی اور حکومتی سطح پر ایسے لوگوں کی کیا مدد کی جاتی ہے۔ امید ہے کہ آپ اس پر بات کرنے کے لیے اپنا قیمتی وقت دیں گے۔

والسلام،
رضوانہ شیخ

ڈاکٹر خالد سہیل کا جواب

محترمہ و معظمہ رضوانہ شیخ صاحبہ!

یہ میرے کالموں کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں آپ جیسی ذہین خاتون باقاعدگی سے پڑھتی ہی نہیں ان پر تبصرہ بھی کرتی ہیں اور پھر مجھ سے دلچسپ سوال بھی پوچھتی ہیں۔ اس دفعہ بھی آپ نے مجرد ’طلاق یافتہ‘ بیوہ اور اکیلے رہنے والے گے اور لیسبین انسانوں کی طرز حیات کے بارے میں ایک معنی خیز سماجی و رومانوی سوال پوچھا ہے۔

آپ نے اپنے خط کے آخر میں لکھا ہے

’کچھ کینیڈا کے بارے میں بھی بتائیے کہ وہاں معاشرتی اور حکومتی سطح پر ایسے لوگوں کی کیا مدد کی جاتی ہے‘

تو جہاں آپ نے اپنے خط کا اختتام کیا ہے میں وہیں سے اپنے خط کا آغاز کرنا چاہتا ہوں۔

مجھے کینیڈا میں رہتے چالیس برس سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ اس طویل عرصے میں میں نے بہت کچھ دیکھا اور بہت کچھ سیکھا۔

مجھے یہ خط لکھتے ہوئے شمالی امریکہ کے فلسفی جوزف کیمبل کا ٹی وی کا وہ انٹرویو یاد آ رہا ہے جس میں میزبان نے جوزف کیمبل سے پوچھا

مغربی دنیا میں پچھلے دو سو سالوں میں انسانی رشتوں میں سب سے اہم کیا تبدیلی آئی ہے؟
یہ سوال سن کر جوزف کیمبل پہلے تو چند لمحے خاموش رہے پھر کہنے لگے
مغربی دنیا میں ٹرائبیڈو، لیبیڈو میں بدل گیا ہے
TRIBIDO CHANGED TO LIBIDO
میزبان نے حیرت سے کہا
کیا آپ اس جملے کی وضاحت کر سکتے ہیں؟
جوزف کیمبل کے بزرگ چہرے پر ایک مشفقانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ پھر وہ کہنے لگے

ایک وہ زمانہ تھا جب نوجوانوں کی رومانوی زندگی کا سارا ٹرائب سارا قبیلہ فیصلہ کرتا تھا جسے ہم ٹرائبیڈو کہتے ہیں۔ اس دور میں ماں باپ دوست رشتہ دار خاندان والے فیصلہ کرتے تھے کہ کس لڑکے کی کس لڑکی سے اور کس مرد کی کس عورت سے شادی ہونی چاہیے۔ وہ شادی دو انسانوں سے زیادہ دو خاندانوں اور دو قبیلوں کے درمیان ہوتی تھی اور اگر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا تو ان کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے دونوں خاندانوں کے بزرگ جمع ہوتے اور اس شادی کے مستقبل کا فیصلہ کرتے تھے۔ اس دور میں شادی ایک قبائلی مسئلہ تھا۔

لیکن پھر دھیرے دھیرے قبیلے اور خاندان کی روایت بدلتی چلی گئی۔

اب نوجوان اپنے رومانوی فیصلہ خود کرتے ہیں۔ جسے ہم لیبیڈو کہتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے محفلوں میں ملتے ہیں ایک دوسرے سے دوستی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوتے ہیں، گرل فرینڈ بوائے فرینڈ بنتے ہیں اور ڈیٹنگ کے کچھ عرصہ بعد فیصلہ کرتے ہیں کہ انہیں ساتھ رہنا ہے یا شادی کرنی ہے۔

اب مغربی دنیا میں محبت اور شادی دو عاقل و بالغ انسانوں کا ذاتی مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ ان کی شخصی آزادی کا مظہر ہے۔ اب اس رشتے میں مذہب اور ریاست نے زیادہ دخل دینا بند کر دیا ہے۔

نوجوان جو بھی فیصلہ کرتے ہیں گھر والے سماج اور حکومت
اس کا ساتھ دیتے ہیں۔ اور ان کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

محبت اور شادی
ایک مرد اور ایک عورت میں بھی ہو سکتی ہے
دو مردوں میں بھی ہو سکتی ہے اور
دو عورتوں میں بھی ہو سکتی ہے

کینیڈا میں قانونی طور پر دو محبت کرنے والے گے اور لیسبین انسان شادی کر سکتے ہیں۔
کینیڈا میں تمام شہریوں کو
سکولوں میں مفت تعلیم
ہسپتالوں میں مفت علاج

معذور و مجبور لوگوں کے لیے ویلفیر کا انتظام و اہتمام کیا جاتا ہے تا کہ تمام شہری عزت نفس کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

کینیڈا میں عورتوں نے اپنے آزادی و خودمختاری کی جنگ لڑی ہے اور عورتوں نے یہ سیکھا ہے کہ ان کی عزت کی زندگی گزارنے کے لیے اہم ہے کہ وہ

ڈبل ڈی سے استفادہ کریں
پہلی ڈ۔ سے ڈگری
دوسری ڈ۔ سے ڈرائیور لائسنس

جب کوئی کینیڈین عورت کالج اور یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کر لیتی ہے تو وہ معقول نوکری کر سکتی ہے۔ اس طرح وہ مردوں کی بالادستی اور کنٹرول سے آزاد ہو جاتی ہے۔ معاشی آزادی کے بعد اس کا باپ اور بھائی اس پر حکم نہیں چلا سکتے۔ اور اگر وہ اس کا عزت و احترام نہ کریں تو وہ اکیلے بھی رہ سکتی ہے۔

جب وہ ڈرائیورز لائسنس حاصل کر لیتی ہے تو پھر وہ آزادی سے شہر اور ملک میں گھوم پھر بھی سکتی ہے۔ سیر کرنے جا سکتی ہے اور زندگی سے محظوظ و مسحور ہو سکتی ہے اسے کوئی فکر نہیں ہوتی کہ

کوئی اس کی کار چرا کر لے جائے گا
کوئی اسے اغوا کر لے گا یا
کوئی اس کے گھر پر حملہ آور ہو جائے گا اور
اس نے کسی مرد کی بات نہ مانی تو کوئی اسے قتل کر دے گا۔

کینیڈا میں ڈیٹنگ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اگر کسی عورت کو کوئی مرد پسند آ جائے تو وہ اسے اپنا دوست بنا لیتی ہے اور اگر دونوں ایک دوسرے کر پسند کرنے لگیں تو وہ ایک دوسرے کے محبوب اور شریک حیات بھی بن سکتے ہیں اور اگر رشتے میں محبت ختم ہو جائے تو وہ ایک دوسرے سے جدا بھی ہو سکتے ہیں۔

کینیڈا میں جوان مردوں اور عورتوں نے ورجینیٹی کے مسئلے کو بھی حل کر لیا ہے۔ ڈیٹنگ میں اس بات کو قبول کر لیا گیا ہے کہ جانبین کے ایک دوسرے سے ملنے سے پہلے اور بھی محبوب تھے۔ ڈیٹنگ کرنے والوں کو اس بات کی خوشی ہوتی ہے کہ دونوں رومانوی طور پر تجربہ کار ہیں۔ ان کا تجربہ انہیں ایک بہتر رومانوی رشتہ استوار کرنے میں مدد کرتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔

کینیڈین مائیں اپنی بیٹیوں کے نصیحت کرتی ہیں کہ

بیٹی پہلے بوائے فرینڈ سے شادی نہ کرنا۔ پہلی محبت میں انسان بہت جذباتی ہو کر جذباتی فیصلے کرتا ہے جب دو تین رومانوی رشتے ختم ہو جائیں تو اس کے بعد انسان محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر دانشمندانہ رومانوی فیصلے کرتا ہے۔

کینیڈا میں
کبھی دوست محبوب بن جاتے ہیں اور
محبت ختم ہو جائے تو دوبارہ دوست بن جاتے ہیں

افتی نسیم کا شعر ہے
ہزار تلخ ہوں یادیں مگر وہ جب بھی ملے
زباں پہ اچھے دنوں کا ہی ذائقہ رکھنا

کینیڈا میں شادی شدہ جوڑوں نے عزت و احترام سے ایک دوسرے سے جدا ہونا سیکھ لیا ہے۔

میری نگاہ میں دو محبوبوں کی ایک دوسرے سے دوستی انہیں تلخی سے بچاتی ہے اور انہیں ایک دوسرے سے احترام سے عزت سے جدا ہونا سکھاتی ہے۔

میری نگاہ میں پاکستان میں چونکہ لڑکوں اور لڑکیوں کو مردوں اور عورتوں کو گلیوں محلوں سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں میں ایک دوسرے سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ وہاں کا کلچر ایک سیگریگیٹڈ کلچر ہے اس لیے نوجوانوں کی ایک دوسرے سے دوستی نہیں ہوتی وہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار نہیں ہوتے

وہ محبت اور ہوس میں
وہ محبت اور جنسی کشش میں
فرق کرنا نہیں سیکھتے اس لیے صحتمند اور غیر صحتمند رشتوں میں فرق نہیں کر پاتے۔

ڈیٹنگ کو معیوب سمجھا جاتا ہے
فارسی میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کو
دختر دوست اور پسر دوست کہا جاتا ہے

لیکن اردو میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے لیے مناسب متبادل الفاظ موجود نہیں ہیں۔

پاکستان میں نوجوان مردوں اور عورتوں کے خاندان ان کی زندگیوں کے شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی فیصلے کرتے ہیں۔

وہ فیصلے دانش کی بجائے انا کی وجہ سے کیے جاتے ہیں جو شادی کو اکثر اوقات بہتر بنانے کی بجائے بدتر بنا دیتے ہیں۔

پاکستانی معاشرے میں زندگی بھر ایک شادی اور ایک محبت کو آئیڈیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ فراز فرماتے ہیں

ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فراز
یہ تصور حقیقت پسند تصور نہیں ہے۔

ایک مرد یا عورت زندگی میں یکے بعد دیگرے کئی محبتیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ انسان ہر محبت سے کچھ سیکھتا ہے اور رومانوی تجربہ حاصل کرنے کے بعد بہتر فیصلے کرتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ہر رشتے کو نیکی بدی کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اور محبت کو گناہ سمجھا جاتا ہے۔

وہ مرد جو اپنی بیویوں کا خیال رکھتے ہیں ان سے عزت و احترام سے پیش آتے ہٰیں ان کا روایتی مرد۔ زن مرید۔ کہہ کر مذاق اڑاتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ اگر پاکستان میں جوان مرد اور عورتیں
ایک دوسرے سے دوستی کریں
دوستی کے بعد ایک دوسرے سے محبت کریں
اور دوستی اور محبت کے بعد جی چاہے تو شادی کریں
اور اگر شادی کامیاب نہ ہو تو عزت سے جدا ہو جائیں
تو زندگی بہت سہل ہو جائے

اسی طرح اگر حکومت ایسے ادارے بنائے جو معاشی اور سماجی طور پر معذور و مجبور لوگوں کی ذمہ داری لے تو بہت سے لوگ عزت نفس سے زندگی گزار سکیں۔

رضوانہ شیخ صاحبہ!
میرا خط لمبا ہوتا جا رہا ہے کیونکہ آپ نے بہت سے حساس موضوعات کو چھیڑا ہے۔

آپ کے خط سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بہت سے لوگ شادی کو کامیابی اور اکیلے رہنے کو ناکامی سمجھتے ہیں۔ میں اس نظریے سے متفق نہیں ہوں۔

میری چھوٹی بہن عنبرین کوثر، جن سے آپ لاہور میں مل چکی ہیں۔ اس بات سے حیران ہوتی ہیں کہ
میں اکیلا رہتا ہوں
اپنی مرضی سے اکیلا رہتا ہوں
اور خوش رہتا ہوں
چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس کا اکیلے رہنا
نہ تو کوئی برائی کی بات ہے
نہ وہ جرم ہے
اور نہ کوئی گناہ ہے۔

انسان مخلص دوستوں کے ساتھ ایک خوشگوار زندگی گزار سکتا ہے۔
اپنی پسند کا محبوب مل جائے تو کیا کہنے۔
میری نگاہ میں مجبوری کی شادی سے اکیلے رہنا بہتر ہے۔
انسان کا سب سے بڑا مسئلہ احساس تنہائی ہے۔
انسان نے اکیسویں صدی میں بھی اکیلے رہنا نہیں سیکھا۔

وہ اکیلے رہنے کو اپنی ناکامی سمجھتا ہے اور اگر خود نہیں سمجھتا تو اس کے آس پاس کے لوگ اسے ناکام انسان سمجھتے ہیں اور وہ احساس کہتری کی وجہ سے ان کی باتوں کو مان جاتا ہے۔ خود کو ناکام سمجھنے لگتا ہے اور دکھی ہو جاتا ہے۔ وہ

لوگ کیا کہیں گے؟
کے گرداب میں پھنس کر گھبرا جاتا ہے۔

مردوں اور عورتوں، خاص طور پر غیر روایتی مردوں اور عورتوں کے لیے ایک ہم خیال اور ہم مزاج دوستوں کا حلقہ بنانا بہت ضروری ہے۔ ہم ایسے حلقے کو فیمیلی آف دی ہارٹ کا نام دیتے ہیں۔

اگر دو عاقل و بالغ انسانوں کو ایک دوسرے سے محبت ہے تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں کسی اور انسان کو غیر ضروری دخل اندازی کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

آپ کے خط میں دو عورتوں کی ایک دوسرے سے دوستی اور محبت تھی۔ وہ مخلص دوستی اور محبت ساری عمر قائم رہ سکتی تھی۔ چاہے وہ شادی کرتیں یا نہ کرتیں۔

محبت کرنے والوں کو کچھ ہمت اور کچھ جرات کی ضرورت ہوتی ہے۔

محبت کرنے والوں کو اپنی محبت کے لیے کچھ قربانی بھی دینی پڑتی ہے، وہ قربانی اس محبت کے رشتے کو مضبوط بناتی ہے۔

بعض دفعہ محبت کے لیے روایت سے بغاوت کرنی پڑتی ہے۔
ساحر لدھیانوی کا شعر ہے
اتنی ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر لو
ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

ہماری قوم کے محبوبوں میں تھوڑی تھوڑی بزدلی بھی ہے اور تھوڑی تھوڑی منافقت بھی۔
ہمیں اس نفسیاتی اور سماجی حقیقت کو دل کی گہرائیوں سے قبول کرنا ہو گا کہ ہمارا سچ ہمیں آزاد کرتا ہے
صحتمند محبت صرف دو آزاد انسانوں کے درمیان ہی ممکن ہے
باقی سب دنیاداری ہے۔

جب دو انسان ایک دوسرے سے سچی اور سچی محبت کرتے ہیں تو پھر انہیں دنیا کی کوئی طاقت ایک دوسرے سے جدا نہیں کر سکتی۔ دو محبوب اپنے خاندان اور اپنے سماج سے نہیں گھبراتے نہیں ڈرتے۔ وہ اپنی محبت پر فخر کرتے ہیں اور اپنی محبت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ ایسے دوست بناتے ہیں جو ان کی محبت کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ مشکل وقت پڑنے پر ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ پاکستانی عورتوں کو بھی ایسی سہیلیوں کی فیمیلی آف دی ہارٹ بنانی ہوگی جو ان کے محبت بھرے رشتوں میں ان کی ہر طرح سے معاونت کر سکیں۔

رضوانہ شیخ صاحبہ
خط کی طوالت کے لیے معذرت
آپ کا دوست اور آپ کے دلچسپ سوالوں کا مداح
خالد سہیل

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail