موجودہ عالمی صورتحال پر تبصرہ
عالمی واقعات پر تبصرہ کرنا، بہت ہی بڑی بات سمجھی جاتی تھی، ملکی سیاست پر سوجھ بوجھ بھی بڑی بات تھی، لوگ کونسلر اور ناظم تک محدود تھے، ان کے لیے ان کے علاقے کا ایم این اے، اور ایم پی اے ہی صدر جارج بش سے کم نہ تھا۔
دنیا ستمبر 11 کے بعد تیزی سے بدلتی ہوئی نظر آئی، پاکستان نے افغان رفیوجی اور افغان طالبانائزیشن، ہندوستانی ایجنسیز کی مداخلت سمیت ایک نئی ایٹمی مملکت ہوتے ہوئے بڑے دھیان سے، تحمل سے اور خیال سے مقابلہ کیا، ملکی سالمیت کا دفاع کیا، یہ افواج پاکستان کی کاوشوں اور شہادتوں کی وجہ سے ممکن ہو سکا۔ مختلف پراکسیز کو توڑ کر رکھ دیا گیا۔ بات کا رخ تھوڑا مڑ گیا اصل مدعے پر آتے ہیں۔
اب ہر شخص بات کی شروعات ہی امریکی صدر ٹرمپ سے کر رہا ہے، ہوٹلوں پر، گلی نکڑ پر، چوراہوں پر اور بازاروں میں تھڑوں اور دکانوں پر، آفسوں میں اور گاؤں دیہات میں یہ ایم این ایز، ایم پی ایز، کونسلرز، چیئرمین، پاکستانی صدر وزراء اعلیٰ، وزیر اعظم پر ان نظر کی نہیں پڑتی کوئی وقعت ہی نہیں جیسے۔
ایران، ایک اسلامی مملکت ہے، گزشتہ کوئی تیس برس سے سن رہے ہیں کہ ایٹم بم تیار ہو رہا ہے ان کا، جہاں تک مجھے یاد ہے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب پر بھی چھینٹے ایران کی وجہ سے پڑے تھے۔ خیر وہ بات مجھے یاد نہیں مکمل تو میں اس کا تذکرہ بھی نہیں کروں گا۔
اسرائیل سے ایران کے تنازعہ کی خبریں آج یا کل کی نہیں ہیں، مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی گزشتہ پندرہ روز کے دوران ہزاروں میزائل ایران کی طرف سے اسرائیل پر داغے گئے، لیکن اسرائیل کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، جب کہ اسرائیل کے حملے میں ایران کے اعلیٰ حکام شہید ہوئے، امریکہ نے بھی ٹارگیٹڈ آپریشن کیا اور کامیاب قرار دیا۔
جب کہ اسی تناسب سے جائزہ لیں تو پاکستان نے ہندوستان کے حملے پر جوابی کارروائی کی، اور چند میزائل اور ائر فورس کے جیٹ اڑے اور ہندوستان کے جدید دفاعی نظام کی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔ یہاں تک کہ جلد از جلد امریکہ صدر ٹرمپ کو مداخلت کرنی پڑی، دنیا پر پاکستانی افواج کی اہمیت کھل کر سامنے آئی ہندوستانی پروپیگنڈا اور ہندوستان کی افواج کی قلعی کھل گئی، دنیا کو معلوم ہوا کہ ہندوستان صرف بالی ووڈ تک ہی محدود ہے۔
خیر ان باتوں کی تصدیق ساٹھ برس پہلے سنہ 65 کی جنگ، بعد میں سنہ 71 اور کارگل کے وقت بھی معلوم ہوئی تھی لیکن اس دوران نئی نسلیں پروان چڑھ چکی تھیں اور پاکستان کی نئی نسلوں نے پاکستانی افواج کی بہادری اور ہندوستانی حکومت اور افواج کی بزدلی اور بوکھلاہٹ کا عملی مظاہرہ دیکھا۔
تو بات یہ کہ ایران کے پاس صرف باتیں ہیں، اور باتیں عمل کے پاؤں میں بھاری زنجیر ہوتی ہیں۔

