مسٹر یو ٹرن


دنیا، بارہویں گھنٹے کی دہلیز پر کھڑی تھی۔ وقت، جیسے سانس روکے منتظر تھا۔ خبریں خاموشی کے پس منظر میں چیخ رہی تھیں۔ میز پر سرخ بتیوں کے نیچے گھنٹیاں بج رہی تھیں۔ کیمرے جھکے ہوئے تھے، اور ایک بلند اسٹیج کے وسط میں وہ کھڑا تھا۔ اپنی مخصوص خندہ جبینی اور غیر مرئی طاقت کے ہالے میں لپٹا ہوا مسٹر یو ٹرن۔

نہ کوئی شجرہ، نہ کوئی جائے پیدائش۔ ایک ایسا کردار جو کبھی ریسلنگ کا شو مین تھا، کبھی مغربی فلموں کا کاؤ بوائے، کبھی اقوام متحدہ کا ثالث، اور کبھی امن کا نوبل امیدوار۔ لیکن جب ضرورت پڑتی تو وہی شخص جنگ کا سفیر بن کر پردے پر نمودار ہوتا۔ اس کا کمال صرف یو ٹرن لینا نہ تھا، بلکہ ایسے لینا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ جیسے تاریخ کا رجسٹر محض مسودہ ہو، جسے جب چاہے بدل دو۔

بارہواں گھنٹہ تھا۔ ایک ایسی ساعت جس پر دنیا کی تمام امیدیں مرکوز تھیں۔ لگتا تھا جیسے لمحہ کچھ طے کر لے گا۔ شاید اس بار کوئی حتمی معاہدہ وجود میں آ جائے۔ شاید اب کے بار امن کا نوبل کسی کے ہاتھ میں تھما دیا جائے۔

اور تب اُس نے کہا: ”ہم نے فیصلہ کر لیا ہے۔ اب کوئی رجوع نہیں۔ ہم مستقل امن کی طرف بڑھ رہے ہیں۔“

دنیا نے سکون کا سانس لیا۔ فاختائیں ٹی وی کی اسکرینوں پر پر پھیلانے لگیں۔ سوشل میڈیا پر سفید جھنڈے ترنگ میں لہرانے لگے۔ وہ جو کل تک ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے، آج ہاتھ ملا رہے تھے۔ لیکن پھر، گھڑی نے بارہ سے ایک جھٹکے میں تیرہ بجا دیے۔ اور اندھیرے اترنے لگے۔

تیرہواں سایہ آ گیا۔ وہ لمحہ جو نہ کسی خبر میں آتا ہے، نہ کسی قرارداد کی شق میں درج ہوتا ہے۔ بس طاقت کے خاموش کمرے میں آنکھوں کے ایک اشارے سے نازل ہوتا ہے۔

مسٹر یو ٹرن نے اپنی کرسی ذرا سی پیچھے سرکائی، ہلکا سا کھنکارا، اور نرمی سے کہا ”نئی انٹیلی جنس موصول ہوئی ہے۔ صورتحال بدل چکی ہے۔ ہمیں اب نئے فیصلے کرنے ہوں گے۔“

دنیا خاموش رہی۔ کسی نے پلک تک نہ جھپکی۔ چیخوں کے نیچے قہقہے، قہقہوں کے نیچے سودے اور سودوں کے نیچے خاموش لاشیں۔ ہزاروں مارے گئے۔ لاکھوں اپاہج، بے گھر، دربدر۔ مگر نہ کوئی معذرت، نہ ندامت۔ نہ کوئی وضاحت، نہ شرمندگی۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

اور تب انکل سام، جو پالیسی کی بندوق تھامے کھڑا تھا، مائیک پر آیا اور کہا ”یہ سب حادثاتی نقصان تھا۔ امن کے قیام کی ناگزیر قیمت۔“ پریس کانفرنس کے بعد اس نے ایک لطیفہ سنایا۔ اور ہال قہقہوں سے گونج اٹھا۔ ایسے قہقہے جن کے نیچے جنازے کچلے جا رہے تھے۔

وہ بارہواں گھنٹہ، جس پر دنیا نظریں جمائے بیٹھی تھی، تیرہویں سائے نے نگل لیا۔ اور اگلے دن، مسٹر یو ٹرن نے نیا لائحۂ عمل جاری کیا ”ہم آگے بڑھ چکے ہیں۔ پرانا بیانیہ بے کار ہے۔ وقت کے ساتھ بیانیے بھی بدلتے ہیں۔“

وہ طاقتور تھا۔ جب اس کا مرغا ہارنے لگتا، تو کھیل کے اصول بدل دیے جاتے۔ اور ایک نیا تماشا شروع ہو جاتا۔ اب لوگوں کو تفریح کے لیے سینما کی ضرورت نہ تھی۔ تماشا براہِ راست نشر ہوتا۔ ٹی وی، یوٹیوب اور ایکس پر۔ جہاں مسٹر یو ٹرن کا ہر بدلتا ہوا بیان عوامی تالیوں میں دفن ہو جاتا۔ دنیا اُسے مصلح کہتی رہی، حالانکہ وہ صرف وقت کا سوداگر تھا۔ جو بارہ بجے امن بیچتا اور تیرہ بجے ہتھیار۔

دنیا ایک قوس پر کھڑی ہے، جہاں ہر فیصلہ ایک دائرے میں مقید ہے۔ ہر انجام ایک آغاز، اور ہر آغاز ایک نیا یو ٹرن۔

اور مسٹر یو ٹرن۔ اب بھی وہیں کھڑا ہے۔ اپنی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ۔ بارہویں گھنٹے کو بیچ کر، تیرہویں سائے میں چھپ جاتا ہے اور دنیا؟ تالیاں بجاتی ہے۔

Facebook Comments HS