تمہاری جنگوں میں جانور کیوں کچلے جائیں؟
حال ہی میں نیٹ فلیکس پر تفتیشی نوعیت کی ایک دستاویزی فلم دیکھی؛ ’امریکن مین ہنٹ: اسامہ بن لادن‘ ۔ اس کی تینوں قسطوں نے ہمارے زخموں کو ایک بار پھر ہرا کر دیا۔ نائن الیون کے بعد انکل سام کا غصہ، پاگل پن، بدلے کی آگ اور ہماری وحشت، سب نظروں کے سامنے گھوم گئے۔ ہنسی اس بات پر آئی کہ جو مناظر ہم نے اصلاً سہے اور اپنی اولادیں ان میں جھونک دیں۔ ان کی محض جھلکیاں دکھا کر ناظرین کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اس فلم کے بعض پُر تشدد مناظر آپ کو ڈسٹرب کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اٹھارہ برس سے کم عمر افراد نہ دیکھیں۔
اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے مشن کا نام رکھا گیا ’آپریشن جا بریکر‘ (جبڑا توڑ) اور ان تین قسطوں میں سے ایک کا عنوان ہے ’گلوز آر آف‘ (یعنی کھلی مکے بازی) ۔ افغانستان کی ایک بار پھر شامت آ گئی اور کابل میں دو کاروبار خوب چمکے۔ کفن دفن اور استعمال شدہ اسلحے کے سکریپ کی خرید و فروخت۔ نائن الیون کے 89 دن بعد یعنی نو دسمبر 2001 ء کو تورا بورا کے غاروں پر چھپن ( 56 ) گھنٹے کی مسلسل بمباری ہوئی۔ جس میں پندرہ ہزار پاؤنڈ کے ڈیزی کٹر بم سمیت تقریباً سات لاکھ پاؤنڈ بارود گرایا گیا۔ اِسے جنگِ عظیم دوم کے بعد کسی چھوٹے سے علاقے پر اب تک کی بدترین بمباری کہا جاتا ہے۔ امریکہ کو اپنی ائر سٹرائیکس پر اتنا بھروسا تھا کہ اس نے تورا بورا آپریشن میں زمینی فوج کا استعمال کیا ہی نہیں اور چھوٹی سی وادی بموں کے بارود سے بھون ڈالی۔ اسامہ بن لادن تو ہاتھ آیا نہیں مگر تورا بورا کا ایکو سسٹم اس کی تلاش کی بھینٹ چڑھ گیا۔ بے گناہ لوگ مرے، سو مرے۔ کچھ معصوم چرند پرند بھی شاید وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے ہوں۔ مگر بیشتر جنگلی حیات و نباتات کہاں بھاگتے۔ سو راکھ ہو گئے۔ ان کی تو لاشیں بھی کسی تجزیہ کار یا جنگی مبصر کی گنتی میں کبھی شمار نہ ہوئیں۔
غزہ پر اب تک جتنا بارود برسایا جا چکا ہے۔ وہ پانچ ہیروشیما بموں کی طاقت کے برابر ہے۔ ایسے میں وہاں مقیم جانوروں کے آبائی مسکن اجڑ گئے ہوں گے۔ اس بدقسمت ساحلی پٹی سے ٹکرانے والے بحیرہ روم کی ڈولفنز، کچھوؤں اور دیگر سمندری حیات کا کیا ہوا ہو گا؟ ہزاروں میل سے وہاں ہجرت کر کے آنے والے پرندے زہریلا پانی پی کر مر گئے ہوں گے یا واپس اپنے گھروں کو کیا کہانیاں لے کر لوٹے ہوں گے؟
آپ نے کبھی کوئی تنِ تنہا فاقہ زدہ شیر دیکھا ہے؟ جس کی کھال اس کی پسلیوں سے چپکی ہوئی ہو اور گوشت تو درکنار ہفتوں سے روٹی کے ٹکڑوں کے لیے ترس گیا ہو۔ سننے میں عجیب لگ رہا ہے نا! ابھی اپنا فون کھولیے۔ گوگل پر جائیے اور لکھیے ؛ ’زو اِن غزہ‘ اور دیکھ لیجیے غزہ کے جنوبی شہر رفح کا وہ چڑیا گھر (جس کے جانور فاقوں سے مر گئے یا بارود سے ) آپ کے اشرف المخلوقات ہونے کی حقیقت پر بہت سی روشنی ڈال سکتا ہے۔
ہماری ایک بلی تھی ’نینا‘ ۔ ویسے تو سارا دن اس کی اٹکھیلیاں، شرارتیں اور نخرے بازیاں چلتی رہتیں مگر جیسے ہی کچن میں کوئی سٹیل کا برتن گرنے کی زوردار آواز آتی تو وہ بُری طرح ڈر جاتی اور بھاگ کر کسی نہ کسی کی گود میں پناہ لے لیتی۔ نینا ایسی نہیں تھی کہ چپکے سے دروازہ پھلانگ کر باہر نکل جائے اور گھوم پھر کر واپس آ جائے۔ ہم سب نینا کی حساسیت سے واقف تھے، اس لئے اس کا ذرا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ایک دن نجانے اسے کیا سوجھی اور تجسس کی ماری نینا باہر چلی گئی۔ گلی میں کوئی کتا اپنے زعم میں اس پر بھونکا مگر نینا کتے کی آواز کی ایکو برداشت نہ کر پائی اور ڈر کے مارے اس کا ہارٹ فیل ہو گیا۔
گھر کے باغیچے میں نینا کی تدفین ہوئی اور اس کی قبر کے پاس بیٹھی میں یہ سوچ رہی تھی کہ یہ تو ایک کتے کا بھونکنا برداشت نہ کر پائی۔ ایٹم بم کی آواز سے ہیروشیما اور ناگاساکی میں بسنے والے جانوروں اور پرندوں کا کیا حال ہوا ہو گا۔ میں نے گوگل کیا تو پتہ چلا کہ ایک لاکھ چالیس ہزار ( 1,40,000 ) ہزار انسان ہیروشیما میں اور چوہتر ہزار ( 74,000 ) ناگاساکی میں جل کر بھسم ہو گئے۔ مگر کتنی تتلیاں راکھ ہوئیں۔ کتنے پیڑ قتل ہوئے۔ کتنے پرندے اُڑتے اُڑتے فضا میں گَل گئے۔ گوگل اس بارے میں خاموش ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے دوران صرف برطانیہ میں ساڑھے سات لاکھ پالتو جانوروں کو ان کے مالکوں نے خوراک کی قلت اور خوف کے سبب زہر دے کر خود مار دیا۔ یہ جانور نہ تو بائیں بازو کے تھے، نہ دائیں بازو کے۔ نہ سوشلسٹ تھے، نہ کیپیٹلسٹ۔ ان کو کس جرم کی سزا ملی؟
انسان اتنا خودغرض ہے کہ اپنے علاوہ کسی دوسرے کا سوچتا ہی نہیں۔ اتنا ڈرپوک ہے کہ گھر بناتا ہے تو باؤنڈری وال پر کانچ کے ٹکڑے یا خاردار تاریں لگا دیتا ہے۔ چلو دوسرے انسان سے تمہاری دشمنی سمجھ میں آتی ہے۔ (حالانکہ وہ بھی نہیں آتی) مگر ان بے زبانوں کا کیا قصور؟ جن کا مسکن اور زندگیاں برباد کر کے تم اپنے لیے کنکریٹ کا گھر بنا رہے ہو۔ تمہارے ہی گھر میں رہنے والی چھپکلی تمہاری دیوار پر لگے کانچ سے الجھ کر زخمی ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں ہر سال گیارہ ہزار ہیکٹر جنگل انسان کی رہائشی، صنعتی اور کمرشل ضروریات کے لیے اندھا دھند کاٹا جا رہا ہے۔ پینے کے صاف پانی میں صنعتی و زرعی فضلے کا زہر گُھل رہا ہے۔
انسان تو منرل واٹر پی سکتا ہے۔ گلہری کیا کرے؟ اس کو بھی پیاس لگتی ہے اور وہ اس زمین کی حضرتِ آدم سے بہت پہلے کی رہائشی ہے۔ مٹی کے یہ اصل باسی انسان سے بچ کر جائیں تو جائیں کہاں؟ ان کے لیے ہجرت کا مطلب موت ہے۔
اور کیا تم یہ بھی نہیں جانتے کہ آخری پرندے، آخری جانور اور آخری پیڑ سے بہت پہلے تمہارا اپنا نشان مٹ چکا ہو گا۔

