ایران اسرائیل میں جنگ بندی اور جواب طلب سوالات
ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ آج علی الصبح بند ہو گئی۔ حسب معمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کا اعلان کیا۔ حیرت انگیز طور پر صدر ٹرمپ نے اس کا پہلا اشارہ کل رات قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کے بعد دیا۔ اپنے سابقہ اعلان کے برعکس ایران سے ’خوفناک‘ بدلہ لینے کی بجائے انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ اب ایران کا غصہ نکل گیا ہو گا۔ اب امن قائم ہونا چاہیے۔
اس جنگ بندی کے بارے میں تفصیلات بدستور معلوم نہیں ہیں اور شاید عوام کو کبھی بھی ان درپردہ سرگرمیوں کے بارے میں علم نہ ہو سکے جو قطر پر میزائل حملوں اور جنگ بندی کے دوران ہونے والے سفارتی رابطوں میں رونما ہوئیں۔ صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق اسرائیل و ایران نے تقریباً بیک وقت ان سے امن کی خواہش کا اظہار کیا جس کے بعد انہوں نے جنگ بند کرا دی۔ تاہم آسانی سے کہے ہوئے ان الفاظ کے پیچھے گزشتہ دو روز کے دوران سفارتی کوششیں، امریکی حکام کی اسرائیلی وزیر اعظم سے بات چیت اور قطر کے ذریعے ایران کو راضی کرنے کا معاملہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس اور چین کی طرف سے اس تنازعہ کے حوالے سے موصول ہونے والے اشاروں نے بھی یقیناً امریکی صدر کو جنگ بند کرانے پر مجبور کیا ہو گا۔
اتنی بات تو آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے کہ ایران نے نہ تو جنگ شروع کی تھی اور نہ ہی اس کی طرف سے ’امن کی خواہش‘ ظاہر ہونے پر صدر ٹرمپ سرگرمی سے یہ تنازعہ ختم کرانے میں کوئی کردار ادا کراتے۔ یہ درخواست اسرائیل کی طرف سے آئی ہوگی کہ کسی طرح امریکہ کوئی ایسا انتظام کردے کہ جنگ بندی بھی ہو جائے اور اسے اسرائیل کی ہزیمت بھی نہ سمجھا جائے۔ اس کا اشارہ آج صبح وہائٹ ہاؤس سے ہیگ کے لیے روانگی کے وقت صدر ٹرمپ کے لب و لہجہ سے ہی مل گیا تھا۔ نیٹو کانفرنس میں شریک ہونے ہیگ روانہ ہونے کے لیے ہیلی کاپٹر میں ائر فورس ون کی طرف جاتے ہوئے صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ لیکن اسرائیلی خلاف ورزی شدید ہے اور وہ اس پر بہت خفا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی جاکر نیتن یاہو سے بات کریں گے تاکہ وہ اپنے طیارے اور میزائل روکے اور جنگ بندی پر مکمل عمل کیا جائے۔ ٹرمپ کی اس شدید خفگی سے ہی واضح ہو گیا تھا کہ انہوں نے کس ملک کو بچانے اور کون سے بحران سے بچنے کے لیے جنگ بندی کا اہتمام کیا تھا۔ اسرائیل کی خلاف ورزی سارے کیے کرائے پر پانی پھیر سکتی تھی۔
جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کے لیے حیرت انگیز طور پر قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی نے ایرانی قیادت کو راضی کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حالانکہ چند گھنٹے پہلے ہی ایران نے ان کے ملک میں واقع امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا اور قطر نے سرکاری طور سے اس کی مذمت کرتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کی بات کی تھی۔ تاہم صدر ٹرمپ کی طرح جو اپنے ایک فوجی اڈے پر حملہ کے باوجود چیں بچیں ہونے کی بجائے ایران و اسرائیل کو امن کی دعوت دے رہے تھے، قطری امیر نے بھی اس موقع پر امن کے لیے تاریخی کردار ادا کیا۔ اور ایرانی لیڈروں کو جنگ بندی کے لیے امریکی تجویز مان لینے پر راضی کیا۔ درپردہ ہونے والے ان رابطوں کی کامیابی کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جنگ بندی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’سب کو مبارک ہو۔ اسرائیل و ایران نے جنگ بندی پر مکمل اتفاق کر لیا ہے۔ اب سے 6 گھنٹے بعد جنگ بندی شروع ہو جائے گی۔ ایران پہلے حملے بند کرے گا اور بارہ گھنٹے بعد اسرائیل بھی ایسا ہی کرے گا۔ چوبیس گھنٹے بعد یہ 12 روزہ جنگ مکمل طور سے بند سمجھی جائے گی‘ ۔ اس پیغام میں انہوں نے اسرائیل، ایران، مشرق وسطیٰ، امریکہ و دنیا کے لیے زندہ باد لکھنے کے علاوہ یہ بھی واضح کیا کہ ’یہ خطرناک تنازعہ جاری رہتا تو سالوں پر پھیل سکتا تھا اور اس سے پورا مشرق وسطیٰ تباہ ہو سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی ایسا ہو گا‘ ۔
جنگ بندی سے ایک روز پہلے تک اسرائیل کے علاوہ امریکی صدر نے بھی تہران میں حکومت تبدیلی کی بات کی تھی۔ اسرائیل نے تو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا ہوا تھا۔ اس کا اشارہ گزشتہ ہفتے کے دوران صدر ٹرمپ نے اپنے ایک پیغام میں بھی کیا تھا۔ تاہم حالات نے جو کروٹ لی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل آیت اللہ علی خامنہ ای کو ہلاک کرنے کے لیے کوئی حملہ منظم کرنے میں ناکام رہا۔ اسی طرح تمام تر کوششوں کے باوجود ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے حالات ہموار نہیں ہو سکے۔ یہ حقیقت تو پہلے سے ہی عیاں تھی کی اسرائیل ایران کے ساتھ طویل جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ خاص طور سے ایسی صورت میں جب ایران نے اس تنازعہ کے دوران بلاسٹک میزائلوں سے اسرائیل پر حملے جاری رکھے۔ اسرائیل اپنے موثر دفاعی نظام کے باوجود تمام میزائل نہیں روک سکا اور اسے روزانہ کی بنیاد پر نقصان اٹھانا پڑا۔ اسرائیلی حکومت غیر معینہ مدت تک ان حالات کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ ایک طرف اسرائیلی عوام میں خوف گہرا ہو رہا تھا، دوسری طرف چھوٹے سے اسرائیل کا انفرا اسٹرکچر اور دفاعی تنصیبات تباہ ہو رہی تھیں۔ اسرائیلی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے کوئی میڈیا اسرائیل میں ہونے والی تباہ کاری کی معلومات فراہم نہیں کر سکتا۔ اس لیے نقصان کے بارے میں فوری طور سے اندازہ کرنا ممکن نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ جنگ شروع تو ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے کی تھی لیکن جنگ کے دوران نیتن یاہو نے بلاسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کے علاوہ تہران میں حکومت تبدیلی کو جنگ کے اہداف میں شامل کر لیا۔ لیکن ان تینوں میں سے اسرائیل یا امریکہ کوئی ہدف بھی حاصل نہیں کرسکے۔ اگرچہ امریکہ نے بھی ہفتہ کے روز بی 2 بمبار طیاروں سے ایرانی جوہری تنصیبات پر 30 ہزار پاؤنڈ وزنی بنکر بسٹر بم پھینک کر ان تنصیبات کو نیست و نابود کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن ماہرین ان دعوؤں کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہی قیاس کیا جا رہا ہے کہ ایرانی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی مختصر مدت میں ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے ساٹھ فیصد افزودہ 400 کلو یورینیم کسی خفیہ مقام پر محفوظ کر لیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ مستقبل میں ایران اپنی جوہری پالیسی کیسے متعین کرتا ہے۔
بلاسٹک میزائل کی صلاحیت ختم کرنے کا اسرائیلی خواب بھی پورا نہیں ہوا۔ ایران اس بارے میں کسی قسم کی کوئی مفاہمت کرنے سے انکار کرچکا ہے۔ ایران نے آخری وقت تک اسرائیل پر بلاسٹک میزائل پھینکے اور نقصان پہنچایا۔ کسی کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے پاس ایسے میزائلوں کا کتنا ذخیرہ تھا یا میزائل بنانے کی کتنی صلاحیت باقی تھی۔ تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران اسرائیلی حکومت اور واشنگٹن سے سامنے آنے والے اشاروں میں حکومت تبدیلی کے آپشن پر بات کی جاتی رہی ہے۔ دونوں ملک یہ مقصد حاصل کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ تہران میں حکومت بدستور کام کر رہی ہے اور آیت اللہ علی خامنہ ای ہی اس کے سپریم لیڈر ہیں۔ کوئی ہدف حاصل کیے بغیر ہونے والی جنگ بندی کے بعد حملہ کرنے والی طاقت ہی کو ناکام کہنا پڑے گا۔ لیکن جنگ کی تباہ کاری اور انسانی جانوں کے ضیاع کی وجہ سے جنگ کو کبھی کامیابی ناکامی سے جانچنا آسان نہیں ہوتا۔ اسے اہداف کے حصول یا ان میں ناکامی ہی کے ذریعے پرکھا جاسکتا ہے۔ اس مقصد میں اسرائیل بری طرح ناکام ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کی طرف سے مسلسل حملوں کے سبب یہ تاثر بھی زائل ہو گیا ہے کہ اسرائیل ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل جیسے جنگ بندی پر مجبور ہوا ہے، اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ تن تنہا طویل جنگ کی اہلیت نہیں رکھتا تھا اور صدر ٹرمپ نے فوردو اور دیگر ایرانی تنصیبات پر بمباری کرنے کے باوجود، اس جنگ میں اسرائیل کا مزید ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد جنگ بندی ہی واحد باعزت آپشن تھا۔
ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت بند ہونا ایک خوشگوار واقعہ ہے لیکن بدقسمتی سے امریکہ نے اس جنگ کو شروع کرانے، طول دینے اور بند کرانے میں جو کردار ادا کیا ہے، اس سے اقوام متحدہ کی اہمیت و کردار ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران سلامتی کونسل نے اسرائیل ایران جنگ پر غور کیا اور اسے بند کرنے کے لیے قرار داد بھی پیش کی گئی لیکن امریکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس پر رائے دہی نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ اگر چاہتے تو وہ جس جنگ بندی کا سہرا اپنے سر باندھ رہے ہیں، اس کی قرار داد سلامتی کونسل میں منظور کرا کے عالمی ادارے کو اس کا کریڈٹ دے سکتے تھے۔ لیکن یہ اعلان کرنے کے باوجود کہ ’مجھے تو نوبل امن انعام نہیں ملے گا‘ صدر ٹرمپ اب تک خود کو امن کا سفیر ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ کسی طرح انہیں نوبل انعام مل جائے۔
جنگ بندی کے بعد متعدد سوال جواب طلب ہیں۔ اول تو یہی کہ تہران کی حکومت اب کیا پالیسی اختیار کرے گی۔ کیا ایران میں مذہبی راہنماؤں کی حکومت سخت گیر رویہ اختیار کرے گی یا عوام کو کچھ حقوق دینے کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ اس کے علاوہ سب سے اہم سوال ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ہے۔ ہیگ پہنچنے پر اخبار نویسوں سے باتیں کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو عظیم تاجر قوم قرار دیا اور واضح کیا کہ وہ کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن ایٹمی ہتھیار نہیں بنا سکتا۔ ایران کی ابھی تک یہی پوزیشن رہی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا لیکن پر امن مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کے حق سے دست بردار نہیں ہو گا۔
متعدد تجزیہ نگار قیاس کرتے ہیں کہ ایران، براہ راست اسرائیل کی جارحیت کا سامنا کرنے کے بعد یہ ضرور سوچے گا کہ اگر اس کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو شاید اسے ایسی جارحیت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ اس صورت میں ایران مستقبل قریب میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے نکل سکتا ہے اور عالمی اٹامک انرجی ایجنسی کو اپنی تنصیبات کا معائنہ کرانے سے انکار کر سکتا ہے۔ گو ایسے اقدامات ایران کو مزید تنہا کریں گے اور مشرق وسطی میں تناؤ اور کشیدگی میں اضافہ کا سبب بنیں گے۔


