ایک اور جنگ اور پاکستان!
آج امریکا بہادر نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے اس بات کا بخوبی احساس دلایا ہے کہ امریکہ کسی بین الاقوامی قانون یا فورم کی کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ اپنے مفادات کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ تمام قوانین اور اصول صرف باقی دنیا کے لیے ہیں، جبکہ امریکہ خود کو ان سے مبرا سمجھتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں ایران کی طرف سے دفاعی کامیابیوں نے امریکہ کو شدید پریشان کیا ہے، کیونکہ وہ اسرائیل کی مکمل پشت پناہی کرتا ہے۔ کل ہی امریکی صدر نے اعتراف کیا تھا کہ اسرائیل اکیلا ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ نہیں کر سکتا، اور آج امریکہ نے یہ حملہ کر کے حقیقت میں اس کا عملی مظاہرہ کر دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے استنبول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اب تمام تر ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کل ایرانی وزیر خارجہ کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے اہم ملاقات متوقع ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا روس، جو یوکرین کے معاملے میں امریکی مداخلت سے نالاں ہے، اب اس اقدام کو امریکہ سے بدلہ لینے کا موقع سمجھے گا؟ امریکہ تو دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے، لیکن امن کیسے ممکن ہے جب وہ خود بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑا کر کسی خودمختار ملک پر حملہ آور ہو رہا ہے؟
ایران پر حملے کے بعد یہ قیاس آرائیاں بھی جنم لے رہی ہیں کہ کیا ایران جوابی کارروائی کرے گا؟ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ یہ جنگ اب مشرق وسطیٰ میں مزید پھیلتی جا رہی ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں پاکستان ایک نازک مقام پر کھڑا ہو گیا ہے۔ کچھ گھنٹوں قبل ہی پاکستان نے امریکی صدر کے لیے نوبل امن انعام کی سفارش کی تھی، اور اب امریکہ نے ایران پر حملہ کر کے تمام امن دعوؤں کی نفی کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اب یہ سفارش واپس لے گا؟ اور اگر لے گا تو کیسے، کیونکہ امریکی صدر حال ہی میں پاکستان کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو اعزاز سے نواز چکے ہیں۔
اگر اس بڑھتی ہوئی جنگ میں امریکہ پاکستان سے کسی قسم کی مدد مانگ لیتا ہے، چاہے وہ فضائی ہو، زمینی ہو یا انٹیلی جنس شیئرنگ، تو پاکستان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو گا۔ امریکہ کا ساتھ دینا ایران کی ناراضی اور چین جیسے اہم اتحادی سے تعلقات میں کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ اپنے برادر اسلامی ملک ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات کرتا آیا ہے۔ دوسری طرف بھارت جیسا مکار دشمن بھی ہر وقت پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتا ہے۔ افغانستان کی صورتحال بھی پیچیدہ ہے، جہاں سے طالبان کی جانب سے پاکستان میں حالیہ برسوں میں دہشت گردانہ کارروائیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔ بلوچستان میں دشمن قوتیں مسلسل بزدلانہ حرکات میں مصروف ہیں۔
ان بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اندرونی سیاسی عدم استحکام کا بھی سامنا ہے۔ ان تمام مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی قیادت یک زبان ہو۔ صرف اسی صورت میں ہم بیرونی دشمن کا موثر انداز میں سامنا کر سکتے ہیں، جب اندرونی محاذ پر ہم پرامن اور مستحکم ہوں۔


